13

*اسلام میں اقربا پروری ممنوع اور حرام ہے*

*اسلام میں اقربا پروری ممنوع اور حرام ہے*

ہفتہ 18 جولائی 2026
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

اسلام میں اقربا پروری (Nepotism)، یعنی میرٹ اور صلاحیت کو نظر انداز کر کے محض رشتہ داری، دوستی یا تعلق کی بنیاد پر کسی کو عہدہ، نوکری یا مراعات دینا، شرعاً ممنوع اور حرام ہے۔
اسلام کا پورا نظام عدل، انصاف اور امانت داری پر قائم ہے، اور اقربا پروری ان اصولوں کی صریح خلاف ورزی کرتی ہے۔ اس حوالے سے اسلامی تعلیمات کے بنیادی نکات درج ذیل ہیں:
۱۔ عہدے اور نوکریاں ایک امانت ہیں
اسلام کی رو سے کوئی بھی سرکاری، سماجی یا نجی عہدہ ایک امانت ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے:
اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا
بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل لوگوں کے سپرد کرو۔ (سورہ النساء: 58)
جب کوئی شخص کسی نااہل کو رشتہ داری کی بنیاد پر آگے لاتا ہے، تو وہ اس امانت میں خیانت کا مرتکب ہوتا ہے۔
۲۔ رسول اللہ ﷺ کی سخت وعید
احادیث مبارکہ میں اس عمل پر شدید تنبیہ کی گئی ہے:
جس شخص کو مسلمانوں کے کسی معاملے کا نگران (امیر) بنایا گیا، پھر اس نے رشتہ داری کی بنیاد پر کسی کو (کوئی عہدہ) نوازی، تو اس پر اللہ کی لعنت ہے، نہ اس کا فرض قبول ہوگا نہ نفل، یہاں تک کہ وہ جہنم میں داخل ہو جائے۔ (مسند احمد)
ایک اور روایت میں ہے کہ اگر کسی نے جان بوجھ کر کسی ایسے شخص کو عامل (عہدے دار) بنایا جس سے زیادہ لائق اور اہل شخص موجود تھا، تو اس نے اللہ، اس کے رسول اور تمام مسلمانوں سے خیانت کی۔
۳۔ قیامت کی نشانی: نااہلوں کو عہدے ملنا
ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ قیامت کب آئے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا:
جب امانت ضائع کر دی جائے تو قیامت کا انتظار کرو۔ اس نے پوچھا: امانت کیسے ضائع ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جب معاملات (عہدے اور ذمہ داریاں) نااہل لوگوں کے سپرد کر دیے جائیں، تو قیامت کا انتظار کرو۔ (صحیح بخاری)
۴۔ صلہ رحمی اور اقربا پروری میں فرق
بعض لوگ صلہ رحمی (رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک) کو اقربا پروری کے جواز کے طور پر پیش کرتے ہیں، جو کہ غلط ہے۔
صلہ رحمی: اپنے ذاتی مال سے غریب رشتہ داروں کی مالی مدد کرنا، ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا اور ان کے دکھ سکھ میں شریک ہونا ہے۔ یہ کارِ ثواب ہے۔
اقربا پروری: عوامی یا ادارہ جاتی وسائل, نوکریوں اور حقوق میں میرٹ کو پامال کر کے اپنے رشتہ داروں کو فائدہ پہنچانا۔ یہ دوسرے حق داروں کی حق تلفی اور ظلم ہے۔

خلاصہ کلام:
اسلامی شریعت میں میرٹ (صلاحیت و تقویٰ) ہی کسی بھی منصب کا واحد معیار ہے۔ رشتہ داروں کی محبت میں دوسروں کے حقوق غصب کرنا اور نااہلوں کو آگے لانا معاشرتی تباہی کا سبب ہے، اسی لیے اسلام میں اسے حرام اور گناہِ کبیرہ قرار دیا گیا ہے۔

الدعاَء
یا اللہ ہمیں دین کی سمجھ عطا فرما اور اس پر عمل کرنے والا بنا۔

آمین یا رب العالمین

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 00923008604333

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں