18

*مسجدیں بے آباد اور بازار آباد: ایک المیہ اور لمحہ فکریہ*

*مسجدیں بے آباد اور بازار آباد: ایک المیہ اور لمحہ فکریہ*

بدھ 15 جولائی 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

ہمارے معاشرے کا اگر گہری نظر سے مشاہدہ کیا جائے تو ایک انتہائی دردناک اور خوفناک تضاد سامنے آتا ہے۔ وہ تضاد یہ ہے کہ جیسے ہی اذان کی آواز گونجتی ہے، اللہ کے گھروں (مساجد) میں سناٹا پسرا رہتا ہے، صفیں خالی رہتی ہیں اور چند ضعیف العمر افراد کے علاوہ کوئی نظر نہیں آتا۔ دوسری طرف، ہمارے بازار، شاپنگ مالز اور تجارتی مراکز دن ہو یا رات، خریداروں کے ہجوم سے کھچا کھچ بھرے رہتے ہیں۔
یہ صورتحال صرف ایک سماجی تبدیلی نہیں بلکہ ہمارے فکری اور روحانی زوال کا وہ واضح اشارہ ہے جس کی نشاندہی چودہ سو سال پہلے اسلام کے رہنما اصولوں میں کر دی گئی تھی۔

۱۔ قرآن و سنت کی روشنی میں مساجد اور بازاروں کی حقیقت
اسلام ہمیں دین اور دنیا میں توازن قائم کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ لیکن جب دنیا، دین پر غالب آ جائے تو معاشرہ اخلاقی طور پر مردہ ہو جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مساجد کو آباد کرنے والوں کی تعریف کرتے ہوئے سورہ التوبہ میں ارشاد فرمایا:
اللہ کی مسجدوں کو تو وہی آباد کرتے ہیں جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے، اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ امید ہے کہ یہی لوگ ہدایت پانے والوں میں سے ہوں گے۔ (سورہ التوبہ، آیت ۱۸)

اس کے برعکس، جب ہم بازاروں کی طرف اپنے والہانہ لگاؤ کو دیکھتے ہیں، تو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ حدیث یاد آتی ہے جس میں آپ نے زمین کے پسندیدہ اور ناپسندیدہ مقامات کا فرق واضح فرمایا:

اللہ کے نزدیک مقامات میں سب سے زیادہ پسندیدہ جگہ مساجد ہیں اور سب سے زیادہ ناپسندیدہ جگہ بازار ہیں۔ (صحیح مسلم)

بازار کو ناپسندیدہ اس لیے کہا گیا کیونکہ یہ وہ مقام ہے جہاں دھوکہ دہی، جھوٹ، حرص، لالچ اور خدا کی یاد سے غفلت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ جبکہ مسجد وہ مقام ہے جہاں سکون، سچائی، مساوات اور یادِ الہی کا دور دورہ ہوتا ہے۔

۲۔ معاشرتی زوال اور ترجیحات کا الٹ جانا:
آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے دنیاوی زندگی کو اپنا اصل مقصد بنا لیا ہے۔

۱۔ وقت کا ضیاع اور سستی: ہم دنیاوی کاموں، خریداری اور تفریح کے لیے گھنٹوں کھڑے رہنے کو تیار ہیں، لیکن خالقِ کائنات کے سامنے چند منٹ عاجزی سے کھڑے ہونا ہمارے نفس پر بھاری گزرتا ہے۔

۲۔ مادی دوڑ:
بازاروں کا آباد ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ہماری سوچ صرف مادی ترقی، فیشن، اور ظاہری نمود و نمائش تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ ہم اپنی مٹی کی اس دیوار (جسم) کو سجانے میں مگن ہیں اور روح کو جو مساجد کے ذریعے سیراب ہوتی ہے، پیاسا چھوڑ رہے ہیں۔

۳۔ نوجوان نسل کی دوری: افسوسناک امر یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل کھیل کود کے میدانوں، چائے خانوں اور موبائل سکرینوں پر تو راتیں گزار دیتی ہے، لیکن مسجد کی پہلی صف نوجوانوں کے وجود سے محروم نظر آتی ہے۔

۳۔ سدِ باب اور اصلاحِ احوال کے عملی اقدامات
اس سماجی و روحانی وائرس سے چھٹکارا پانے اور مساجد کی رونقیں بحال کرنے کے لیے ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر درج ذیل اقدامات کرنے ہوں گے:

۱۔ اوقاتِ کار کی تنظیم: حکومت اور تاجر برادری کو مل کر ایسے قوانین پر عملدرآمد کرانا چاہیے جس کے تحت نماز کے اوقات میں کاروبار لازمی طور پر بند کیا جائے۔ خصوصاً مغرب اور عشاء کے وقت بازاروں کی گہما گہمی کو قانون کے دائرے میں لا کر محدود کیا جائے۔

۲۔ تربیتِ اولاد: والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو بچپن ہی سے مسجد کی محبت سکھائیں۔ جب تک گھر کے بڑے مسجد کا رخ نہیں کریں گے، تب تک نئی نسل بازاروں اور گلیوں کی آوارہ گردی سے تائب نہیں ہوگی۔

۳۔ مساجد کے کردار کی وسعت: مساجد کو صرف نماز پڑھنے کی جگہ تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ انہیں عہدِ نبوی کی طرح معاشرتی، تعلیمی اور فلاحی سرگرمیوں کا مرکز بنایا جائے تاکہ محلے کے لوگ قدرتی طور پر مسجد سے جڑے رہیں۔

فکرِ آخرت اور بیداری کی اپیل:
محترم قارئین، مساجد کا بے آباد ہونا دراصل دلوں کے بنجر ہونے کا پیش خیمہ ہے۔ اگر آج ہم نے اپنے بازاروں کی بھیڑ کم کر کے سجدوں کی رونقیں نہ بڑھائیں، تو وہ دن دور نہیں جب ہمارا خاندانی اور اخلاقی نظام مکمل طور پر زمین بوس ہو جائے گا۔
آئیے عہد کریں کہ ہم روزمرہ کی مصروفیات میں سے سب سے پہلا حق اپنے رب کا ادا کریں گے۔ بازاروں کی عارضی چمک دمک کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اس حقیقی روشنی کی طرف لوٹیں گے جو صرف اور صرف مساجد کے سجدوں سے نصیب ہوتی ہے۔

شاید کہ اتر جائے کسی کے دل میں میری بات!

الدعاء
یا حیئ یا قیوم برحمتک استغیث
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell:00923008604333

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں