14

چنے سے معاشی استحکام حاصل ہو سکتا ہے۔ تحریر: اللہ نواز خان

چنے سے معاشی استحکام حاصل ہو سکتا ہے۔
تحریر: اللہ نواز خان
allahnawazk012@gmail.com
پاکستان میں مختلف قسم کی فصلیں کاشت ہوتی ہیں اوران فصلوں میں چنا بھی خاص اہمیت کاحامل ہے۔چنے کی فصل خشک موسم میں بھی بہتر پیداوار دے سکتی ہے۔اس فصل پر اگرزیادہ توجہ دی جائے تویہ پاکستان کی معیشت کو بہترکر سکتی ہے۔پاکستان میں اس کی طلب زیادہ ہے،اس کی پیداوار میں اضافہ کر کے غذائی تحفظ اور روزگار میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔چنے کی فصل زمین کی زرخیزی بھی بڑھاتی ہے اور اگلی فصل کےلیے کھاد کی ضرورت کو بھی کم کر دیتی ہے۔انڈیا،مشرق وسطی،ایتھوپیا،عرب ممالک کے علاوہ کئی دوسرے ممالک میں بھی اس کی طلب بہت زیادہ ہے۔پاکستان میں چنے کی دال کا سالن بہت ہی مشہور ڈش ہے۔چاولوں میں بھی چنا استعمال ہوتا ہے اور پکوڑے بھی چنے کےآٹے سے بنائے جاتے ہیں۔چنے بھون کر بھی کھائے جاتے ہیں۔سردیوں میں بھنے ہوئے چنے کا استعمال بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔جانور بھی کھاتے ہیں،جس سے ان کی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے۔چنے کی فصل جب اگتی ہے تو اس کی نرم کونپلیں بھی بہت شوق سے کھائی جاتی ہیں۔دیہاتوں میں تو خصوصا چنے کی فصل کی نرم کونپلوں سے چٹنی اور ساگ کا سالن بنایا جاتا ہے۔چنا برآمد کر کے زر مبادلہ کمایا جا سکتا ہے لیکن حکومتی توجہ نہ ہونے کی وجہ سے زر مبادلہ کمانا مشکل ہے۔اگر اس کی پیداوار زیادہ ہو تو بےروزگاری میں بھی کمی ہوگی۔اس کی فصل کے پراسس کے لیے مزدوروں کی ضرورت ہوتی ہے،یوں بےروزگاری کم ہو جائے گی۔
چنے کی فصل اگر زرعی اصولوں کے مطابق کاشت کی جائے تو اس سے بہت سا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔بارانی علاقوں میں اس کی کاشت کابہتروقت وسط اکتوبر سے لے کر وسط نومبر تک ہے۔بہتر پیداوار کے لیے وقت پر کاشت کرنا ضروری ہے۔اس کی کاشت کے لیے چھٹے کی بجائے ڈرل کا طریقہ استعمال کرنا چاہیے۔چنے کی قطاروں میں ایک سے ڈیڑھ فٹ تک وقفہ ہونا بہتر ہے۔اس کی فصل کو نائٹروجن کی نسبت فاسفورس کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔زنک اور سلفر کے استعمال سے بھی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔زیادہ پیدوار کے لیے جڑی بوٹیاں تلف کر دینی چاہیے۔جڑی بوٹیوں کو تلف کرنے کے لیے زرعی ماہرین سےمشاورت کر کے ادویات کا سپرے کیا جائے۔اگر پانی دستیاب ہو تو پہلا پانی پھول آنے سے پہلے اور دوسرا پانی پھول آنے کے مرحلے پر لگانا چاہیے۔زیادہ پانی بھی نقصان دہ ہے،کیونکہ اگر پانی کھڑا رہے تو چنے کی فصل کو نقصان پہنچتا ہے اور اس فصل کو زیادہ نمی بھی برداشت نہیں ہوتی۔چنے کی فصل پر دیمک،امریکن سنڈی اور مرجھاؤ کی بیماری کا حملہ بھی ہوتا ہے۔دیمک یاد دیگر نقصان دہ کیڑوں کو مارنے اور مرجھاؤ کی بیماری سے بچانے کے لیے زرعی ماہرین سے مشورہ کر کے ادویات کا سپرے کیا جائے۔جن علاقوں میں پانی نہیں ہے وہاں خصوصی طور پر چنے کی فصل کاشت کی جائے۔
پاکستان زرعی ملک ہونے کی باوجود بھی ہر سال دالیں اور خوردنی تیل درآمد کرتا ہے،اس طرح اربوں ڈالر کا کثیرزر مبادلہ خرچ ہو جاتا ہے۔مقامی طور پر چنے کی پیداوار میں اضافہ کیا جائے تو قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکتا ہے۔اگر پیداواربڑھاکر برآمدات میں اضافہ کر دیا جائے تو کافی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔چنے میں پروٹین بھی زیادہ ہوتی ہے اور اس کو گوشت کے متبادل کے طور پر بطور غذا استعمال کیا جا سکتا ہے۔حکومت کسانوں کو خصوصی سبسڈی دے،تاکہ چنے کی فصل کو زیادہ سے زیادہ کاشت کیاجائے۔جدید زرعی طریقے اور بہتر بیج کے ذریعے چنے کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔اگر چنے کی فصل بیماریوں کا شکار ہو جائے تو کسان کو خسارہ اٹھانا پڑتا ہے۔پیداوار میں کمی سے مارکیٹ میں چنے کی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔درآمد کر کے قلت کو پورا کیاجاتا ہے جس سے مہنگائی کا تناسب بڑھ جاتا ہے۔معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ چنے کی پیداوار میں اضافہ کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں