56

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک* عنوان: ”بنوں گل“ *کالمکار: جاوید صدیقی*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

عنوان: ”بنوں گل“

*کالمکار: جاوید صدیقی*

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے انتہائی حساس علاقے بنوں کے متعلق آج میں کالم اپنے معزز قارئین کی خدمت میں پیش کررھا ھوں حقیقت اور تحقیقی مواد کیلئے ضروری تھا کہ میں خود جاکر وہاں کے حالات و واقعات اور تجزیاتی و تحقیقائی مشاہدہ و تجربات سے گزروں لیکن فی الوقت میرے لئے ممکن نہ تھا لیکن پھر مجھے ایسا ہی بنوں کا پڑھا لکھا سمجھدار باشعور مدلل رہائشی درکار تھا جو میرے کالم کیلئے حقائق پر مبنی مواد بھیج سکے اس سلسلے میں ہمارے ایک دوست ساتھی اینکر نے بنوں ہیی کی رہائشی پڑھی لکھی ماس کمیونیکیشن کی طالبہ اقراء آئینِ غلام کی تحریر شیئر کی جو اس کالم کی زینت ھے۔ وہ لکھتی ہیں کہ آپ میں سے بہت سے لوگ بنوں کو جانتے ہوں گے، جو ”بنوں گل“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ پر جو لوگ نہیں جانتے میں ان سب لوگوں کو بتا دوں کہ بنوں ایک تاریخی شہر ہے، جو اپنی زراعت ثقافت اور مقامی روایات کے لیے مشہور ہے۔ یہاں کی معیشت میں زراعت کا بڑا اہم کردار ہے اور یہ علاقے کے لیے ایک تجارتی مرکز بھی ہے۔ آج میں بنوں کے بارے میں ہی بات کروں گی اور آج میں آپ سب کو بنوں گل کے حالات کے بارے میں بتاؤں گی۔ کہ ہمارے بنوں گل کو روز بروز آن بم دھماکوں نے کیسے اب بنوں کو ایک عذاب بنا دیا ہے ہمارے بنوں گل کو روز بہ روز ان بم دھماکوں نے جیسے ایک عذاب میں مبتلا کر دیا ہے۔ اب تو حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ آئے دن شہر کے کسی نہ کسی کونے سے دھماکے کی خبر آ جاتی ہے، جس نے ہر طرف خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ ابھی حال ہی میں ہمارے بنوں کلا میں دو شدید دهماکے ہوئے، چھ جنوری کو ایک دل دہلا دینے والا دھماکا ہوا اور پھر سترہ جنوری کو ایک اور افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ سنہ 2026ء کے دھماکے نے نہ صرف مالی نقصان پہنچایا بلکہ قیمتی جانیں بھی لے لیں۔ ان واقعات کی وجہ سے لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے جس کے باعث اب ہمارے بنوں میں زندگی گزارنا مشکل ہورہا ہے اور اسی طرح سنہ 2025ء کو رمضان کے دوسرے عشرے میں ایک نہیں بلکہ دو زوردار دھماکے ہوئے۔ اس وقت رمضان کے روزے تھے اور افطاری کا وقت قریب تھا۔ جس وقت لوگ افطاری کی تیاریوں میں مصروف تھے کسی کے ہاتھ میں کھجور تھی تو کسی کے ہاتھ میں پانی کا گلاس کوئی افطاری کے لیے دودھ لینے نکلا تھا تو کوئی شربت لیے گھر کی طرف گامزن تھا۔ ہر کوئی اپنی ہی دھن میں تھا کہ اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوا اور پھر تھوڑی ہی دیر میں دوسرا دھماکہ اس قیامت خیز منظر میں مالی نقصان تو ہوا ہی لیکن جانی نقصان اتنا شدید تھا کہ جس کی تلافی کبھی ممکن نہیں وہ منظر دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ہر طرف چیخ و پکار تھی لوگ اپنوں کو ڈھونڈتے ہوئے تھک گئے تھے۔ جب تدفین کا وقت آیا تو آنکھ اشکبار تھی اور لوگ ایک دوسرے کو دلاسہ دیتے ہوئے دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ میں ان بہادر لوگوں کو سلام پیش کرتی ہوں جو اس مشکل وقت میں بھی بنوں میں موجود ہیں اور اتنے سنگین حالات کے باوجود اپنے شہر کو چھوڑ کر نہیں گئے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، میں گزشتہ کئی سالوں سے کراچی میں مقیم ہوں۔ الحمدللہ، ہم یہاں بہت خوش ہیں لیکن سال میں ایک دو بار اپنے آبائی شہر ضرور جاتے ہیں اور وہاں جا کر بہت اچھا لگتا ہے اور واپس آنے کا تو دل ہی نہیں کرتا پر کیا کریں ہم پردیسی ہیں۔ نہ آنا پڑتا ہے۔ اور ہاں دیکھا جائے تو یہ تو کچھ سالوں پہلے کی بات تھی اب تو ہمیں بنوں جانے سے تھوڑا ڈر لگتا ہے کیونکہ پچھلے کچھ سالوں سے بنوں گل کو ان بم دھماکوں نے عذاب بنا دیا ہے۔ آج کل بدامنی اور دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے یہاں امن و امان کی صورتحال اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ دھماکے، ٹارگٹ کلنگ اور اغوا برائے تاوان روز کا معمول بن چکے ہیں۔
*سیکیورٹی کی صورتحال اور فورسز کا کردار*
بنوں کی جغرافیائی اہمیت اور سرحدی علاقوں سے نزدیکی کی وجہ سے یہ شرپسند عناصر کے نشانے پر رہتا ہے۔ ایف سی اور پولیس فرنٹیئر کونسٹیبلری اور مقامی پولیس فرنٹ لائن پر لڑ رہی ہے۔ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر کڑے پہرے کے باوجود دہشت گرد چھپ کر وار کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ پاک فوج کی کارروائیاں پاک فوج نے کئی انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے ہیں لیکن گنجان آباد علاقوں اور دور افتادہ پہاڑی سلسلوں کی وجہ سے دہشت گردی کی جڑوں کو مکمل طور پر اکھاڑنا ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
*بدامنی کے اثرات*
روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے دھماکوں اور حملوں نے عوامی زندگی کو مفلوج کر دیا ہے:
جانی نقصان معصوم شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادتوں سے سینکڑوں خاندان اجڑ چکے ہیں۔
*نفسیاتی خوف*
ہر وقت دھماکے کے ڈر نے بچوں اور بڑوں میں ذہنی تناؤ اور خوف پیدا کر دیا ہے۔
*معیشت کی تباہی*
مسلسل کرفیو جیسی صورتحال اور خوف کے باعث کاروبار زندگی ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔
*چیلنجز*
کنٹرول کیوں نہیں ہو پا رہا؟ آپ کے اٹھائے گئے سوال کے مطابق، فورسز کی موجودگی
کے باوجود کنٹرول میں مشکل کی چند بڑی وجوہات یہ ہیں:
*سرحدی پیچیدگیاں:* قریبی قبائلی اضلاع اور سرحد پار سے دہشت گردوں کی نقل و حرکت۔
*مقامی تعاون کی ضرورت:* دہشت گردوں کا آبادی میں چھپ جانا، جس کی وجہ سے فورسز کے لیے کارروائی مشکل ہو جاتی ہے۔
*جدید ہتھیار:* شرپسند عناصر کے پاس جدید ٹیکنالوجی اور نیٹ ورک کا ہونا۔
*حل کی طرف قدم*
صرف فوجی طاقت اس مسئلے کا واحد حل نہیں ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ:
انٹیلی جنس کے نظام کو مزید جدید اور مقامی لوگوں کے تعاون سے مضبوط بنایا جائے۔ بنوں کے نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جائے تاکہ وہ کسی منفی پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں۔ سیاسی قیادت اور عوام کو مل کر امن کے لیے آواز اٹھانی ہوگی، جیسا کہ حالیہ “بنوں امن مارچ” میں عوام نے اپنے اتحاد کا ثبوت دیا۔
*نتیجہ*
بنوں پاکستان کا ایک اہم حصہ ہے اور یہاں کا امن پورے ملک کے امن سے جڑا ہے۔ اگرچہ سیکیورٹی فورسز قربانیاں دے رہی ہیں، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ٹھوس اور طویل مدتی حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ بنوں کی گلیوں میں بارود کی بو کے بجائے ایک بار پھر امن کی خوشبو آ سکے
اور ہاں، یہ یہاں پہلے بھی ہوتے پر اتنے نہیں جتنے ابھی ہوتے ہیں۔ اور یہ یاد رکھیں آپ سب کہ وطن زمین کا صرف اور صرف ایک ٹکڑا نہیں بلکہ ہماری شناخت ہے۔ اور یہ سرحدیں تو انسان بناتا ہے۔ اور وطن انسان کی پہچان بناتا ہے۔ پر جب جب میں اپنے بنوں گل کو سوشل میڈیا میں اس طرح دیکھتی ہوں تو میرے دل میں کئی سوال اٹھتے ہیں کہ کیا ہمارے بنوں پر سے بنوں گل بنے گا کیونکہ ہمارے بنوں گل کے بہت سے لوگ بنوں میں اتنا سب ہونے کے بعد بنوں کو چھوڑ کے جا رہے ہیں اور ایک اور سوال
کیا ہمارے معاشرے کے زخموں کا کوئی مداوا نہیں جب کوئی ظلم ہوتا ہے، تو آوازیں تو بہت اٹھتی ہیں، لیکن پھر اچانک سب خاموش کیوں ہو جاتے ہیں شاید اس کی وجہ تعلیم اور شعور کی کمی ہے یاد رکھیں تعلیم صرف ڈگری کا نام نہیں بلکہ صحیح اور غلط کی پہچان کا نام ہے اور جو جانتا نہیں، وہ کبھی سچ کے لیے کھڑا نہیں ہو سکتا
آج ہمارے ملک میں دکھاوا تکبر اور غرور عام ہے لیکن معاشرے کی اصل بنیاد عاجزی ہے۔ ہم صرف حادثوں پر شور مچاتے ہیں، چند دن احتجاج کرتے ہیں اور پھر مصلحت کی چادر اوڑھ کر سو جاتے ہیں۔ یہ خاموشی ہی اصل المیہ ہے، کیونکہ جب تک ہم اپنی ذمہ داری نہیں پہچانیں گے، حالات نہیں بدلیں گے۔
صرف پڑھنا کافی نہیں، حالات کو سمجھنا بھی ضروری ہے
حق کے لیے آواز صرف چند دن نہیں، بلکہ ہمیشہ بلند ہونی چاہیے۔ عاجزی اپنائیں تکبر معاشروں کو تباہ کر دیتا ہے، عاجزی ہی ہمیں جوڑ کر رکھ سکتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ”بے شک اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل لیں۔” اور ہاں، اگر ہم سب دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات بھی حاصل کر لیں، تو انشاء اللہ نہ صرف ہماری بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کی زندگی بھی بہت خوبصورت ہو جائے گی، رہی بات ہمارے ملک میں ہونے والے ناخوشگوار واقعات اور دھماکوں کی، تو یہ اس لیے نہیں ہو رہے کہ ہم کچھ کر نہیں سکتے، بلکہ اس لیے ہو رہے ہیں کہ ہم صحیح سوال نہیں اٹھا رہے۔ ہم اپنی آواز وہاں نہیں پہنچا رہے جہاں پہنچانی چاہیے، کیونکہ شاید ہمیں درست طریقے سے سوال کرنا ہی نہیں آتا۔ اور آپ سب جانتے ہیں کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی جدوجہد سے پاکستان حاصل کیا، لیکن وہ کبھی جیل نہیں گئے تھے۔ اس کی اور وجہ یہ تھی کہ انہیں قانون کا علم تھا اور وہ جانتے تھے کہ صحیح وقت پر صحیح سوال کیسے کرنا ہے۔ ان کے پاس علم کی طاقت تھی، جس کی بدولت انہوں نے اپنا مقصد حاصل کیا
خدا کرے کہ میری ارضِ پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے وہ کھلا رہے صدیوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو
خدا کرے کہ میرے ایک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو
خدا کرے کہ میری ارضِ پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو۔۔۔۔ معزز قارئین!! یہ کے پی کے کے علاقے بنوں کی وہ صورتحال اور واضع شکل ھے جو وہاں کا ایک عام رہائشی بھی جانتا ھے سمجھتا ھے اور سوچتا ھے کہ ہندوستان کے ہاتھوں افغانستان جس قدر کھلونا بننا ھوا ھے اسے احساس بھی نہیں کہ اپنے ہی مسلمان ملک وہ بھی احسان کرنے والا اس کے ساتھ غداری اور احسان فراموشی نہ دین مین پسند ھے اور نہ اخللاقیات میں افغان حکومت کو عقل کے ناخن لینے چائیں دوست اور دشمن کی تمیز کرنی چاہئے۔ ایران اسرائیل جنگ میں اسی ہندوستان نے کس طرح ایران کیساتھ بے وفائی اور غداری کی اب بھی آنکھیں نہیں کھولیں گے تو یہ بھارت افغانستان کو کہیں کا نہیں چھوڑے گا۔۔۔۔ !!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں