*موت کا وقت اور جگہ بالکل متعین ہے اور اس میں رتی برابر بھی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔*
پیر 20 جولائی 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
قرآنِ کریم کی روشنی میں
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر بیان فرمایا ہے کہ ہر انسان کی موت کا ایک وقت طے ہے۔
سورہ الاعراف میں ارشاد ہے کہ اور ہر امت کے لیے ایک وقت مقرر ہے، پس جب ان کا وہ وقت آ جاتا ہے تو وہ ایک گھڑی نہ پیچھے ہو سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔
انسان کس جگہ مرے گا، یہ بھی پہلے سے طے شدہ ہے۔ سورہ لقمان میں اللہ کا فرمان ہے کہ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین پر مرے گا۔
بیشک اللہ سب کچھ جاننے والا، باخبر ہے۔
اگر موت کا وقت آ جائے تو انسان دنیا کے کسی بھی کونے میں چھپ جائے، موت اسے ڈھونڈ لیتی ہے۔ سورہ النساء میں فرمایا کہ تم جہاں کہیں بھی ہو، موت تمہیں پا لے گی، خواہ تم مضبوط قلعوں میں ہی کیوں نہ ہو۔
احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں
احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی پیدائش سے بھی پہلے اس کی زندگی کا دورانیہ لکھ دیا جاتا ہے۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی مشہور روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو بھیجتا ہے جو چار باتیں لکھتا ہے: اس کا رزق، اس کا عمل، اس کی موت کا وقت اور یہ کہ وہ نیک ہے یا بد۔
جامع ترمذی کی ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی وضاحت فرمائی کہ انسان مقررہ جگہ پر کیسے پہنچتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی موت کسی خاص زمین پر مقدر فرما دیتا ہے، تو اس بندے کے دل میں وہاں جانے کی کوئی نہ کوئی حاجت یا ضرورت ڈال دیتا ہے (تاکہ وہ وہاں پہنچے اور اس کی روح قبض کی جائے)۔
آثارِ صحابہ رضی اللہ عنہم کی روشنی میں
صحابہ کرام کا عقیدہ تقدیر پر کامل یقین تھا اور وہ جانتے تھے کہ موت کا وقت مقرر ہے۔
امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا ایک معروف قول ہے کہ میں موت کے دو دنوں میں سے کس دن جنگ سے بھاگوں؟ اس دن جس دن موت میری تقدیر میں نہیں ہے، یا اس دن جس دن موت میری تقدیر میں لکھی جا چکی ہے؟ جس دن موت مقدر نہیں، اس دن دنیا کی کوئی طاقت مجھے نقصان نہیں پہنچا سکتی، اور جس دن موت مقدر ہے، اس دن کوئی تدبیر مجھے بچا نہیں سکتی۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ موت ایک طے شدہ حقیقت ہے، اور انسان کی ہر سانس اسے اس کے مقررہ وقت کی طرف لے جا رہی ہے۔
خلاصہ
اسلامی عقیدے کے مطابق، موت کا وقت (کب مرنا ہے) اور موت کا مقام (کہاں مرنا ہے) لوحِ محفوظ میں پہلے دن سے درج ہے۔ انسان کی تدابیر، علاج یا احتیاط صرف دنیاوی اسباب ہیں، لیکن موت اسی سیکنڈ اور اسی جگہ آئے گی جو اللہ کے علم میں پہلے سے طے ہے۔
الدعاَء
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایمان پر استقامت اور خاتمہ بالخیر نصیب فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 00923008604333