13

ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانا ضروری ہے۔ تحریر:اللہ نواز خان

ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانا ضروری ہے۔
تحریر:اللہ نواز خان
allahnawazk012@gmail.com
ماحول ایک سنگین خطرے سے دوچار ہو چکا ہے اور وہ ہے ماحولیاتی آلودگی۔قدرتی ماحول میں ایسے نقصان دہ اجزاء شامل ہو جائیں جو ماحول اور جانداروں کی صحت پر منفی اور خطرناک اثرات مرتب کریں،تواس کو ماحولیاتی آلودگی کہتے ہیں۔فضا میں زہریلی گیسیں،گردو غباراور کیمیائی مادے شامل ہوکر قدرتی حالت کو بگاڑ رہے ہیں۔الودہ فضا صحت اور ماحول پرگہرے منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ماحول کو آلودہ کرنے میں انسان خود بھی شامل ہیں۔گاڑیوں،فیکٹریوں کی چمنیوں سے ،کھلے عام کوڑا کرکٹ جلانےاورگھریلو ایندھن کےجلنے سے خارج ہونے والادھواں، ماحول کوآلودہ کر رہا ہے۔تعمیراتی کام کے دوران گردو غبار اور سیمنٹ کے اڑتے ہوئےذرات سے بھی ماحول کو نقصان پہنچ رہاہوتا ہے۔بعض اوقات علم بھی نہیں ہوتا کہ ہم ماحول کو نقصان پہنچا رہے ہیں،جیسے کٹائی کے بعد فصلوں کی باقیات کو آگ لگا دی جاتی ہے اوراس آگ سے خارج ہونے والا دھواں ماحول دشمن ہوتا ہے۔آلودہ ماحول جہاں انسانوں کے لیے خطرناک ہے وہاں دیگر جاندار بھی خطرے کی زد میں آچکے ہیں۔صرف فضا الودہ نہیں ہو رہی بلکہ دریا،سمندر وغیرہ بھی آلودگی کا شکار ہو رہے ہیں۔آبی حیات کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔آلودہ ماحول میں سانس لینے سے کئی قسم کی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ان بیماریوں میں دمہ،کھانسی،دل کی بیماریاں اور سانس کی دیگر بیماریاں شامل ہیں۔خون میں آکسیجن کی فراہمی بھی متاثر ہوتی ہے،جیسے اعصاب،دماغ اور دل کے امراض بڑھ جاتے ہیں۔آنکھیں بھی متاثر ہوتی ہیں اور الرجی جیسی تکلیف کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔صحت کو بہتر رکھنے کے لیے ماحول کا صاف ہونا ضروری ہے۔شور بھی الودگی ہے،اس سے کانوں کا بہرا پن پیدا ہوتا ہے اور نفسیاتی و دماغی امراض بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔
ماحول بہتر بنانے کے لیے ہمیں مل کر کوشش کرنا ہوگی،ورنہ مستقبل میں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ترقی یافتہ ممالک تو بچاؤ کے لیے اقدامات کر رہے ہیں لیکن ترقی پذیر ممالک بہتر بندوبست نہیں کر رہے۔کارخانوں کا دھواں بہت ہی نقصان دہ ہے،اس دھوئیں کو فلٹر کرنا ضروری ہے۔گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں بھی نقصان دہ ہوتا ہے،اسی لیے ضروری ہے کہ ماحول دوست ایندھن استعمال کیا جائے۔گاڑیوں کی فٹنس کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے،کیونکہ پرانی گاڑیاں زیادہ دھواں خارج کرتی ہیں،اس لیے پرانی گاڑیوں کی فٹنس کا خیال رکھا جائے۔فصلوں کی باقیات جلانے سے اجتناب برتا جائے۔فصلوں کی باقیات کو اگر بطورکھاد استعمال کیا جائے تو یہ ماحول کے لیے بھی بہتر ہے اور زمینوں کو بھی طاقت مہیا ہوتی ہے۔زیادہ آگ جلانے سے بھی پرہیز کرنا ضروری ہے،ضروری نہ ہو تو آگ نہ جلائی جائے۔نجی گاڑیوں کی نسبت پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کو ترجیح دے کر ماحول کی آلودگی کم کی جا سکتی ہے۔سائیکل کا سفر بھی بہت ہی بہتر ہےیا ممکن حد تک پیدل چلا جائے۔سائیکل پر سواری کرنےسے یا پیدل چلنے سے ماحول بھی آلودہ نہیں ہوتا اور صحت بھی بہتر رہتی ہے۔کئی قسم کی بیماریاں بہتر ماحول میں رہنے سے ہی ختم ہو جاتی ہیں۔پلاسٹک بھی ماحول دشمن ہے،ضروری ہے کہ پلاسٹک کا خاتمہ کیا جائے۔سب سے زیادہ پلاسٹک شاپرز کی صورت میں استعمال ہوتا ہے،اگر شاپرز کی بجائے عام کاغذ کے بیگ استعمال کر لیے جائیں تو ماحول کو بہتر کرنے میں بہت ہی مدد ملے گی۔پلاسٹک کے برتن بھی بنائے جاتے ہیں،اگر پلاسٹک کے علاوہ دھاتی برتن بنائے اور استعمال کیے جائیں تو یہ ماحول دوست عمل ہوگا۔
زیادہ درخت اگا کر بھی ماحول کو صاف کیا جا سکتا ہے۔درخت زیادہ اگانے کی بجائے کاٹے جا رہے ہیں،جوکہ نقصان دہ عمل ہے۔درختوں کی وجہ سے صاف ہوا میسر ہوتی ہے۔اگر درخت کاٹنا ضروری ہیں تو کاٹ لیے جائیں لیکن بغیر ضرورت کے درختوں کو مت کاٹا جائے۔گھروں میں بھی درخت اگائے جائیں اور جن گھروں میں گنجائش نہ ہو تو چھوٹے پودے ہی اگا لینے چاہیے،چاہے گملوں میں بھی اگا لیے جائیں۔درخت صرف ماحول کو بہتر نہیں بناتے بلکہ دیگر فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔پھلدار درختوں سے پھل کھائے جاسکتے ہیں اور گرمیوں میں درختوں کا سایہ بھی نعمت ہوتا ہے۔شاخیں کاٹ کر چارپائیاں یا دیگر کوئی فرنیچر بنایا جا سکتا ہے۔پھلدار درختوں کا پھل بیچ کر کمائی بھی کی جا سکتی ہے۔صرف ماحول کی بہتری ہی کے لیے درخت اگائے جائیں تو یہ بھی بہتر عمل ہے۔
ترقی پذیر ممالک کی نسبت ترقی یافتہ ممالک زیادہ آلودگی پھیلا رہے ہیں۔ترقی پذیر ممالک میں تو غیر معیاری ایندھن کا استعمال ماحول کو آلودہ کر رہا ہے لیکن ترقی یافتہ ممالک میں صنعتوں کی زیادتی ماحول کو آلودہ کر رہی ہے۔جب ترقی یافتہ ممالک میں صنعتی انقلاب ایا تو بے شمار کارخانے بنے اور اب بھی بن رہے ہیں،ان کارخانوں سے نکلنے والا دھواں ماحول کے لیے شدید خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔فضا میں خارج ہونے والی زہریلی گیسوں میں نصف سے زیادہ حصہ ترقی یافتہ ممالک کا ہے۔ایک اور وجہ بھی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک وسائل کا زیادہ استعمال کرتے ہیں اور وسائل کا زیادہ استعمال ماحول کو الودہ کرتا ہے۔اس لیے ترقی یافتہ ممالک پر ذمہ داری عائد کر دی گئی ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو فنڈ دیں تاکہ ماحولیاتی آلودگی کو کنٹرول کیا جا سکے۔ماحولیاتی آلودگی کم کرنے اور نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیے ترقی یافتہ ممالک پر فنڈ دینے کی ذمہ داری اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے ماحولیاتی تبدیلی (UNFCCC) اور عالمی موسمیاتی کانفرنس(COP) کے تحت عائد کی گئی ہے۔یہ ذمہ داری ترقی یافتہ ممالک پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔2009 میں ترقی یافتہ ممالک نے 100 بلین ڈالرسالانہ دینے کا وعدہ کیا تھا،لیکن 2020 تک وہ ہدف پورا نہ ہو سکا۔صرف 2022 میں ہدف 116 بلین ڈالرز تک پہنچا۔اب یہ ہدف 2035 تک 300 بلین ڈالر سالانہ کا ہے۔یہ رقم بھی کم ہے،کیونکہ اس مشکل پر قابو پانے کے لیےسالانہ 1.3ٹریلین ڈالرز کی ضرورت ہے۔کم آمدنی اور زیادہ ترقی پذیرممالک کو امداد کا حصہ بھی کم ملتا ہے۔یہ فنڈز کم فری ہوتے ہیں،زیادہ حصہ قرض پر مشتمل ہوتا ہے۔ایک اور افسوسناک صورتحال یہ بھی ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں یہ فنڈز زیادہ تر کرپشن کی نظر ہو جاتے ہیں۔ماحول کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ پوری دنیا مل کر کام کرے تاکہ آلودگی پر کنٹرول حاصل کر لیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں