6

عنوان. باجرے کی میٹھی روٹیاں کالم نگار. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور

عنوان. باجرے کی میٹھی روٹیاں
کالم نگار. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
یہ سب سنتے ہوئے بچپن سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپا آ گیا کہ کھاو من بھاتا اور پہنو جگ بھاتا. اسکا مطلب وہی بہتر جان سکتا ہے، جس کے ذایقے کی حس سلامت ہو، جس کی صحت بہترین ہو اور جو آزاد فضا کا باشندہ ہو. بیماری اور غلامی جہاں آپ سے آپ کی خود داری چھین لیتی ہیں وہیں آپ کی بھوک، پیاس اور ذایقے بھی پردیسی ہی ہو جاتے ہیں اور پردیسیوں کا کوئی دین مذہب نہیں ہوتا وہ پل پل جیتے اورپل پل مرتے ہیں اور پل پل ہی گر گٹ کی طرح رنگ بدلتے ہیں. گرگٹ ایک ایسا جانور ہے جو اپنے رنگ بدلنے کے لیے مشہور ہے اب یہ رنگ وہ اپنی جان بچانے کے لیے بدلتا ہے یا پھر کسی اور وجہ یہ بات پھر کسی اور دن کے لیے آج تو بات ہو رہی ہے انسانی بقا کے لیے انسان کے من پسند کھاجوں اور من پسند ذائقوں کی. ہمارے پاکستانی کھانوں کی بات کی جاے تو چاول، چپاتی ،سبزی، دال، مٹن، چکن کڑھی عام طور پر عمومی کھانے ہیں رایتہ، سلاد، اور سویٹ ڈشز اس کے علاوہ یہاں کی مرغوب مٹھائیاں رس گلے، گلاب جامن، جلیبیاں، بالو شاہی، بوندی کے لڈو، السی کی پنیاں، ہر طرح کے حلوہ جات اور پنجیریاں اپنے ذائقوں اور غذائیت میں اپنی مثال آپ ہیں.
باقی دہی بھلے، فروٹ چاٹ، چنا چاٹ، گول گپے، لچھے، قلفیاں، فالودے ،اندرسے ،پٹھورے اور ماشا ء اللہ ہر طرح کے پھلوں سے مالا مال ہمارے اس پیارے ملک کو کسی بہت ہی پیارے کی دعا ہے جو یہاں اچھی نسل کے گندم، چاول اور آم، مالٹے، ناریل، تربوز، خربوزے، انگور، انار ناشپاتی، امرود، کیلے، جاپانی پھل، آڑو، اسٹابری، گرما، سردا، مسمی، گریپ فروٹ، سیب غرض کوئی ایسا پھل نہیں جو یہاں نہ اگتا ہو اور گنے اس شاندار نسل کے کہ بھلے چینی بنائیں یا گڑ، شکر، فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے.. مگر انسان کی تربیت جس نہج پہ بھی ہو جاے اسے وہی ذائقہ بھاتا ہے جس زبان کو سن کے وہ بڑا ہوتا ہے وہی زبان اس کی ماں بولی ہوتی ہے اور ماں بولی سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ہوتا ہمیں بھی اپنی ماں بولی کو مان دینا چاہیے.
سلمیٰ کے گھر میں چاول کھانے کا رواج تھا یہ گھرانہ ہر موسم میں ہر وقت کھانے میں چاول ہی کو کھانا سمجھتا تھا، جس دن گھر میں چاول نہ بنتے مانو سب کا روزہ ہی ہوتا.
چوہدری باسط کے گھرانے میں گوشت ہی کو خوراک سمجھا جاتا تھا جس روز ان کے گھر میں بھولے سے گوشت نہ بنتا، چوہدری باسط اپنی گھر والی کو نہ صرف الٹی سیدھی گالیوں سے نوازتا بلکہ کھانے کا پتیلہ ہی ڈسٹ بن میں انڈیل دیتا.
ماروی پنچاب کے ایک چھوٹے سے گاوں میں رہتی تھی اس کی والدہ اس کے بچپن میں ہی فوت ہو چکی تھیں، اسے اس کی دادی ہی نے پالا پوسا تھا، اس کے گاؤں میں ہر فصل اگتی تھی. سردیوں میں گنے سے گڑ بننے کے عمل کو اس نے بارہا دیکھا تھا جب لوہے کے بڑے بڑے کڑاہ میں گڑ بنتا اور گاوں کے بچے بالے اس تازہ گڑ سے دعوتیں اڑاتے اور پھر اس گڑ سے مرونڈے کے خوان سجتے اور دادی سجرے گڑ اور باجرے اور مکھن کو ملا کے خستہ اور میٹھی باجرے کی روٹیاں بناتی تو ماروی کی مانو عید ہو جاتی، کیونکہ ماروی کو دادی کی بنای ہوی وہ خستہ میٹھی باجرے کی روٹیاں بہت پسند تھیں. وہ خوشی خوشی دادی کے کہنے پہ یہ روٹیاں نہ صرف گاوں والوں میں بانٹتی بلکہ اپنی استانیوں اور سہیلیوں کے لیے سکول بھی لے جاتی. اب اس بات کو ایک زمانہ گزر چکا ہے ماروی بیاہ کے مسی ساگا جا چکی ہے مگر وہ وہاں بھی دیسی سٹور سے باجرے کا آٹا، شکر اور دیسی گھی خرید کے باجرے کی میٹھی روٹیاں بنا کے اپنی دادی کی یاد کو بھی تازہ کرتی ہے اور دو نفل پڑھ کے دادی کی بخشش کی دعا بھی کرتی ہے. آپ سب اپنے اپنے ذائقوں کے دیس میں ہنستے مسکراتے رہیں اور شان سے جیں.
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
drpunnamnaureen@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں