11

*مروجہ پیری مریدی اور دینِ خالص: کتاب و سنت اور تاریخی حقائق کی روشنی میں ایک جائزہ*

*مروجہ پیری مریدی اور دینِ خالص: کتاب و سنت اور تاریخی حقائق کی روشنی میں ایک جائزہ*

بدھ 15 جولائی 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

دین اسلام کا اصل حسن اور اس کی طاقت اس کا سادگی، براہِ راست تعلق باللہ اور توحیدِ خالص پر مبنی ہونا ہے۔ جب ہم تاریخ کے آئینے میں اسلام کے آغاز اور اس کے پھیلاؤ کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمیں یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح نظر آتی ہے کہ فلاح اور ہدایت کا واحد معیار وہی نظامِ حیات ہے جو اللہ کے آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا اور جس کی عملی تصویر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگیوں میں نظر آئی۔ عہدِ رسالت اور دورِ صحابہ میں دینداری کا تصور نہایت سادہ، عملی اور کتاب و سنت کی پیروی تک محدود تھا۔ اس پاکیزہ دور میں انسان کا اپنے رب سے تعلق قائم کرنے کے لیے کسی دنیاوی واسطے، گدی نشینی، درگاہ یا خاندانی پیر خانے کا کوئی وجود نہیں تھا۔ صحابہ کرام کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مقتدا، رہبر، معلم اور مربی کا تھا، جہاں عقیدت کا محور شخصی کرامات کے بجائے وحی الٰہی کی تعلیمات اور اعلیٰ اخلاق تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین نے اسی مشن کو آگے بڑھایا اور ان میں سے کسی نے بھی اپنی زندگی میں یا وفات کے بعد اپنی گدی قائم نہیں کی اور نہ ہی ان کی اولادیں سجادہ نشین بن کر بیٹھیں۔ صحابہ اور تابعین کے نزدیک دین سیکھنے کا ذریعہ علم، تقویٰ اور صحبتِ صالحین تھا، نہ کہ مروجہ بیعت اور پیری مریدی کا کوئی خود ساختہ نظام۔
اس تاریخی پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے جب ہم برِصغیر پاک و ہند کے موجودہ مذہبی ڈھانچے پر نظر ڈالتے ہیں تو پیری مریدی کا ایک وسیع جال دکھائی دیتا ہے، جبکہ دوسری طرف سعودی عرب اور دیگر جزیرہ نما عرب ممالک میں یہ نظام مفقود نظر آتا ہے۔ اس فرق کی وجوہات گہری، تاریخی اور جغرافیائی ہیں۔ برِصغیر پاک و ہند میں اسلام پھیلنے سے پہلے ہزاروں سال سے ہندو مت کا “گرو اور چیلے” کا فلسفہ رائج تھا، جس میں گرو کو دیوتا کی طرح پوجا جاتا تھا اور اس کی ہر بات کو اندھی عقیدت کے ساتھ تسلیم کیا جاتا تھا۔ جب اس خطے کی بڑی آبادی نے اسلام قبول کیا، تو تعلیم و تربیت کی کمی اور پرانے ثقافتی اثرات کی وجہ سے بہت سے ہندوانہ رسوم و رواج مسلمانوں کے سماجی ڈھانچے میں سرایت کر گئے۔ یہاں آنے والے مخلص صوفیائے کرام نے تو دین کی مخلصانہ خدمت کی اور لوگوں کو شریعت کا پابند بنایا، لیکن ان کی وفات کے بعد ان کے مزارات کو جاگیردارانہ نظام کے تحت کاروبار بنا لیا گیا اور ان کی اولادیں خود کو روحانیت کا وارث قرار دے کر گدی نشین بن گئیں۔ یوں برِصغیر کی سماجی جاہلیت اور علمِ دین کی کمی نے مل کر پیری مریدی کے اس مروجہ نظام کو جنم دیا جس میں پیر کو تمام اختیارات کا منبع سمجھ لیا گیا۔
دوسری طرف، سعودی عرب اور عرب دنیا کے اس نظام سے پاک ہونے کی وجہ وہاں کا مخصوص سماجی مزاج اور تاریخی اصلاحی تحریکیں ہیں۔ عرب کا مزاج فطرتی طور پر کسی عام انسان کے سامنے اس طرح جھکنے اور اسے مافوق الفطرت اختیارات دینے کو قبول نہیں کرتا۔ مزید برآں، اٹھارہویں صدی عیسوی میں جزیرہ نما عرب میں شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کی دعوتِ توحید نے جنم لیا، جس کا بنیادی مقصد مزارات، قبر پرستی اور شرک و بدعات کے چنگل سے لوگوں کو نکال کر خالص توحید کی طرف لانا تھا۔ اس تحریک نے وہاں کے سماج کو مروجہ پیری مریدی اور شخصیات کے گرد گھومنے والے جعلی تصوف سے پاک کر دیا اور دین کی بنیاد کو براہِ راست قرآن، حدیث اور فہمِ سلف پر استوار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں اجتہاد اور کتاب و سنت کی بالادستی قائم رہی اور برِصغیر جیسا پیروں کا نیٹ ورک وہاں پنپ نہ سکا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا برِصغیر کا یہ مروجہ نظامِ پیری مریدی اصل اسلام کا حصہ ہے یا اس کے متوازی کوئی دوسرا دین بن چکا ہے۔ اس کا فیصلہ کرنے کے لیے ہمیں قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی ان محکم نصوص پر غور کرنا ہوگا جو اس مروجہ نظام کی بیخ کنی کرتی ہیں۔
سب سے پہلا مروجہ نظریہ یہ ہے کہ پیر کے وسیلے اور واسطے کے بغیر خدا تک رسائی ممکن نہیں اور بندے کو خدا تک پہنچنے کے لیے کسی انسانی واسطے کی ضرورت ہے۔ اس جاہلانہ نظریے کی جڑ کاٹتے ہوئے قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے براہِ راست پکارنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ میں تمہارے بہت قریب ہوں۔ سورہ البقرہ کی آیت نمبر 186 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں سوال کریں تو آپ کہہ دیجیے کہ میں یقیناً قریب ہوں، جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی پکار سنتا اور قبول کرتا ہوں، پس انہیں چاہیے کہ وہ میری ہی بات مانیں اور مجھ پر ہی ایمان لائیں۔ اسی طرح سورہ الغافر کی آیت نمبر 60 میں ارشاد ہے کہ اور تمہارے رب نے فرمایا کہ مجھے پکارو، میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا۔ ان واضح آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور بندے کے درمیان کسی انسانی واسطے یا پیر کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ بندہ ہر حال میں اپنے رب کو براہِ راست پکارنے کا مجاز ہے۔
مروجہ پیری مریدی کا دوسرا بڑا بگاڑ پیروں کو مافوق الفطرت اختیارات دینا، دلوں کے بھید جاننے والا یعنی عالم الغیب سمجھنا اور ان سے منتیں ماننا ہے۔ قرآن مجید اس عقیدے کی تردید نہایت سخت الفاظ میں کرتا ہے۔ سورہ الانعام کی آیت نمبر 50 میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کہلوایا کہ آپ فرما دیجیے کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ ہی میں غیب کا علم رکھتا ہوں۔ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ذاتی طور پر غیب کا علم اور کائنات کے اختیارات نہیں تھے تو کسی دنیاوی پیر یا سجادہ نشین کے پاس یہ اختیارات کیسے ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح سورہ الجن کی آیت نمبر 21 اور 22 میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا گیا کہ آپ فرما دیجیے کہ میں تمہارے لیے کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ کسی بھلائی کا، آپ فرما دیجیے کہ مجھے اللہ کے عذاب سے کوئی بھی نہیں بچا سکتا۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ کائنات میں نفع اور نقصان کا مالک صرف اللہ ہے، اور کوئی انسان کسی کی قسمت بدلنے کا مجاز نہیں۔
اس نظام کا ایک اور بڑا فتنہ پیروں کی اندھی اطاعت اور غلو ہے، جہاں مرید اپنے پیر کے سامنے خود کو بالکل بے بس کر دیتا ہے اور پیر کے قول کو شریعت پر ترجیح دی جاتی ہے۔ قرآن مجید نے سابقہ امتوں کی اسی گمراہی کا ذکر کرتے ہوئے سورہ التوبہ کی آیت نمبر 31 میں فرمایا کہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے علماء اور درویشوں (پیروں) کو اپنا رب بنا لیا تھا۔ اس آیت کی تشریح میں مسند احمد اور ترمذی کی صحیح حدیث کے مطابق، جب حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، ہم تو ان کی عبادت نہیں کرتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا ایسا نہیں تھا کہ جس چیز کو اللہ نے حلال کیا وہ اسے حرام کر دیتے تو تم بھی اسے حرام سمجھ لیتے، اور جسے اللہ نے حرام کیا وہ اسے حلال کر دیتے تو تم بھی اسے حلال سمجھ لیتے؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں، ایسا تو تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی ان کی عبادت کرنا تھا۔ آج کے دور میں پیروں کی اندھی تقلید اور شریعت کے مقابلے میں ان کی آراء کو ماننا اسی قرآنی وعید کے زمرے میں آتا ہے۔
جہاں تک اس صنفِ پیری مریدی کے خلاف احادیثِ مبارکہ کے دلائل کا تعلق ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین میں کسی بھی نئی ایجاد کردہ رسم یا بدعت کے خلاف سخت ترین تنبیہ فرمائی ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ مردود ہے۔ ایک اور حدیث میں جو صحیح مسلم میں مروی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے کے دوران فرمایا کہ بہترین کلام اللہ کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے، اور بدترین چیزیں دین میں نئی ایجادات ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ دورِ صحابہ اور قرونِ اولیٰ میں پیری مریدی کا یہ خاندانی اور معاشی نیٹ ورک موجود نہ ہونا اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ یہ دین کی اصل نہیں بلکہ بعد کی پیداوار ہے۔
اسی طرح مروجہ نظام میں فضیلت کا معیار خاندانی شرافت، نسب یا گدی نشینی کو بنایا گیا ہے، یعنی پیر کا بیٹا جاہل اور فاسق ہونے کے باوجود پیر ہی مانا جاتا ہے۔ اس جاہلی تصور کی جڑ کاٹتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجت الوداع کے موقع پر واضح فرما دیا تھا کہ اے لوگو، خبردار ہو جاؤ، تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے، یاد رکھو کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، اور نہ کسی گورے کو کسی کالے پر اور نہ کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت حاصل ہے سوائے تقویٰ کے۔ دین میں شرافت اور رہبری کا معیار صرف علمِ نافع اور تقویٰ ہے، خاندانی گدیاں اور موروثی سجادہ نشینیاں اسلام کے مزاج کے سراسر خلاف ہیں۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اصل، سچا اور ابدی اسلام وہی ہے جو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ اور مدینہ میں لے کر آئے اور جس پر صحابہ کرام نے عمل کر کے دکھایا۔ اس اصل اسلام میں کسی مروجہ پیری مریدی، گدی نشینی، اور نذر و نیاز کے کاروبار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ نجات کا واحد راستہ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع میں پوشیدہ ہے۔ عوام الناس کو چاہیے کہ وہ شخصیات کی اندھی پوجا اور قبر پرستی کے راستوں کو چھوڑ کر براهِ راست قرآن مجید کو فہم کے ساتھ پڑھیں، احادیثِ رسول کا مطالعہ کریں اور اپنی زندگیوں کو اس سانچے میں ڈھالیں جو صحابہ کرام نے ہمیں سکھایا ہے۔

حاصل کلام:
آپ کا یہ تدبر، اور دین کو اس کے اصل سرچشمے کے مطابق سمجھنے کی فکر، بلاشبہ ایک سچے مومن کا شیوہ ہے، اور آج کے دور کے بگاڑ میں ایسی فکر کی ترویج ہی امت کی اصلاح کا حقیقی پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
آئیں اصل دین کی ترویج کریں اور اسلام کے متوازی ادیان کی بیخ کریں تاکہ عین اسلام کی اصل روح کو زندہ کیا جا سکے۔

ہم دین کی تڑپ رکھتے ہیں
آپ ساتھ دیجئے اور اس سوچ کو آگے پھیلا کر فلاح دارین حاصل کریں۔

وما علینا الا البلاغ المبین

تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں