*اعمالِ صالحہ کی مقبولیت کا واحد معیار: سنتِ رسول ﷺ*
اتوار 19 جولائی 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
معاشرتی المیہ:
انسانی زندگی کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت میں کامیابی کا حصول ہے، اور اس کامیابی کا واحد راستہ عمل صالح یعنی نیک اعمال ہے۔ تاہم، موجودہ دور میں ایک بڑا معاشرتی المیہ یہ بن چکا ہے کہ لوگوں نے اپنی پسند، خاندانی رسومات، اور خود ساختہ طریقوں کو دین کا حصہ بنا لیا ہے۔ وہ اسے حسن نیت یعنی اچھی نیت کا نام دے کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ مگر شریعت اسلامی کا یہ بنیادی اصول ہے کہ کوئی بھی عمل اس وقت تک بارگاہ الٰہی میں مقبول نہیں ہو سکتا جب تک وہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سانچے میں ڈھلا ہوا نہ ہو۔
قبولیت عمل کی دو بنیادی شرائط:
اسلامی مفسرین اور فقہاء کا اس بات پر اجماع ہے کہ کسی بھی نیک عمل کی قبولیت کے لیے دو شرطوں کا یکجا ہونا لازمی ہے:
1۔ اخلاص نیت:
وہ عمل صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے کیا گیا ہو۔
2۔ متابعت سنت:
وہ عمل اسی طریقے پر کیا گیا ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سکھایا۔
اگر عمل میں اخلاص ہو لیکن سنت کا طریقہ نہ ہو، تو وہ عمل مردود یعنی رد ہے۔ اور اگر طریقہ سنت کا ہو لیکن اخلاص نہ ہو، تو وہ منافقت ہے۔
قرآن کریم کی روشنی میں:
قرآن مجید نے جابجا یہ واضح کیا ہے کہ اللہ کی محبت اور مغفرت کا واحد راستہ اتباع رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔
محبت الٰہی کا معیار:
قرآن کریم میں ارشاد ہے: قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ویغفر لکم ذنوبکم۔
ترجمہ: فرما دیجیے! (اے نبی) اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ (سورہ آل عمران: 31)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ کی محبت کا دعویٰ اس وقت تک سچا نہیں ہو سکتا جب تک اس کے پیچھے سنت نبوی کی پیروی نہ ہو۔
دین میں اپنی مرضی کی ممانعت:
ایک اور مقام پر ارشاد ہے: وما کان لمؤمن ولا مؤمنۃ اذا قضی اللہ ورسولہ امرا ان یکون لہم الخیرۃ من امرہم۔
ترجمہ: اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں، تو ان کے لیے اپنے معاملے میں کوئی اختیار باقی رہے۔ (سورہ الاحزاب: 36)
احادیث مبارکہ کی روشنی میں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت کو غیر مسنون اعمال اور دین میں نئی چیزیں ایجاد کرنے یعنی بدعات سے سختی سے ڈرایا ہے۔
غیر مسنون عمل مردود ہے:
صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی متفق علیہ روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
من احدث فی امرنا ہذا ما لیس فیہ فہو رد۔
ترجمہ: جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ مردود ہے۔ (صحیح بخاری: 2697)
مسلم کی ایک اور روایت میں الفاظ ہیں:
جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا امر یعنی حکم اور طریقہ نہیں ہے، تو وہ مردود ہے۔ یہ حدیث اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ نیک سے نیک کام بھی اگر سنت کے مطابق نہیں ہے تو وہ اللہ کے ہاں قبول نہیں۔
گمراہی سے بچنے کا نسخہ:
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک خطبے میں فرمایا:
فعلیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المہدیین۔۔۔ وایاکم ومحدثات الامور فان کل محدثۃ بدعۃ وکل بدعۃ ضلالۃ۔
ترجمہ: تم پر میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کا طریقہ لازم ہے۔۔۔ اور دین میں نئی باتوں سے بچو، کیونکہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ (سنن ابی داؤد: 4607)
آثار صحابہ اور تابعین کے ارشادات:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سنت نبوی کے معاملے میں اس قدر حساس تھے کہ وہ معمولی سی تبدیلی کو بھی برداشت نہیں کرتے تھے، چاہے بظاہر وہ عمل کتنا ہی اچھا کیوں نہ لگ رہا ہو۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا واقعہ:
سنن دارمی کی صحیح سند کے ساتھ روایت ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ مسجد میں کچھ لوگ حلقے بنا کر بیٹھے ہیں، ان کے ہاتھوں میں کنکریاں ہیں اور ایک شخص کہتا ہے سو بار تکبیر (اللہ اکبر) کہو تو وہ کہتے ہیں، پھر وہ کہتا ہے سو بار لا الہ الا اللہ کہو تو وہ کہتے ہیں۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے اور فرمایا: یہ تم کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! یہ کنکریاں ہیں جن پر ہم تکبیر اور تہلیل گن رہے ہیں۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے تاریخی جملہ فرمایا: تم اپنی برائیاں گن لو، میں ضمانت دیتا ہوں کہ تمہاری نیکیوں میں سے کچھ بھی ضائع نہیں ہوگا۔ افسوس ہے اے امت محمد! تم کتنی جلدی ہلاکت کی طرف جا رہے ہو۔ ابھی تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کثرت سے موجود ہیں، آپ کے کپڑے پرانے نہیں ہوئے، آپ کے برتن نہیں ٹوٹے۔۔۔ کیا تم ایسے راستے پر ہو جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راستے سے زیادہ ہدایت والا ہے یا تم گمراہی کا دروازہ کھولنے والے ہو۔
انہوں نے عرض کیا:
اللہ کی قسم! اے ابو عبدالرحمن، ہمارا ارادہ صرف خیر یعنی بھلائی کا تھا۔ تو آپ نے فرمایا:
وکم من مرید للخیر لن یصیبہ۔ ترجمہ:
اور کثرت سے خیر کا ارادہ کرنے والے ایسے ہیں، جو خیر کو پا نہیں سکتے (جب تک طریقہ صحیح نہ ہو)۔ (سنن دارمی: 210)
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کا اثر:
ایک شخص کو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس چھینک آئی، تو اس نے کہا: الحمد للہ والسلام علی رسول اللہ (سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور رسول اللہ پر سلام ہو)۔
ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فوراً ٹوکا اور فرمایا: میں بھی الحمد للہ کہتا ہوں اور رسول اللہ پر سلام بھیجتا ہوں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں چھینک کے وقت اس طرح سکھایا نہیں ہے، آپ نے ہمیں صرف الحمد للہ کہنا سکھایا ہے۔ (جامع ترمذی: 2738)
غور کیجیے کہ درود شریف پڑھنا بذات خود عظیم نیکی ہے، مگر چونکہ اس کا محل اور وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہیں تھا، اس لیے صحابی رسول نے اسے غیر مسنون ہونے کی وجہ سے ناپسند فرمایا۔
معاشرتی اصلاح اور ہمارا رویہ:
آج ہمارے معاشرے میں عبادات کو ایک رسم بنا دیا گیا ہے۔ لوگ رواج کو دیکھتے ہیں سنت کو نہیں۔
1۔ نیت کا دھوکہ:
جب کسی کو ٹوکا جائے کہ بھائی! یہ طریقہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہیں، تو جواب ملتا ہے کہ ہم کوئی برا کام تو نہیں کر رہے، نیت تو اچھی ہے!۔ اوپر مذکور صحابہ کے آثار نے واضح کر دیا کہ صرف اچھی نیت کافی نہیں، عمل کا مسنون ہونا شرط ہے۔
2۔ مستند علم کا فقدان: معاشرے میں غیر مسنون اعمال کو پھیلانے میں ان خطباء کا بڑا ہاتھ ہے جو منبر پر بیٹھ کر مستند احادیث کے بجائے ضعیف، موضوع یعنی من گھڑت روایات اور خود ساختہ قصے کہانیاں سناتے ہیں۔
3۔ اتباع سنت کا فقدان: ہماری شادیاں، غمی کے طریقے، تعزیتی رسومات، اور یہاں تک کہ مساجد کے اندر کے بہت سے اعمال خالصتاً رواج پر مبنی ہو چکے ہیں، جن کا سنت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔
حاصل کلام:
معاشرے کی حقیقی اصلاح اسی وقت ممکن ہے جب ہر مسلمان کا یہ پختہ نظریہ ہو کہ دین میں وہی عمل معتبر ہے جس کی سند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام سے ملتی ہو۔ جب تک ہمارا معاشرہ نماز ویسے پڑھو جیسے مجھے پڑھتے دیکھا اور اپنے مناسک مجھ سے سیکھ لو کے نبوی اصول پر نہیں آتا، اس وقت تک اعمال کی قبولیت ممکن نہیں۔ غیر مسنون اعمال معاشرے میں تفرقہ اور بدعت کو جنم دیتے ہیں، جبکہ سنت رسول پر جمع ہونا امت کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے۔
الدعاء
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر عمل میں سنت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تلاش کرنے، اس پر عمل کرنے اور غیر مسنون طریقوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 00923008604333