12

تعلیم یافتہ مگر بے کردار؟ تعلیم اور تربیت کا بچھڑتا ہوا رشتہ از قلم: فیصل جنجوعہ

تعلیم یافتہ مگر بے کردار؟
تعلیم اور تربیت کا بچھڑتا ہوا رشتہ

از قلم: فیصل جنجوعہ

آج ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں تعلیمی اداروں کی تعداد بڑھ رہی ہے، ڈگریاں عام ہو رہی ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انسانیت، اخلاق اور کردار تیزی سے کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہماری تعلیم میں ایسی کون سی کمی رہ گئی ہے کہ علم تو بڑھ رہا ہے مگر انسانیت سکڑ رہی ہے؟ ہم نے تعلیم کا مقصد صرف اچھی نوکری، زیادہ تنخواہ اور اعلیٰ عہدہ حاصل کرنا سمجھ لیا ہے، جبکہ تربیت، کردار سازی اور اخلاقی اقدار کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ معاشرے میں ایسے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود جھوٹ، دھوکہ، کرپشن، بدعنوانی، عدم برداشت اور قانون شکنی جیسے رویوں میں ملوث ہیں۔ اگر تعلیم انسان کو صرف عقل دے اور ضمیر نہ دے، اگر وہ زبان تو سکھائے مگر گفتگو کا ادب نہ سکھائے، اگر وہ کامیابی تو دے مگر دیانت نہ دے، تو ایسی تعلیم معاشرے کی تعمیر نہیں بلکہ اس کی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی اداروں میں بچوں کی کامیابی کا پیمانہ صرف امتحانی نتائج بن چکا ہے۔ والدین نمبر پوچھتے ہیں، اساتذہ رزلٹ دکھاتے ہیں، مگر بہت کم لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ بچہ سچا بھی ہے یا نہیں؟ ایماندار بھی ہے یا نہیں؟ دوسروں کا احترام کرتا ہے یا نہیں؟ یہی وہ سوال ہیں جو ایک مہذب معاشرے کی بنیاد رکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تربیت صرف سکول کی ذمہ داری نہیں، بلکہ گھر، تعلیمی ادارے اور معاشرے—تینوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر والدین بچوں کو صرف آسائشیں دیں لیکن وقت، توجہ اور اخلاق نہ دیں، تو پھر سکول بھی اپنی پوری کوشش کے باوجود مکمل کامیاب نہیں ہو سکتا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام پر سنجیدگی سے نظرثانی کریں۔ نصاب میں کردار سازی، دیانت، برداشت، قانون کی پاسداری، سماجی ذمہ داری اور اخلاقی اقدار کو عملی طور پر شامل کیا جائے۔ اساتذہ کو صرف مضمون پڑھانے والا نہیں بلکہ کردار سازی کا معمار سمجھا جائے، اور والدین بھی اپنی ذمہ داری سے غافل نہ ہوں. قومیں صرف ڈگریوں سے ترقی نہیں کرتیں، بلکہ کردار، دیانت اور اعلیٰ اخلاق سے عظیم بنتی ہیں۔ اگر ہم نے تعلیم کو تربیت سے الگ رکھا تو ہمارے پاس قابل لوگ تو ہوں گے، مگر اچھے انسان کم ہوتے جائیں گے، اور یہی کسی بھی معاشرے کا سب سے بڑا المیہ ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں