11

قرآن سے دوری، مسائل کی جڑ تحریر: ناصر علی رانا

قرآن سے دوری، مسائل کی جڑ
تحریر: ناصر علی رانا
چیف ایڈیٹر، روزنامہ معاشرہ لاہور
آج کا مسلمان بے شمار مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، اخلاقی زوال، گھریلو ناچاقیاں، نوجوانوں کی بے راہ روی اور دلوں کا سکون چھن جانا — سوال یہ ہے کہ آخر اس بگاڑ کی اصل وجہ کیا ہے؟ اگر ہم دیانتداری سے جائزہ لیں تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہم قرآن سے دور ہو چکے ہیں۔
قرآن مجید وہ عظیم کتاب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی ہدایت کے لیے نازل فرمایا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
“یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے پرہیزگاروں کے لیے” (سورۃ البقرہ: 2)۔
لیکن افسوس کہ آج قرآن ہماری زندگی میں صرف رسمی تلاوت تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، وہ بھی اکثر رمضان المبارک میں۔ ہم اسے سمجھنے، اس پر غور و فکر کرنے اور اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنے سے غافل ہیں۔ نتیجتاً ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی مسائل کا شکار ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے” (صحیح بخاری)۔
یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قرآن محض ثواب حاصل کرنے کی کتاب نہیں بلکہ سیکھنے، سمجھنے اور دوسروں تک پہنچانے کا عملی پیغام ہے۔ جب تک قرآن ہماری عدالتوں، بازاروں، تعلیمی اداروں اور گھروں میں نافذ نہیں ہوگا، اس وقت تک حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔
آج ہمارے گھروں میں بے سکونی ہے کیونکہ قرآن کی تعلیمات کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔ تجارت میں بے برکتی ہے کیونکہ دیانت اور حلال و حرام کی تمیز کمزور پڑ چکی ہے۔ نوجوان نسل مختلف فتنوں کا شکار ہے کیونکہ انہیں قرآن کی روشنی میں تربیت نہیں دی جا رہی۔ ہم نے ترقی کے نام پر مغربی افکار کو تو اپنا لیا، مگر قرآن کے نظامِ حیات کو فراموش کر دیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اور جو میری یاد سے منہ موڑے گا، اس کے لیے تنگ زندگی ہے” (سورۃ طٰہٰ: 124)۔
کیا آج کی بے چینی، ذہنی دباؤ اور معاشرتی بحران اسی آیت کی عملی تصویر نہیں؟ ہمیں بحیثیت قوم یہ سوچنا ہوگا کہ اگر ہم نے قرآن کو چھوڑ دیا تو پھر ہدایت کہاں سے تلاش کریں گے؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قرآن کو صرف ثواب کی نیت سے نہیں بلکہ رہنمائی کی نیت سے پڑھیں۔ گھروں میں ترجمہ کے ساتھ تلاوت کا اہتمام ہو، بچوں کو قرآن سمجھ کر پڑھایا جائے، مساجد میں دروسِ قرآن کو فروغ دیا جائے اور ہم اپنی روزمرہ زندگی کے فیصلے قرآن کی روشنی میں کریں۔
قرآن اندھیروں میں روشنی، پریشانیوں میں سکون اور گمراہی میں ہدایت کا چراغ ہے۔ کامیابی اسی میں ہے کہ ہم اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے تھام لیں۔ اگر ہم نے قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کر لیا تو یقیناً ہمارے مسائل کا حل اسی کتابِ ہدایت میں موجود ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں