افسانہ
بلیو بیری کیک
تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
بس میں نے اپنے ناراض بھائی کے لیے بلیو بیری کیک بنا ہی لیا تھا کیوں نہ بناتی اسے بہت پسند تھا، اس ویک اینڈ پہ میں شدید تھک چکی تھی، میرا ارادہ تھا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے اپنے گلابی نرم گرم کمبل میں دبک جاوں، اس ظالم دنیا اور بیری سماج سے پرے، بہت ہی پرے مگر میں نے نہ چاہتے ہوے بھی اپنے دل کو بڑا کیا، اپنے حوصلے کو مجتمع کیا اور اپنی جمع پونجی میں سے بلیو بیری، مکھن، چینی اور میدہ خرید لای اور بڑی چاہت اور پیار سے کیک تیار کیا، کیک کو بڑی خوب صورت پیکنگ میں سجا کے بھائی کے دروازے پہ جا کھڑی ہوی، وہی دروازہ جہاں سے بوقت رخصت میرا پیارا باپ گھر سے باہر آتے ہی میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لیتا اور بڑی لجاجت سے کہتا پیاری چند دن اور رک جاو، وہی دروازہ تھا، مگر وقت کچھ آگے نکل چکا تھا اب صرف بابا کی یادیں تھیں اور منہ چڑاتی دل کو لہو لہان کرتی ہوی چند حقیقتیں تھیں جن سے نہ ہی آنکھیں چرائی جا سکتی تھیں، نہ ہی روگردانی کی جا سکتی تھی، بس چند کچھ کڑوے گھونٹ ہوتے ہیں جو چاہتے ہوے یا نہ چاہتے ہوئے بھی ہمیں بھرنے ہی پڑتے ہیں، اب وہی دروازہ تھا جہاں سے میرے چھوٹے اور لاڈلے بھائی نے اپنی بہت ہی لاڈلی اور سر چڑھی بیوی کے کہنے پہ مجھے بے عزت کر کے گھر سے نکال دیا تھا کہ اب اس دروازے پہ قدم مت رکھنا، بھلا اس سے بڑی موت کوی اور ہو سکتی ہے بھلا کہ آپ کو اپنے آبائی گھر میں داخل ہونے ہی سے روک دیا جاے؟
لیکن میرے شوق کو بھی ملاخطہ فرمائیں کہ میں پھر سے اسی دروازے پہ اپنے بھائی کی پسند کا کیک بنا کے کھڑی تھی. دروازہ وہی تھا، ہلکا براون رنگ،جس میں سنہری تارے ابا جی نے میری پسند سے ڈلواے تھے، دروازے کے دونوں طرف لہراتی ہوی عشق پیچاں کی ہری بیلیں اپنے دامن میں چھپے ہوے لال پھولوں کے ساتھ مجھے اپنی ہی طرح سوگوار دکھای دیں، دروازہ وہی تھا مگر نہ ہی حالات ویسے تھے اور نہ ہی دروازے کے دونوں طرف پاے جانے والے لوگ. نہ میرا بھای میرا تھا اور نہ ہی میں، میں رہی تھی، میرے ہاتھ میں کیک تھااور دل میں باپ کی آواز، اور آنکھوں کی پٹاریوں میں وہ دن جب اس دہلیز سے مجھے لفظوں سے نہیں لہجوں سے نکالا گیا تھا.
میں نے دستک نہیں دی، میں چند لمحے بس خاموش کھڑی رہی جیسے اس دروازے کو اور عشق پیچاں کی ان بیلوں کو وقت دے رہی ہوں کہ وہ مجھے پہچان لیں.
دروازے کے دوسری طرف زندگی اپنی پوری رنگینیوں کے ساتھ رواں دواں تھی، ہنسی کی مدھم آواز آئی،
برتنوں کی کھنک،
پریشر ککر کی سیٹی کی زندگی کی طرف لاتی ہوی دھمک دار آواز،
بچوں کے واشگاف قہقہے
دروازے کے اس طرف زندگی اپنی پوری رعنائیوں کے ساتھ چل رہی تھی، جیسے میرا ہونا یا نہ ہونا ان سب کے لیے یکساں برابر ہو،
میرے دل کی ایک دھڑکن تھم گیی تھی، میرے ہاتھ تھکنے لگے، میرے کندھے میرے وجود کا بوجھ اٹھانے سے ایک دم ہی انکاری ہو گیے، کیک بھاری نہیں تھا، یادیں بھاری تھیں. میں نے کیک آہستہ سے دروازے کے قریب رکھ دیا، پیکنگ پہ کوئی نام نہیں لکھا، کیوں کہ محبت کو تعارف کی ضرورت نہیں ہوتی اور انکار کو وجہ کی لیکن اپنے آبای دروازے سے اپنے ماں جاے کے گھر سے پلٹتے وقت ایک لمحے کو دل نے چاہا کہ دروازہ کھلے، کوی انجانی آواز آے
باجی…….؟
مگر دروازہ بند رہا بالکل ویسے ہی جیسے کچھ رشتے بند ہو جاتے ہیں تالے سے نہیں موی انا سے.
میں سیڑھیاں اترتی چلی گیی اور ہر قدم کے ساتھ دل ہلکا ہوتا گیا.
اس دن میں نے سیکھا.
کچھ کیک اپنے پیاروں کے لیے نہیں بنتے.
کچھ محبتیں روٹھ جاییں تو لوٹ کر نہیں آتیں. اور یہ بھی کہ جو اپنا خلوص دروازے پر رکھ آےوہ خالی ہاتھ نہیں لوٹتا وہ آزاد ہو جاتا ہے، ہر گھن لگے رشتے اور اس رشتے سے جڑی بندش سے.
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
Punnam.naureenl@icloud.com
یہ بازغہ ہیں عطاء اللہ خان عیسی خیلوی کی تیسری بیوی اور معروف فلمی اداکارہ، قِصّہ کچھ یوں ہے کہ
گجرات کا وہ انمول ہیرا جسے حسد کی آگ نگل گئی : چوہدری احسن وڑائچ کی نہ کسی سے دشمنی تھی اور
عنوان. باجرے کی میٹھی روٹیاں کالم نگار. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
افسانہ بلیو بیری کیک تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
ٹھٹہ (رپورٹ ) عبد العزیز شیخ *ٹھٹہ پولیس کی کامیاب کارروائی