26

*مسئلہ تقدیر اور انسانی اختیار: جبرِ محض کی حقیقت اور قرآنی مینوفیسٹو* ہفتہ 11 جولائی 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک، سرگودھا

*مسئلہ تقدیر اور انسانی اختیار: جبرِ محض کی حقیقت اور قرآنی مینوفیسٹو*

ہفتہ 11 جولائی 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک، سرگودھا

ہمارے معاشرے میں عقائد کی ایک بہت بڑی خرابی یہ پیدا ہو چکی ہے کہ لوگ اپنی سستی، غفلت، کوتاہیوں اور یہاں تک کہ گناہوں کا ملبہ بھی تقدیر اور “اللہ کی مرضی” پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیتے ہیں۔ ایک عام تاثر یہ پھیلا دیا گیا ہے کہ انسان بالکل بے بس ہے اور جو کچھ بھی (برا یا بھلا) کائنات میں ہو رہا ہے، وہ اللہ ہی ہم سے زبردستی کروا رہا ہے۔ یہ عقیدہ نہ صرف قرآنی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ انسانی عقل، عدلِ الٰہی اور شریعت کے پورے نظامِ جزا و سزا کو معطل کر کے رکھ دیتا ہے۔

اگر انسان اپنے اعمال میں بالکل مجبورِ محض ہوتا، تو پھر چور کو سزا دینا، زانی پر حد لگانا، اور نیکوکار کو جنت کی خوشخبری دینا سراسر ناانصافی ہوتا (نعوذ باللہ)۔
اللہ تعالیٰ عادل ہے، اور اس کا عدل یہ تقاضا کرتا ہے کہ سزا اور جزا صرف اسی عمل پر ہو جو انسان نے اپنے اختیار سے چنا ہو۔

ذیل میں قرآنِ کریم، احادیثِ مبارکہ اور آثارِ صحابہ کی روشنی میں اس عقیدے کی اصل حقیقت اور درست اسلامی موقف کو تفصیل سے واضح کیا جا رہا ہے تاکہ عوام الناس کی اصلاح کی جا سکے۔

1۔ اللہ کی مشیئت (اجازت) اور رضا (پسند) میں فرق
اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے سب سے بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کی دو قسمیں ہیں، جنہیں عام لوگ مکس کر دیتے ہیں:
پہلی قسم تکوینی مرضی یا مشیئت (قانونِ قدرت) ہے۔ اس کائنات میں کوئی بھی کام اللہ کے علم، اس کی قدرت اور اس کی دی ہوئی طاقت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اگر ایک شخص چوری کرنے کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہے، تو اس کے ہاتھ میں حرکت کرنے کی طاقت اللہ ہی کی دی ہوئی ہے۔ اگر اللہ اسی وقت اس کا ہاتھ شل (بے جان) کر دے تو وہ چوری نہیں کر سکتا۔ لیکن اللہ نے چونکہ انسان کو آزمائش میں ڈالا ہے، اس لیے وہ انسان کو اپنے اختیار کا استعمال کرنے کی اجازت (مشیئت) دے دیتا ہے۔
دوسری قسم تشریعی مرضی یا رضا (پسندیدگی اور حکم) ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو طاقت دینے کے ساتھ ساتھ نیکی اور بدی کا فرق بھی سمجھا دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ نیکی کو اختیار کرو اور بدی سے بچو۔ اب اگر انسان اپنی مرضی سے چوری یا زنا کا انتخاب کرتا ہے، تو یہ عمل اللہ کی مشیئت (طاقت و قانونِ قدرت) کے تحت تو ہوا، لیکن یہ اللہ کے حکم اور اس کی رضا (پسند) کے مطابق ہرگز نہیں ہے۔ اللہ برائی سے ناراض ہوتا ہے اور اس پر سزا کا قانون رکھتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ کائنات میں ہر چیز اللہ کی قدرت اور اِذن سے ہوتی ہے، لیکن ہر عمل اللہ کے حکم اور رضا سے نہیں ہوتا۔

2۔ قرآنِ مجید کی روشنی میں انسانی اختیار کا ثبوت
قرآنِ کریم نے جگہ جگہ اس گمراہ کن نظریے کی تردید کی ہے کہ انسان مجبور ہے یا اللہ برائی کا حکم دیتا ہے۔

سورۃ النساء، آیت 79 میں اللہ تعالیٰ کا واشگاف ارشاد ہے:
“ما أصابك من حسنة فمن الله وما أصابك من سيئة فمن نفسك”
ترجمہ: تو تمہیں جو کوئی بھلائی پہنچتی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو کوئی برائی پہنچتی ہے وہ تیرے اپنے نفس کی طرف سے (یعنی تمہاری اپنی غلطی کی وجہ سے) ہے۔

سورۃ الشورٰی، آیت 30 میں مصائب اور حادثات کا ذمہ دار انسان کی اپنی کوتاہی کو ٹھہرایا گیا ہے:

“وما أصابكم من مصيبة فبما كسبت أيديكم ويعفو عن كثير”
ترجمہ: اور تمہیں جو کوئی مصیبت پہنچتی ہے، وہ تمہارے اپنے ہی ہاتھوں کے کیے ہوئے کاموں کی وجہ سے پہنچتی ہے، اور وہ بہت سی باتوں سے درگزر بھی فرما دیتا ہے۔

اگر ایک شخص موبائل فون پر بات کرتے ہوئے، یا موٹر سائیکل کے بریک ٹھیک کروائے بغیر تیز رفتاری سے حادثہ کر بیٹھتا ہے اور ٹانگ تڑوا لیتا ہے، تو یہ کہنا کہ “اللہ کی مرضی تھی” سراسر جہالت ہے۔ اللہ نے ٹانگیں توڑنے کا حکم نہیں دیا تھا، بلکہ یہ انسان کی اپنی غفلت کا نتیجہ ہے۔

سورۃ الاعراف، آیت 28 میں اللہ تعالیٰ برائی کی نسبت اپنی طرف کرنے والوں کی سخت مذمت فرماتا ہے:

“وإذا فعلوا فاحشة قالوا وجدنا عليها آباءنا والله أمرنا بها قل إن الله لا يأمر بالفحشاء أتقولون على الله ما لا تعلمون”
ترجمہ: اور جب وہ کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی پر پایا ہے اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے۔ آپ فرما دیجیے: بے شک اللہ بے حیائی (اور برائی) کا حکم نہیں دیتا۔ کیا تم اللہ پر وہ باتیں جوڑتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں؟

اللہ تعالیٰ نے انسان کو روبوٹ نہیں بنایا، بلکہ اسے راستے چننے کی مکمل آزادی دی ہے، جیسا کہ سورۃ الدھر، آیت 3 میں فرمایا:

“إنا هديناه السبيل إما شاكرا وإما كفورا”
ترجمہ: بے شک ہم نے اسے (حق کا) راستہ دکھا دیا، اب خواہ وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا۔

اسی طرح سورۃ البقرۃ، آیت 286 میں جزا و سزا کا قانون واضح کیا گیا:

“لها ما كسبت وعليها ما اكتسبت”
ترجمہ: انسان کے لیے وہی (ثواب) ہے جو اس نے کمایا اور اسی پر وہ (وبال) ہے جو اس نے کیا۔

3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں عمل اور اسباب کی اہمیت

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زبانِ مبارک اور اپنے عمل سے امت کو یہی سکھایا کہ مادی دنیا میں اسباب اختیار کرنا اور خطرات سے بچنا انسان کا فرض ہے۔

صحیح مسلم کی مشہور حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو تہجد کے وقت دعا میں یہ الفاظ فرماتے تھے:

“والخير كله في يديك، والشر ليس إليك”
ترجمہ: اور تمام کی تمام خیر تیرے دونوں ہاتھوں میں ہے، اور شر کی نسبت تیری طرف نہیں کی جا سکتی (یعنی تو شر سے راضی نہیں ہے)۔

جامع ترمذی کی روایت ہے کہ ایک بدو نے آپ ﷺ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ کیا میں اپنے اونٹ کو اللہ کے بھروسے پر کھلا چھوڑ دوں یا اسے باندھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:
“اعقلها وتوكل”
ترجمہ: پہلے اسے رسی سے باندھو، پھر اللہ پر توکل کرو۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ نے اونٹ کے بھاگ جانے کا ایک طبعی قانون بنایا ہے، اس قانون سے بچنے کے لیے رسی باندھنا انسان کی ذمہ داری ہے۔ اگر وہ رسی نہیں باندھتا اور اونٹ بھاگ جاتا ہے، تو یہ اس کی اپنی حماقت ہے، تقدیر کا فیصلہ نہیں۔
غزوۂ احد کے موقع پر کائنات کی سب سے مقدس اور مستجاب الدعوات شخصیت، جنابِ محمد رسول اللہ ﷺ نے جنگ کی پوری مادی تدبیر فرمائی، پہاڑ پر تیر اندازوں کا دستہ مقرر کیا اور حفاظت کے لیے ایک کے اوپر دوسری زرہ (Double Armor) پہنی۔ اگر سب کچھ گھر بیٹھے تقدیر سے ہی ہونا ہوتا تو آپ ﷺ زرہ نہ پہنتے۔ آپ ﷺ نے عمل کر کے بتایا کہ “خنجر تیز رکھنا” انسان کا کام ہے، پھر نتیجے کو اللہ کے سپرد کرنا توکل ہے۔
صحیح بخاری و مسلم کی روایت ہے کہ جب صحابہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! اگر سب کچھ پہلے سے لکھا ہوا ہے تو پھر ہم عمل کیوں کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:

“اعملوا فكل ميسر لما خلق له”
ترجمہ: عمل کرتے رہو! کیونکہ ہر شخص کے لیے اس عمل کو آسان کر دیا جاتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔ (یعنی جو نیکی کا راستہ چنے گا، اللہ اس کے لیے نیکی آسان کر دے گا)۔

4۔ آثارِ صحابہ اور خلفائے راشدین کا طرزِ عمل
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عقیدہ اس معاملے میں بالکل صاف تھا کہ اپنی کوتاہی کو تقدیر کا نام نہیں دیا جا سکتا۔

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کا ایک واقعہ اس ضمن میں بہترین دلیل ہے۔ آپ کی عدالت میں ایک چور پیش کیا گیا جس کا جرم ثابت ہو چکا تھا۔ جب سزا کے طور پر ہاتھ کاٹنے کا وقت آیا، تو اس چور نے چالاکی کرتے ہوئے کہا: “اے امیر المومنین! ٹھہریے، میں نے یہ چوری اللہ کی تقدیر سے کی ہے (یعنی اللہ کی مرضی تھی تو ہوئی)”۔

حضرت عمر فاروق نے مسکرا کر فرمایا: “ونحن نقطع يدك بقدر الله” یعنی “اور ہم بھی تیرا ہاتھ اللہ ہی کی تقدیر سے کاٹ رہے ہیں”۔ پھر آپ نے اس کی فکری غلطی کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ تجھے چوری کرنے پر اللہ نے مجبور نہیں کیا تھا، تو نے اپنے اختیار سے چوری کا شر چنا، اور شریعت کے قانون کے تحت تجھے اس کا ردِعمل بھگتنا ہوگا۔

اسی طرح جب شام کے علاقے میں طاعون کی وبا پھیلی، تو حضرت عمر فاروق نے وہاں جانے کا ارادہ ترک کر کے مدینہ واپس مڑنے کا فیصلہ کیا۔ حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے حیرت سے پوچھا:
“کیا آپ اللہ کی تقدیر سے بھاگ رہے ہیں؟” تو حضرت عمر فاروق نے تاریخی جواب دیا: “نفر من قدر الله إلى قدر الله” یعنی “جی ہاں! ہم اللہ کی ایک تقدیر (وباء والے علاقے میں جا کر بیمار ہونے کے قانون) سے بچ کر اللہ ہی کی دوسری تقدیر (حفاظتی تدابیر اختیار کر کے محفوظ رہنے کے قانون) کی طرف جا رہے ہیں”۔

5۔ ایمانِ مفصل کے الفاظ کا صحیح مفہوم:

عوام میں یہ مغالطہ ایمانِ مفصل کے ان الفاظ سے پیدا ہوتا ہے: “والقدر خيره وشره من الله تعالى” (اور اچھی اور بری تقدیر اللہ کی طرف سے ہے)۔
علماء و محققین نے اس کی وضاحت فرمائی ہے کہ کائنات میں خیر اور شر کا “خالق” (پیدا کرنے والا) تو اللہ ہے، کیونکہ کائنات کی کسی مادی چیز کو عدم سے وجود میں لانے کی طاقت انسان کے پاس نہیں ہے۔ لیکن اس شر کا “فاعل” (کرنے والا)، اس کا ارادہ کرنے والا اور اس کا انتخاب کرنے والا انسان خود ہے۔
اس کو یوں سمجھیں کہ اللہ نے کائنات کا ایک قانون (سائنس کا نظام) بنایا ہے کہ اگر تیز دھار آلہ جسم پر لگے گا تو کٹ لگے گا۔ اب اس آلے سے کسی معصوم کا گلا کاٹنا ہے یا کسی مریض کا آپریشن کر کے اس کی جان بچانی ہے، یہ فیصلہ انسان کا اپنا ہوتا ہے۔ چاقو چلانے کی طاقت اللہ کی پیدا کردہ ہے (خالق اللہ ہے)، لیکن اس طاقت کا غلط استعمال انسان کا اپنا گناہ ہے (فاعل انسان ہے)۔

حاصلِ کلام اور درست عقیدہ:
اس پوری علمی بحث کا نچوڑ اور اسلام کا متحرک عقیدہ درج ذیل تین نکات پر مشتمل ہے:

اول: انسان پتھر، درخت یا روبوٹ نہیں ہے کہ جس طرف ہوا چلے وہیں اڑ جائے۔ اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے، اسے عقل، علم اور “اختیارِ ناتمام” (Free Will) دیا ہے۔ اچھائی اور برائی کے راستے واضح کر دیے ہیں۔ اب چوری، زنا یا ظلم کرنا انسان کا اپنا ذاتی فیصلہ ہوتا ہے، اللہ کا حکم نہیں۔

دوم: کائنات کا قانون مکافاتِ عمل پر قائم ہے۔ “جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے” ہی قدرت کا اصول ہے۔ اپنی سستی، نافرمانی اور غفلت کے طبعی نتائج کو مقدر کا نام دینا نری جہالت اور علم و عقل دونوں کے خلاف ہے۔

سوم: مقدر یا توکل کا اصل مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی عقل، علم اور شریعت کے مطابق اپنے حصے کی پوری محنت کرے، خطرات سے بچے، حفاظتی تدابیر اختیار کرے (اپنا خنجر تیز رکھے)، اور اس کے بعد جو نتیجہ نکلے، اسے اللہ کی رضا سمجھ کر قبول کرے اور صبر یا شکر کرے۔
جامد تقدیر پرستی (سب کچھ اللہ پر چھوڑ کر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ جانا) نے مسلمانوں کو سستی اور پسماندگی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ اسلام ایک متحرک اور عمل پسند دین ہے جو انسان کو اپنے ہر عمل کا خود ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔
ہمیں اپنے حلقۂ احباب اور معاشرے میں اسی قرآنی اور حقیقی عقیدے کی ترویج کرنی چاہیے تاکہ لوگ اپنے اعمال کی ذمہ داری خود قبول کریں اور اصلاحِ احوال کی طرف راغب ہوں۔

مقدر کا یہ مطلب ہے
کہ خنجر تیز رکھ اپنا
پھر اس کی تیزی کو
مقدر کے حوالے کر

وما علینا الا البلاغ المبین

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں