*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: دینِ محمدی ﷺ میں خنزیر حرام کیوں ؟؟*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
دین محمدی ﷺ کی مقدس الہامی کتاب قرآن الحکیم و الفرقان المجید میں اللہ تبارک تعالیٰ نے صاف صاف اور واضع طور پر شراب اور خنزیر کو حرام قرار دیدیا ھے اور اسکے استعمال کی سخت ترین ممانعت بھی کی گئی ہے۔ اسے کھانے پینے و دیگر استعمال کرنے والے کو گناہ کبیرہ کا مرتکب بھی ٹہرایا۔ قرآن مجید نے معاشرتی اصلاح کے لیے شراب کی ممانعت کو تدریجاً چار مراحل میں مکمل کیا۔ ابتدائی طور پر اسے ناپسندیدہ قرار دیا گیا، بعد ازاں نشے کی حالت میں نماز سے روکا گیا، اور آخری مرحلے میں سورۃ المائدہ کی آیات 90-91 کے ذریعے اسے قطعی اور حتمی طور پر حرام اور شیطانی عمل قرار دیا گیا۔ سورۃ المائدہ آیت 90 میں شراب کو قطعی طور پر حرام قرار دیا گیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: “اے ایمان والو! بیشک شراب، جوا، بت اور فال نکالنے کے پانسے ناپاک اور شیطانی کام ہیں، پس ان سے بچو تاکہ تم فلاح پاسکو۔ سورۃ المائدہ آیت 91 میں مزید فرمایا گیا کہ شیطان شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈالنا چاہتا ہے اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے غافل کرنا چاہتا ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں نے قطعی طور پر شراب کو ترک کردیا۔ معزز قارئین میں اپنے کالم کے اصل عنوان پر آتا ھوں، قرآن پاک میں خنزیر کا ذکر بنیادی طور پر اسکے گوشت کو حرام قرار دینے اور اسے ناپاک یعنی نجس جانور کے طور پر پیش کرنے کیلئے آیا ہے۔ قرآن مجید کی چار مختلف سورتوں البقرہ، المائدہ، الانعام اور النحل میں اسکا تکرار کے ساتھ ذکر ملتا ہے۔ سورۃ البقرہ آیت 173 میں واضح طور پر حرام کی گئی چیزوں میں خنزیر کا نام لیا گیا ہے۔ سورۃ المائدہ آیت 3 میں حرام کردہ اشیاء کی فہرست میں لحمِ خنزیر، خنزیر کا گوشت شامل ہے۔ سورۃ الانعام آیت 145 میں خنزیر کو قطعی طور پر “رِجْس” ناپاک اور گندگی قرار دیا گیا ہے۔ سورۃ النحل آیت 115 میں بھی ان اشیاء کا اعادہ کیا گیا ہے جن کا کھانا منع ہے۔ اسلامی تعلیمات میں خنزیر کو “نجس العین” مانا جاتا ہے، یعنی اسکا پورا وجود بال، ہڈی، گوشت، چربی وغیرہ نجس اور حرام ہیں۔ خنزیر یعنی سور کے متعلق ایک تاریخی حقیقت سے آشنا کرنا چایتا ھوں۔ ذرا ملاحظہ کیجئے: اگر کوئی مجھے بتا دے سور حرام کیوں ہے تو میں اسی وقت تم سب کے سامنے کلمہ پڑھ لوں گی!” یہودیوں کے ایک بڑے اور طاقتور قبیلے کی خوبصورت اور مغرور شہزادی جب اندلس کے اسلامی دربار میں داخل ہوئی تو اسکے اس کھلے چیلنج نے پورے دربار میں سناٹا بچھا دیا۔ بڑے بڑے علماء کے ماتھے پر پسینہ آ گیا، کیونکہ وہ کوئی عام عورت نہیں تھی، وہ منطق اور بحث میں اپنا ثانی رکھتی تھی۔ اس نے تکبر سے دربار کے بیچوں بیچ کھڑے ہو کر کہا: “تمہارا اسلام کہتا ہے خنزیر حرام ہے۔ کیوں؟ یہ طاقتور ہے، ذائقہ دار ہے، اور ہمارا پسندیدہ گوشت ہے۔ مجھے کوئی پرانی کتابی کہانی نہیں، بلکہ کوئی ایسی منطقی اور ٹھوس وجہ بتاؤ جسے میرا دماغ ماننے پر مجبور ہو جائے!” دربار میں موجود ایک بزرگ اور انتہائی دانا عالمِ دین اپنی جگہ سے اٹھے۔ انہوں نے کوئی غصہ نہیں کیا، بلکہ ایک پراسرار مسکراہٹ کے ساتھ شہزادی کی طرف دیکھا اور ایک ایسا لرزہ خیز سوال کیا جس نے وہاں موجود ہر شخص کی سانسیں روک دیں: ”شہزادی! کیا تم جانتی ہو کہ دنیا کا ہر جانور اپنی مادہ کے لیے غیرت کھاتا ہے؟ اگر ایک کتے یا بیل کے سامنے کوئی دوسرا اس کی مادہ کے قریب جائے تو وہ اس کی جان لے لیتا ہے لیکن کیا تم نے کبھی خنزیر کو غور سے دیکھا ہے؟” شہزادی نے الجھن سے سر ہلایا، “نہیں… کیا مطلب؟” عالمِ دین کی آواز پورے دربار میں گونجی: “خنزیر دنیا کا واحد جانور ہے جس میں ‘غیرت’ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی! وہ خود دوسرے خنزیروں کو بلا کر لاتا ہے تاکہ وہ اس کی مادہ بیوی کیساتھ جسمانی تعلق بنائیں۔ اس میں اپنی مادہ کو شیئر کرنے پر کوئی غصہ، کوئی غیرت نہیں جاگتی! وہ دنیا کا بے شرم ترین اور غلیظ ترین جانور ہے جو اپنا ہی فضلہ یعنی گندگی کھاتا ہے۔” دربار میں پن ڈراپ خاموشی تھی۔ عالم نے اپنی بات جاری رکھی: ”ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ اور سائنس کا یہ اٹل اصول ہے کہ تم جو کھاتے ہو، اسکے اثرات تمہارے جسم اور روح میں منتقل ہوتے ہیں۔ جو قومیں خنزیر کھاتی ہیں، ان میں سے ‘غیرت’ رفتہ رفتہ ختم ہوجاتی ہے۔ وہ اپنی عورتوں کو دوسروں کے ساتھ بانٹنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتیں اور آج تم اپنے مغربی معاشرے کو دیکھ لو، کیا وہاں سے غیرت کا جنازہ نہیں نکل چکا؟” یہ سننا تھا کہ اس مغرور یہودی شہزادی کے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی۔ اس کا تکبر پاش پاش ہوچکا تھا اسکے پاس اس کڑوے اور سائنسی سچ کا کوئی جواب نہیں تھا۔ اسکے ہاتھ سے اسکا رومال گر گیا، آنکھوں میں آنسو آ گئے، اور اس نے دربار کے بیچوں بیچ کانپتی ہوئی آواز میں کہا: ”أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ“ ۔۔۔۔ معزز قارئین!! ج دنیا کی ماڈرن میڈیکل سائنس بھی مانتی ہے کہ خنزیر کے گوشت میں ستر سے زائد مہلک بیماریاں ہیں، مگر چوہ سو سال قبل اسلام نے اسے حرام کر کے مسلمانوں کو جسمانی اور روحانی غلاظت سے بچا لیا لیکن موجودہ زمانے میں ایمان اور دین سے دور مسلمان شراب زنا اور حرام گوشت کھانے میں رتی برابر شرم محسوس نہیں کرتے انہی جیسے مسلمانوں کے سبب ایک جانب معاشرہ برباد ہورھا ھے تو دوسری جانب دین محمدی ﷺ کو بدنام کرنے میں غیر مسلموں کو پورا پورا موقع مل رھا ھے دکھ اور افسوس تو یہ ھے کہ یہ حرامی اعمال پاکستان بھر میں اشرفیہ و ایلیٹ طبقہ میں کچھ زیادہ ہی بڑھ چکا ھے جو ہماری تباہی بربادی تنزلی رسوائی ذلت اور شکست کا باعث بن رھا ھے جبتک آئین و دستور میں مکمل قرآنی قوانین شامل کرنے کے ساتھ ساتھ مکمل عملاً درآمد نہ ہوگا اس وقت تک نہ پاکستان پاک رہ سکے گا اور نہ قائم بھی ہوگا پاکستان کی سلامتی کیلئے اب فوری سے پیشتر قرآنی نظام رائج کردیا جائے۔ قرآنی نظام کے درمیان کوئی بھی قوم حائل ہرگز نہیں ہوگی کیونکہ یہ سب کے سب مسلمان ہیں رہی بات پاکستانی اقلیت کی وہ بھی قرآنی قوانین کو دنیا کے بہترین قوانین مانتے ہیں پھر دیر کس بات کی کریں لاگو پاکستان بھر میں قرآنی نظام، اس قوم کو انتظار ھے وگرنہ اسٹبلشمنٹ اور سیاستدان نہیں چاہتے ہیں کہ وطن عزیز پاکتان میں اللہ اور اسکے حبیب ﷺ کا نظام رائج ھو فیصلہ حکومتِ وقت پر ھے اور اسٹبلشمنٹ پر۔۔۔۔!!