14

*کراچی کے سینئر جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی کا کہنا ھے کہ پاکستان بھر میں ریاستی اداروں کا کردار

*کراچی کے سینئر جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی کا کہنا ھے کہ پاکستان بھر میں ریاستی اداروں کا کردار افسوسناک دیکھائی دیتا ھے ملک بھر میں وزرات داخلہ کے ماتحت سیکیورٹی اداروں کی ناکامی کھل کر سامنے آچکی ھے عام عوام تحفظ سے محروم اور مجرم آزاد دندناتے پھرتے نظر آرھے ہیں بچوں بچیوں کا اغوا قتل اور جنسی تشدد معمول کا حصہ بن چکی ھے، راہ گیروں سے ڈکیتی کی وارداتیں عام ہوچکی ہیں، اس وقت سب سے زیادہ کراچی متاثر ہورھا ھے، شہرِ کراچی کی سڑکیں عام شہریوں کیلئے موت کی گھاٹی بنتی جارھی ھے، ڈاکٹر ادیب رضوی کی تحقیق کے مطابق کراچی بھر کے ہوٹلوں اور کیبنوں میں مضر چائے زہرِ زندگی بنا رھی ھے۔ مضر سبزیاں اور مضر گوشت کی فروخت کا بھی سلسلہ جاری ھے، وقت کا تقاضہ ھے کہ کراچی سے کشمیر تک جرائم پیشہ افراد مافیاء اور انکے کارندوں و سہولتکاروں کے خلاف لگاتار متواتر آخری مجرم تک پیرا ملٹری فورسس پر مشتمل گرینڈ آپریشن کو فی الفور عمل میں لایا جائے۔ اس آپریشن کی نگرانی وزارت دفاع خود کرے کیونکہ پاکستان میں عدم استحکام اور ملک و قوم کو کمزور کرنے منفی عناصر پیدا کرنے میں ایک اور طبقہ جوکہ خطرناک مافیاء بن چکا ھے وہ ھے گداگری جس کا خاتمہ ناگزیر ھے۔ اس بابت تاخیر نہ صرف ملک کی سالمیت کیلئے نقصان دہ ھے بلکہ عوام کے جینے کیلئے بھی مشکل۔ کراچی کے سینئر جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی کا کہنا ھے کہ قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹ کے ممبران اس بابت سب سے پہلے قانون سازی کرکے پانچ مافیاؤں کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے بل پیش کریں اور قانونی شکل دیکر فوری جڑ سے خاتمہ کریں ان میں اوّل گداگری دوئم منشیات گری سوئم ڈکیتی و چوری چہارم اغوا و بھتہ خوری اور پنجم لینڈ مافیاء۔ یہ پانچوں جرائم اور مافیاؤں کا باہمی گڑھ جوڑ اور ربط رہتا ھے کسی ایک کو بھی نظر انداز کرنے سے نتیجہ برآمد نہیں ہوسکے گا۔*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں