804

سکھر بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی سکھر: ڈہرکی کی رہائشی 14 سالہ نینگری سائرہ سومرو کی بازیابی کے لیے اس کی والدہ حسینہ اور والد فتح محمد سومرو سمیت رشتہ داروں نے سندھ ہائی کورٹ بینچ سکھر کے باہر احتجاج کیا۔

سکھر بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی
سکھر: ڈہرکی کی رہائشی 14 سالہ نینگری سائرہ سومرو کی بازیابی کے لیے اس کی والدہ حسینہ اور والد فتح محمد سومرو سمیت رشتہ داروں نے سندھ ہائی کورٹ بینچ سکھر کے باہر احتجاج کیا۔

اس موقع پر شہید دودو سومرو ویلفیئر آرگنائزیشن کے نظام الدین سومرو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سائرہ کی والدہ نے وکیل الہورايو سومرو کے ذریعے سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں بازیابی کی درخواست دائر کی ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اڑھائی سال قبل 11 سالہ بچی سائرہ کو بھرچونڈی پیر کے حویلی میں “سام” (زکوة نما روایتی معاوضہ) کے طور پر رکھا گیا، اور گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے بچی سے ملاقات بھی نہیں کرائی جا رہی، جس پر خدشہ ہے کہ اسے جانی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔

والدین نے پہلے ڈہرکی کی عدالت میں درخواست دائر کی جس پر مرکزی ملزمان گرفتار ہوئے، تاہم بعد ازاں عدالت نے ان کی درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئے رہا کر دیا۔ اس کے بعد سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں آئینی رٹ پٹیشن دائر کی گئی۔

درخواست گزاروں کے مطابق بااثر بھرچونڈی پیر میاں ارسلان، میاں عارف اور دیگر افراد والدین کو خاموش رہنے کے لیے دھمکیاں دے رہے ہیں، جبکہ اطلاع ہے کہ عارف نامی شخص بچی سائرہ کو حویلی سے اغوا کرنے کے بعد غائب کر چکا ہے جس سے اس کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے۔

والدین نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ سائرہ سومرو کو بازیاب کرا کے انصاف فراہم کیا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ سکھر سمیت مختلف پریس کلبوں کے باہر احتجاج کر چکے ہیں مگر پولیس کی جانب سے اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ والدین کے مطابق بچی کی واپسی کے لیے بھرچونڈی پیر کے سامنے منت سماجت بھی کی گئی، لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا جس کے بعد عدالت سے رجوع کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں