29

*ایک حقیقت ، ایک ہی سچائی* *تحریر: جاوید صدیقی*

*ایک حقیقت ، ایک ہی سچائی*

*تحریر: جاوید صدیقی*

ہر سرکاری خاص طور پر نان کمیشن ملازم گریڈ ایک سے گریڈ سولہ تک ایمانداری دیانتداری سچائی محنت لگن سے اپنے ساٹھ سال خدمات کے پیش کرنے کے بعد بقیہ چند سال جینے کیلئے وہ پینشن پر گزارا کرتا ھے اس پینشن پر جو وہ دوران ملازمت حکومت سے ایک معاہدہ کرتا ھے کہ ساٹھ سال بعد تا حیات اسے رقم پینشن کی صورت میں ادا کی جائے گی حکومت ہر ملازمین سے پینشن کی مد میں دوران ملازمت ایک خاص رقم کٹوتی کرکے اپنے پاس رکھتی ھے جسے کمپاؤنڈ انٹریسٹ کی مد میں طلب کی جاتی ہے دوسرا سرکاری ملازمین کے دوران ملازمت ان سے گروپ انشورنس کی مد میں بھی کٹوتی کی جاتی ھے جسے حکومت اس ملازم کو سبکدوشی کے وقت ادا کرنے کا مجاز ھے جو آج تک نہیں کیا تمام کا تمام رقم حکومت اپنی عیاشیوں میں ظالمانہ عمل کرتی آئی ھے نہ اس بابت مقتدر قوتوں نے رد عمل دیکھایا اور نہ ہی کسی عدالت نے آج تک عمل کروایا کہنے کو تو یہ ریاست اسلامی جو کبھی تھی ہی نہیں پھر جمہوری، جمہوریت کے نام پر ہی عوام کا مکنل معاشی و اقتصادی قتل تیسرا پاکستان وہ تو قائداعظم اور علامہ اقبال کے بعد ہی دفن کردیا تھا ہاں البتہ غداروں دشمنوں اور پاکستان سے نفرت کرنے والوں نے ہی اقتدار حکومت پر قابض ہوئے اور ہیں۔ اگر ملک کے مخلص سچے مسلمان ہوتے تو اللہ کا خوف رسول خدا ﷺ سے محبت کا جذبہ رکھتے ہوئے قوم کی خدمت میں سرشار ہوجاتے۔ قومی دولت لوٹنے جھوٹ منافقت اور دھوکہ دہی کے عادی نہ ہوتے افسوس کہ ھم بھی من حیث القوم آج تک مسلمان اور پاکستانی نہ بن سکے کہ جن میں ایمان ھو اور وطن پرستی چھائی ھو بحرحال میں بات کررھا ھوں کہ سرکاری ملازم اپنی ہی رقم پینشن کی مد میں حاصل کررھا ھے حکومت پر قطعاً بوجھ نہیں، مجھے حیرت ہوتی ھے چیف جسٹس اور عسکری قیادت پر کہہ وہ حکومت کو غیر آئینی غیر قانونی غیر اخلاقی اور غیر انسانی عوامل سے روکتے کیوں نہیں؟؟ جس قدر حکومت ہر سال مہنگائی کرتی چلی آرھی ھے کیا اس نسبت سے اپنے سالانہ بجٹ میں اضافہ کیا۔ مشرق وسطیٰ ہو یا مشرق بعید یا پھر یورپ و امریکہ کے حالات میں تغیرات ان سب کا براہ راست جادوئی اثر صرف اور صرف پاکستان پر ظاہر کرکے مہنگائی کا مزید طوفان بلند کردیا جاتا ھے ان جاہل و ظالم حکمرانوں کو ذرا بھی عمر رسیدہ بزرگ پینشنرز کا احساس تک نہیں ہوتاکہ وہ کس حال سے دوچار ہیں۔ ان ظالم و جاہل حکمرانوں وزراء و مشیران کو بتانا چاہتا ھوں کہ ریٹائرڈمنٹ کے بعد سب سے پہلے بچوں کی شادیاں، اپنا چھت یعنی گھر کے بعد کچھ بھی نہیں بچتا ھے البتہ بیماری کے باعث قرض تلے دبے رہتے ہیں۔ لعنت ہر اس پر اللہ بھیجتا ھے جو اللہ کے حکم کی عدولی کرکے خود کو بڑا مسلمان بڑا مہربان اور سخی ظاہر کرنے کیلئے تشہیر پر تشہیر کرتا رہتا ھے۔ ہاں وہ ادارے جہاں کھلے عام رشوت اور حرام لیا جاتا ھے وہاں کے ملازمین تقریباً نوے فیصد اسی گند غلاظت میں ملوث رہتے ہیں انکی زندگی اور عیاشیوں پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میرا سوال حکومت وقت چیف جسٹس اور فیلڈ مارشل سے ھے کہ آپ آخر کیوں نہیں پینشنرز کو گروپ انشورنس دے رھے آخر کیوں نہیں پینشنرز کو موجودہ مہنگائی کے تناسب سے پینشن میں اضافہ کرتے آخر کیوں نہیں پینشنرز کے میڈیکل میں موجوہ مہنگائی کی نسبت اضافہ کرتے آخر کیوں کیوں؟؟ بینظیر انکم سپورٹ مکمل غیر آئینی غیر قانونی غیر اسلامی ھے کیونکہ کسی کا حق چھین کر کسی دوسرے کو دینا گناہ کبیرہ اور حرام میں آتا ھے یقیناً حرامی ہی حرام کام شوق سے کرتے ہیں کیونکہ انہیں نہ عقل ھے نہ سمجھ ھے کہ دین اسلام اور انسانیت کیا رہتا ھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں