ٹوبہ ٹیک سنگھ افضل کھیتران ڈسٹرکٹ بیورو چیف ٹوبہ ٹیک سنگھ*برطانیہ کی سیاست میں پاکستانی نژاد قیادت کا ایک اور اہم سنگِ میل،سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کے صاحبزادے ڈاکٹر انس سرور برطانیہ کے وزیر تجارت مقرر، ہاؤس آف لارڈز کی رکنیت متوقع،نئی ذمہ داری، سیاسی اہمیت، معاشی چیلنجز اور اپوزیشن کے اعتراضات پر ایک جامع تجزیاتی
*برطانیہ کی سیاست میں پاکستانی نژاد شخصیات کا کردار ایک بار پھر نمایاں ہو گیا ہے۔ پاکستان کے سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کے صاحبزادے اور معروف برطانوی سیاست دان ڈاکٹر انس سرور نے برطانیہ کے وزیر تجارت کا اہم عہدہ قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں یہ ذمہ داری برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم کی جانب سے دی گئی، جس کے بعد انہوں نے اسکاٹش پارلیمنٹ کی اپنی ریجنل نشست سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔ڈاکٹر انس سرور کی بطور وزیر تجارت تقرری کو برطانیہ کی نئی حکومت کی معاشی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ وزارت کا عہدہ سنبھالنے کے لیے انہیں جلد ہی ہاؤس آف لارڈز کا رکن بھی نامزد کیا جائے گا، جس کے بعد وہ برطانوی کابینہ میں باقاعدہ طور پر شامل ہو جائیں گے۔ اس طرح وہ عالمی تجارت، سرمایہ کاری، برآمدات اور برطانیہ کی اقتصادی پالیسیوں میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔یہ پیش رفت اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ ڈاکٹر انس سرور صرف دو ماہ قبل ہی اسکاٹش پارلیمنٹ کی ریجنل نشست پر منتخب ہوئے تھے۔ منتخب ہونے کے مختصر عرصے بعد قومی سطح پر اتنی اہم ذمہ داری ملنا ان کی سیاسی صلاحیتوں اور جماعتی اعتماد کا اظہار سمجھا جا رہا ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اینڈی برنہم اس وقت ایک ایسی متحرک، باصلاحیت اور تجربہ کار ٹیم تشکیل دے رہے ہیں جو برطانیہ کو معاشی سست روی، مہنگائی، عالمی تجارتی دباؤ اور سرمایہ کاری کے بحران سے نکالنے میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔ ڈاکٹر انس سرور کو تجارت اور اقتصادی امور میں ان کے تجربے کے باعث اس ٹیم کا اہم ستون تصور کیا جا رہا ہے۔ڈاکٹر انس سرور ماضی میں بھی برطانوی سیاست میں ایک فعال اور مؤثر آواز رہے ہیں۔ وہ سابق وزیراعظم سر کئیر سٹارمر کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے رہے اور کئی مواقع پر ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کر چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ نئی حکومت میں ان کی شمولیت سیاسی حلقوں میں خصوصی دلچسپی کا باعث بنی ہوئی ہے۔ڈاکٹر انس سرور کی وفاقی کابینہ میں شمولیت پاکستانی نژاد برطانوی برادری کے لیے بھی باعثِ فخر سمجھی جا رہی ہے۔ شبانہ محمود کے بعد وہ دوسرے ایسے وفاقی وزیر ہوں گے جن کے والدین کا تعلق پاکستان سے ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ کامیابی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستانی نژاد کمیونٹی برطانیہ کی سیاست، معیشت اور ریاستی اداروں میں مسلسل اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہے۔تاہم اس تقرری کے ساتھ سیاسی تنازع بھی جنم لے چکا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ڈاکٹر انس سرور کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ ڈاکٹر انس سرور ماضی میں ہاؤس آف لارڈز کے خاتمے کے حامی رہے اور اسے غیر منتخب ادارہ قرار دیتے تھے، مگر اب وہ خود اسی ایوان کی رکنیت قبول کر رہے ہیں، جو ان کے سابقہ مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتا۔اسکاٹش اپوزیشن نے طنزیہ ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جس سیاست دان نے ہاؤس آف لارڈز کو ختم کرنے کی وکالت کی، وہ منتخب ہونے کے صرف 76 دن بعد اسی ادارے کا حصہ بننے جا رہا ہے۔ اپوزیشن کے مطابق یہ فیصلہ سیاسی اصولوں اور عوامی مؤقف سے انحراف ہے۔واضح رہے کہ ہاؤس آف لارڈز برطانوی پارلیمنٹ کا ایوانِ بالا ہے، جہاں ارکان عموماً تقرری کے ذریعے شامل کیے جاتے ہیں اور بیشتر ارکان تاحیات اپنی رکنیت برقرار رکھتے ہیں۔ اس ادارے کے اختیارات، اصلاحات اور مستقبل کے حوالے سے برطانوی سیاست میں طویل عرصے سے بحث جاری ہے۔سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق ڈاکٹر انس سرور کی بطور وزیر تجارت تقرری ان کے سیاسی کیریئر کا اہم ترین سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر وہ برطانیہ کی معاشی بحالی، سرمایہ کاری کے فروغ، نئی تجارتی منڈیوں تک رسائی اور عالمی اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے میں کامیاب رہتے ہیں تو یہ نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہوگی بلکہ پاکستانی نژاد برطانوی برادری کے لیے بھی ایک تاریخی اعزاز تصور کی جائے گی۔ دوسری جانب ہاؤس آف لارڈز کی رکنیت قبول کرنے کے فیصلے پر ہونے والی تنقید مستقبل میں ان کے سیاسی سفر کا ایک اہم امتحان بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ برطانوی سیاسی حلقوں کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ ڈاکٹر انس سرور اپنی نئی ذمہ داری میں کس حد تک مؤثر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور حکومت کے معاشی وژن کو عملی جامہ پہنانے میں کیا کردار ادا کرتے ہیں۔*