قربانی کا حقیقی مقصد
تحریر: اللہ نواز خان
allahnawazk012@gmail.com
قربانی کا مقصد یہ نہیں کہ جانور ذبح کر دیےجائیں اور ان کا گوشت کھا لیا جائے،بلکہ اصل مقصد یہ ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے اپنی انا،ذاتی خواہشات اور مال کی محبت کو قربان کر دیا جائے۔قرآن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا ذکر کیا گیا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب سیا کہ وہ اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کر رہے ہیں۔قرآن میں ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کو اس طرح بیان کیا گیا ہے۔”اے میرے پروردگار مجھ کو نیک بیٹا عطا فرما. پس ہم نے ان کو ایک بردبار بیٹے کی بشارت دی،پھر جب وہ(اسماعیل) ان کے ساتھ دوڑنے کی عمر کو پہنچاتو(ابراہیم علیہ السلام) نے کہا.اے میرے بیٹے میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں،اب تو سوچ تیرا کیا خیال ہے؟اس نے کہا’اے میرے ابا! آپ وہی کیجیے جس کا آپ کو حکم دیا جا رہا ہے۔اگر اللہ نے چاہا توآپ مجھے صابر پائیں گے۔پھر جب دونوں (باپ بیٹا) نے حکم مان لیا اور باپ نے اسے پیشانی کے بل لٹا دیا. تو ہم نے اسے پکارا،اے ابراہیم! تو نے خواب کو سچ کر دکھایا’ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں. بے شک یہ کھلا ہوا (اور واضح) امتحان تھا. اور ہم نے بڑے ذبیحہ (جانور) کے ساتھ اس (اسماعیل) کافدیہ دے دیا اور ہم نے بعد میں آنے والوں میں اس کو باقی رکھا. (الصفات100.107) قرآن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو امتحان میں کامیاب کہا گیا ہے۔ابراہیم علیہ السلام پر آزمائش آئی کہ وہ اپنا بیٹا ذبح کریں۔یہ بہت بڑی ازمائش تھی لیکن ابراہیم علیہ السلام اس ازمائش میں کامیاب ہو گئے۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے بھی آزمائش تھی،لیکن وہ بغیر پس و پیش کے اللہ کی راہ میں قربان ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔کتنا عظیم واقعہ ہے کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہا ہے۔دونوں کے لیے ایک بہت بڑا امتحان تھا،جس میں دونوں باپ بیٹے کامیاب ہو گئے۔اللہ تعالی نے ان کی اس قربانی کو پسند کیا اور ان کا ذکر انے والوں کے لیے باقی رکھ دیا۔تمام مسلمان ہر سال اس عظیم الشان قربانی کی یاد مناتے ہیں۔یہ قربانی قیامت تک قائم رہے گی اور قیامت تک ان باپ بیٹے کا ذکر ہوتا رہے گا۔
جانوروں کی قربانی کا بنیادی مقصد گوشت کھانا یا کھلانا نہیں بلکہ تقوی اور اللہ تعالی کے حکم کی اطاعت ہے۔اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ قربانی گوشت کے حصول کے لیے کی جا رہی ہے،تو یہ انتہائی غلط بات ہے۔اللہ تعالی نے واضح ارشاد فرما دیا ہے”اللہ تک ان(جانوروں) کا گوشت نہیں پہنچتا اور نہ خون،بلکہ اس تک تمہارا تقوی پہنچتا ہے”(سورۃ الحج. 37) قربانی کے واقعہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کی اطاعت اوراس کے حکم پر عمل کرتے ہوئے نظراتے ہیں،دوسری طرف حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ایثار اور صبر نظر آتا ہے۔یہ بہت ہی عظیم صبر تھاکہ ایک لڑکا اپنےآپ کو ذبح کروانے کے لیے پیش کر دے اور مقصد یہ ہو کہ اللہ کی اطاعت کی جائے۔قربانی کا سبق بھی یہی ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے مال،دولت اور جان سمیت کسی چیز کی پرواہ نہ کی جائے۔قربانی کی اسلام میں بہت اہمیت بیان کی گئی ہے۔قرآن میں ایک جگہ پر ذکر کیا گیا ہے”سو اپنے رب کے لیے نماز پڑھا کر اور قربانی دیا کر”(سورۃ الکوثر.2) قربانی دیتے وقت اللہ کی خوشنودی کو مدنظر رکھا جائے۔دکھاوے کے لیے اگر قربانی کی جائے تو وہ فائدہ مند نہیں ہوتی۔ایک حدیث کے مطابق’ اللہ تمہارے جسموں اور تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے،(مسلم) اللہ تعالی یہ دیکھتا ہے کہ کس نیت سے قربانی دی جا رہی ہے۔قربانی کی ادائیگی اس نیت سے کی جائے کہ یہ اللہ کا حکم ہے،تب ہی کامیابی ملتی ہے۔قربانی نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے۔ایک حدیث کے مطابق”جس کو قربانی دینے کی گنجائش ہو اور وہ قربانی نہ دے تو وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے”(ابن ماجہ) قربانی کے بھی ایام متعین ہیں،ان کے علاوہ قربانی نہیں دی جا سکتی لیکن صدقہ یا خیرات دیے جا سکتے ہیں۔قربانی اسلامی مہینےذوالحجہ کی11،10 اور 12 تاریخ کو دی جاتی ہے۔
قربانی پر بہت سے ملحدین یا غیر مسلم اعتراض کرتے ہیں کہ یہ ایک رسم ہے،اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ان کا یہ کہنا ہوتا ہے کہ کثیر سرمایہ ضائع ہوتا ہے۔بے تحاشہ جانور ذبح کر دیے جاتے ہیں،ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مساکین،بیواؤں اور یتیموں کی اس سرمایہ سے کفالت کی جا سکتی ہے۔اس سرمائے سے غربت بھی ختم ہو سکتی ہے۔ان کی اس قسم کی غیر معقول دلیلوں سے بہت سے افراد متاثر بھی ہو جاتے ہیں۔اگر ان دلیلوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ آسانی سے رد ہو جاتی ہیں۔سب سےپہلے تو یہ کہ قربانی کی ادائیگی کوئی رسم نہیں بلکہ حکم ربی ہے۔اسلام میں بہت سے احکامات سر انجام دیے جاتے ہیں اور ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اللہ کی خوشنودی حاصل کی جائے۔کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں غربت نہیں تھی؟اس وقت بھی غربت تھی لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی قربانی دی اور دوسرے مسلمانوں کو بھی قربانی ادا کرنے کا حکم دیا۔موجودہ دور کے زمانے اور اس زمانے کی غربت کا جائزہ لیا جائے تو بہت بڑا فرق نظرآ جاتا ہے۔اس طرح کے اعتراضات حج پر بھی کیے جاتے ہیں،لیکن حج ایک اہم فریضہ ہے۔جانور ذبح کیے جا رہے ہیں،لیکن پھر بھی حلال جانور زیادہ نظر اتے ہیں۔مساکین،بیواؤں یا یتیموں کے لیے اسلام نے زکوۃ اور صدقہ و خیرات کا حکم دیا ہے۔صدقہ وخیرات کے ذریعے بھی مجبوروں کی مدد کی جا سکتی ہے۔جس طرح کہا جاتا ہے کہ سرمایہ ضائع ہو رہا ہے،اس میں کوئی حقیقت نہیں۔قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت سے سرمایہ گردش میں رہتا ہے۔بے شمار افراد قربانی کے جانور پال کر اپنی زندگیاں گزر بسر کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ قربانی صاحب استطاعت پر واجب ہے۔جانور پالے جاتے ہیں،ان کو منڈی تک فروخت کرنے کے لیےلایا جاتا ہے اور اس طرح کمائی کی جاتی ہے۔بہت سے خاندان صرف قربانی کے جانوروں کی وجہ سے خوشحال زندگی گزارتے ہیں۔جانوروں کو چمڑا بھی فروخت ہوتا ہے اور یہ بہت بڑی انڈسٹری بن گیا ہے۔چمڑے سے کئی قسم کی مصنوعات تیار ہوتی ہیں اور یہ مصنوعات فیکٹریوں میں تیار ہوتی ہیں،اس طرح بے شمار افراد اس انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔بہتر منصوبہ بندی سے غربت میں خاتمہ ہو سکتا ہے،صرف قربانی ادا نہ کرنے کی وجہ سے غربت ختم نہیں ہوگی۔مسلمان اگر سرمایہ فضولیات پر خرچ کریں تو کسی کو تکلیف نہیں ہوتی لیکن قربانی کی وجہ سے بہت سےلوگوں کی تکلیف بڑھ جاتی ہے۔ان کا مقصد غربت کا خاتمہ نہیں ہوتا بلکہ قربانی سے روکنا ہوتا ہے۔قربانی کا ایک یہ فائدہ بھی ہوتا ہے کہ گوشت ان لوگوں تک بھی پہنچ جاتا ہے جو غربت کی وجہ سے گوشت خریدنے سے قاصر ہوتے ہیں۔اس لیے قربانی کی ادائیگی کی جائے،اس کا کوئی نقصان نہیں لیکن فائدے بے شمار ہیں۔
ٹھٹھہ: ڈ ر عبدالعزیز شیخ ایم کیو ایم پاکستان ضلع ٹھٹھہ کے سینئر جوائنٹ انچارج محمد جنید صدیقی نے کہا ہے کہ 28 مئی کا دن
ٹھٹھہ: گھارو میں عید کے دن لاشاری ہوٹل کے عقب والی گلی سے دن دہاڑے زیرو میٹر سی ڈی 70 موٹر سائیکل چوری ہونے کا واقعہ پیش آیا، جہاں نامعلوم
رپوٹ عبدالعزیز شیخ ايوان صحافت پريس ڪلب ٺٽو جي وفد صدر علي اڪبر دلواڻي جي اڳواڻي ۾ پاڪستان پيپلز پارٽي ضلعي
سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کے سرحد پار دہشت گردی کے الزامات مسترد
ٹھٹھہ، ڈ ر عبدالعزیزشیخ عیدالاضحیٰ کے موقع پر عوامی خدمت انجام دینے والے اداروں کے اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے ڈپٹی