11

افسانہ عنوان. لیٹ فیس تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور

افسانہ
عنوان. لیٹ فیس
تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
میں ایک پندرہ سالہ لڑکا،جس کا سارا غرور اور مان اس کی ذہانت؀بھری آنکھوں میں آن؀چھپا تھا……… کچھ ایسا تھا ان آنکھوں کے نین کٹوروں میں جو ان دو آنکھوں کو ساری دنیا سے ممتاز کرتا تھا.ذہانت سے بھری انکھیں تھیں مگر کیا اکیلی ذہانت بھوکے پیٹ کے دوزخ کو بھر سکتی ہے???/??
کیا کسی حسینہ کا دلربا حسن پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے کافی ہوتا ہے…….??
یا پھر کسی پابند سلاسل کا صبر اس کے پیٹ میں بھڑکٹے بھوک کے دوزخ کی آگ کو ٹھنڈا کر سکتا ہے…..
بھوک کا عذاب وہ جان لیوا عذاب ہے جس کے شعلے گذرتے وقت کے ساتھ بجاے مدھم ہونے کے مزید آگ پکڑتے ہیں……………… ؀
اور میں ایک نحیف و نزار،منحنی سا یتیم؀لڑکا جس کا باپ انتڑیوں کی ٹی بی کا شکار ہو کر کیئ ماہ کی اذیت میں سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کے بے رحم اور سنگدلانہ رویوں کا شکار ہو کے ایک صبح،سورج کی پہلی پو،پھو ٹنے سے پہلے ہی اپنی بیوی اور بیٹے کو داغ مفارقت دے چکا تھا….. داغ مفارقت، مانو بے شمار بیمایوں،اذیتوں اورآزمایشوں سے گزر کر بالآخر موت کی مہربان پناہوں میں جا سویا تھا،اس پندرہ سالہ لڑکے کی اذیت،بے بسی اور محرومی کوی کیا جانے??????جس کے نام کے ساتھ اور؀کیی محرومیوں کے ساتھ ساتھ یتیمی جیسی محرومی کے عذاب کا بھی اضافہ ہو چکا تھاا مگر میں اس محرومی کے ذایقے سے خوب آشنا تھااور اسے اپنے لکھے کا نصیبا بھی دل ہی دل میں مان چکا تھا،بھوکے پیٹ سونے کی اذیت کا عادی جسم کبھی کبھی ایسے مقام پہ اپنی ازلی محرومی کو ماننے سے منکر ہو جاتا ہے،جیسے کوی نسلی گھوڑا کسی انجان سوار کو دیکھ کے اینویں ہی اپنے نسلی پن کے ثبوت پہ مہر ثبت کرنے کے لیے تیور دکھانے کو اپنا پیدایشی حق سمجھ کے خوب استعمال کرتا ہے.تو میں پیدایشی محروم اس دن اینویں ای اپنی اوقات بھول بیٹھا اور ٹیوشن والے ماسٹر صاحب نے جب ٹیوشن فیس کا تقاضا کیا تو بجاے سر نیہواڑے،عاجزی و انکساری سے گھگھیاتے ہوے میں غلامانہ پست آواز میں اپنی بوڑھی بیمار ماں کی بیماری کی داستان سناتا،اس کی طویل بیماری پہ اس کی نوکری سے بر طرفی کا قصہ بیان کرتا،میری بھوک کے جزیرے میں دوہائ دیتی آنتیں اور Hypoglycemia سے چکراتا ہوا سر اس سماج،اس نظام اور دوہرے معیار کے سا منے پیادہ پا ہی سیسہ پلای ہوی دیوار بن گییے تھے مگر سب جھوٹ تھا مجھے تو اتنا پتا تھا؀کہ مہینے کی دس کو اگر ماسٹر اللہ دتا کو فیس نہ ملے تو وہ اگلے ہی پل اس کے لیے انسان سے حیوان بن جانا فرض سمجھتا تھا اور لیٹ فیس والے طالبعلم کے لیے گالیاں،صلواتیں،گھونسے اور دھکے لازم وملزوم ہو جاتے تھے. تو گھر میں چونکہ نوبت فاقوں تک پہنچ چکی تھی،ماسٹر اللہ دتا صاحب کو فیس کی ادائ میں کیسے کرتا????? تو میری بدبختی اور علم کی چاہ مجھے بھوکے پیٹ اور خالی ہاتھ ماسٹر اللہ دتا کے سامنے لے آئ،ماسٹر صاحب چکن کڑاہی کے ساتھ
تندوری روٹیاں تناول فرما رہے تھے،دو طالب علم دیوار کی طرف منہ کر کے پڑھ رہے تھے اور دو مرغے بنے ہوے تھے،اس مضحکہ خیز ماحول میں میری آمد نے جلتی پہ تیل کا کام کیا،ماسٹر صاحب رجے پیٹ کے ساتھ بھی بھوکے شیر کی دھاڑ کے ساتھ بولے،امتل فیس لے کر آۓ ہو تو بیٹھنا ورنہ الٹے پاوں لوٹ جا اور واپس تب آنا جب تیرے ہاتھ میں فیس کے پیسے ہوے،دیوار کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوے اور مرغے بنے ہوے لڑکے ،چاروں ہی مجھ سے بہتر تھے کہ وہ فیس دے چکے تھے،احساس توہین سے میرا منہ لال ہو گیا،بھوکے پیٹ اور خالی جیب نے مجھے واقعی میں رونے پہ مجبور کر دیا تھا،میں آنسو پیتا اور دل ہی دل میں اس وقت کو کوستا ہوا گھر کی طرف چل پڑا،چونکہ آنکھیں آنسووں سے تر تھیں تو سامنے پڑے اینٹوں کے ڈھیر سے ٹھوکر کھا کے پشت کے بل گر کے اٹھنے کی تگ و دو میں لگا ہی ہوا تھا کہ ایک تیز رفتار باییک میری بایں ٹانگ کو توڑتی ہوئ اڑن چھو ہو گیئ،میری آہ و پکار سن کر محلے والوں نے 115پہ کال کر کے مجھے سرکاری ہسپتال کی ایمر جنسی میں بھیج دیا،بایں ٹانگ کی Tibia اور Fibula دونوں ٹوٹ چکی تھیں،کمپاونڈ فریکچر تھا فورا آپریشن کیا گیا اگلے دن جب مجھے ہوش آیا تو میری ہمسائ ثمن خالہ مجھ پہ جھکی ہوی نما نما رو رہی تھیں،درد کی ٹیسیں شدید تھیں پر میں نے ثمن خالہ سے پہلا سوال اپنی بیمار ماں کی بابت کیا تھا،میرے اس سوال پہ ثمن خالہ نے بتایا کہ میری ماں تو میرے ایکسڈنٹ سے بھی پہلے مر چکی تھی…………..
اس بے بسی میں، میں نے شدت سے مر جانے کی خواہش کی………………. لیکن انسانوں کی بے بسی اس حقیقت کی چشم دید گواہ ھے کہ بے نام خواہشیں اور نہ پورے ہونےوالے خواب سانسوں کی آنی جانی کے ساتھ بھی مکمل موت ہی ہوتے ہیں.پھر…………… ؀؀میں کیسے صحت یاب ہوا،کیسے تعلیمی مدارج طے کرتا ہوا ایک بڑے تعلیمی ادارے کا ڈایریکٹر بنا اور کیسے میں نے ان؀بچوں کے لیے میٹرک تک فری ایجوکیشن کروائ جہاں غربت ابھی بھی بھنگڑے ڈالتی تھی اور محنت کش ہاتھوں میں روپے نہیں چھالے ہی چھالے تھے……
میں نے کوشش کی کہ استادوں کو ان کا مرتبہ، عزت سے ملے وہ فیس یا لیٹ فیس کے جھنجھٹ میں پڑ کے میرے جیسے غریبوں کے مظلوم بچوں کی یوں ٹذلیل نہ کریں جیسی اس دن ماسٹر اللہ دتا نے میری کی تھی اور میں زندگی اور موت کے دھانے پہ اپنی ماں کا نہ ہی آخری دیدار کر پایا نہ ہی اس پیاری کے آخری سفر میں شرکت کر پایا…..
کیا کرتا??????
ماسٹر اللہ دتا کی؀فیس جو لیٹ ہو گیی تھی..اور ماسٹروں کو اس سے کیا لینا دینا کہ ان کے شاگرد بھلے یتیم ہوں…….. ؀
بھلے خالی جیب ہوں….
پھلے ان کے پیٹ میں بھوک بھنگڑے ڈالے بیٹھی ہو…..
بھلے شاگرد کی بیمار ماں آخری سانسوں پہ ہو….. ؀
ماسٹر صاحب کی فیس کسی بھی صورت اور کسی بھی قیمت پہ لیٹ نہیں ہونی چاہیے…….. ؀
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
Naureendrpunnam@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں