53

’ایوان کا موسم—قانون سازی، سیاست اور چھپی ہوئی جنگیں‘‘

’’ایوان کا موسم—قانون سازی، سیاست اور چھپی ہوئی جنگیں‘‘

قومی سیاست کے موسم کبھی ایک جیسے نہیں رہتے۔ کبھی ایوان میں خاموشی دراڑوں کی طرح پھیلی ہوتی ہے، کبھی بحث ایسے بھڑکتی ہے کہ پورا ملک دھواں دھواں سا محسوس ہونے لگتا ہے۔ پچھلے چند ہفتوں میں ہونے والی پارلیمانی سرگرمیوں نے ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار کر دی ہے کہ پاکستان کی سیاست سیدھی سڑک نہیں— ایک گھماؤ دار گلی ہے جس کے ہر موڑ پر نئی حکمت، نیا تعطل اور نئی سودے بازی چھپی ہوتی ہے۔

سینیٹ کے حالیہ اجلاس نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ ایوانِ بالا میں پیش ہونے والے ترمیمی بلز کو بظاہر تکنیکی اور انتظامی قرار دیا جا رہا ہے، مگر ان کے پیچھے سیاسی قوتوں کی چھپی ہوئی مہم جوئی صاف نظر آتی ہے۔ ہمارے ہاں قانون سازی صرف قوانین کی بہتری کا عمل نہیں، یہ طاقت کے توازن کی ایک خاموش جنگ بھی ہے۔ ہر ترمیم کسی نہ کسی گروہ کی جیت، اور کسی دوسرے گروہ کی شکست بن جاتی ہے۔

ملک میں اس وقت جو سب سے بڑا تنازعہ زیرِ بحث ہے وہ ’’فیک نیوز‘‘ کے سدباب سے متعلق سخت قوانین کی تیاری ہے۔ حکومت اسے ’’ریاست کا دفاع‘‘ کہتی ہے، جبکہ اپوزیشن اسے ’’اظہارِ رائے پر قدغن‘‘ قرار دے رہی ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں میں جو مکالمہ ہوا، اس نے واضح کر دیا کہ مسئلہ محض جھوٹی خبروں کا نہیں— مسئلہ یہ ہے کہ خبر کی تشخیص کون کرے گا؟ کون طے کرے گا کہ کیا فیک ہے اور کیا تنقید؟ اور سب سے اہم: کیا اس قانون کی آڑ میں سیاسی اختلاف کو بھی جرم بنا دیا جائے گا؟

ایک طرف ریاست کا مؤقف ہے کہ سوشل میڈیا کے سیلاب میں قومی سلامتی، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ پر حملے خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔ دوسری طرف حقوقِ شہری کے علمبردار خوفزدہ ہیں کہ سخت قوانین کا شکنجہ سیاسی آوازوں اور صحافیانہ تنقید کو بھی لپیٹ نہ لے۔ یہی وہ خوف ہے جس نے اس ترمیم کو ایک سادہ قانون سے نکال کر ایک قومی تنازعہ بنا دیا ہے۔

پارلیمانی کمیٹیوں کے اندر ہونے والی بند کمروں کی بحث، لابیوں کے خاموش گروپس، اور پارٹی رہنماؤں کی off-the-record گفتگو بتاتی ہے کہ اصل لڑائی ’’بیانیے‘‘ کی ہے— کون ملک میں سچ کا معیار طے کرے گا؟ کون یہ فیصلہ کرے گا کہ تنقید کب دشمنی بن جاتی ہے؟ اور کون یہ طاقت رکھے گا کہ اختلاف کو گالی کے برابر ثابت کر سکے؟

یہاں ایک تلخ حقیقت بھی ہمارے سامنے آتی ہے: پاکستان کا قانون سازی کا عمل ہمیشہ سے وقت اور دباؤ کے زیرِ اثر رہا ہے۔ جب بھی سیاسی غیر یقینی بڑھتی ہے، قوانین تیزی سے سامنے آتے ہیں۔ جب بھی تنقید بڑھتی ہے، ریاستی ادارے دفاعی پوزیشن لے لیتے ہیں۔ اور جب بھی حکومتیں خود کو کمزور محسوس کرتی ہیں، قوانین کا ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے— کبھی اظہارِ رائے کے خلاف، کبھی سیاسی جماعتوں کے خلاف، کبھی تنظیموں کے خلاف۔

سینیٹ میں زیرِ بحث دیگر بلز بھی اسی بڑے منظرنامے کا حصہ ہیں:
— عدالتی اصلاحات،
— انتخابی ضابطہ اخلاق،
— سوشل میڈیا ریگولیشن،
— اور سول سروس کے نئے ضوابط۔

یہ سب بظاہر مختلف عنوانات ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ایک ہی شطرنج کا حصہ ہیں— وہ شطرنج جس میں ہر مہرہ ایک سیاسی ترجیح کی نمائندگی کرتا ہے۔

آج کا پاکستان سیاسی طور پر تقسیم کا شکار ہے، اور یہی تقسیم قانون سازی کو بھی دو حصوں میں بانٹ دیتی ہے۔ ایک طرف حکومت جسے طاقتور قوانین چاہیے، دوسری طرف اپوزیشن جسے کھلی ہوا میں سانس لینے کے لیے جگہ چاہیے۔ اور درمیان میں عوام، جو ہر ترمیم کے بوجھ سے کچھ اور دب جاتے ہیں— کبھی مہنگائی، کبھی پابندی، کبھی نئے ضابطوں کے نام پر۔

پارلیمنٹ کے اندر ہونے والی کشمکش ہمیں یہ بھی بتا رہی ہے کہ ملک کی سیاسی و قانونی سمت ابھی تک واضح نہیں۔ نہ حکومت کا وژن مستحکم ہے، نہ اپوزیشن کا مؤقف متحد۔ ایسے میں قوانین کی اہمیت اپنی جگہ مگر ان کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ پاکستان میں کوئی بھی قانون اس وقت تک مؤثر نہیں ہوتا جب تک سیاسی قوتیں اس کے پیچھے کھڑی نہ ہوں۔

آج ہمیں سب سے بڑھ کر جس چیز کی ضرورت ہے وہ ’’قانون سازی کا اعتماد‘‘ ہے— یعنی عوام کو یہ احساس ہو کہ قوانین ان کے خلاف نہیں، ان کے لیے بن رہے ہیں؛ کہ یہ ریاست کی طاقت بڑھانے کے لیے نہیں، عوام کو مضبوط بنانے کے لیے ہیں؛ اور یہ کہ کوئی بھی ترمیم کسی بھی گروہ کے مفاد کی پٹاری نہیں۔

لیکن افسوس کہ پاکستانی سیاست میں یہ خواب ابھی دور ہے۔

اور تب تک…
ایوان میں موسم بدلتا رہے گا،
قوانین پیش ہوتے رہیں گے،
بحثیں چلتی رہیں گی،
اور عوام سوچتے رہیں گے—
کہ اس سیاسی جنگ میں ان کا فائدہ کب آئے گا؟

یا پھر آئے گا بھی… یا نہیں؟

@@@@@@@@@@@@

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں