ذاتی مفاد کی دوڑ اور مرجاتا ہوا ضمیر۔۔ہمارا معاشرہ کے سمت جا رہا ہے۔۔اج ہمارا معاشرہ ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ذاتی مفاد چکا چوند نے اجتماعی اخلاقیات کو دھندلا دیا ہے۔۔انسانیت دیانت شرافت اور اخلاق یہ سب الفاظ کتابوں کی زینت بن کر رہ گئے ہیں عملی زندگی میں ہم میں سے اکثر اس حد تک خود غرض ہو چکے ہیں کہ کسی کا حق مارنا۔۔۔جھوٹ بولنا۔۔دھوکا دینا۔۔سفارش کے ذریعے ناجائز فائدے حاصل کرنا اور دوسروں کو نقصان پہنچا کر اپنا کام نکال لینا معمول سمجھا جانے لگا ہے۔۔
سوال یہ ہے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں اور کیوں جا رہے ہیں ذاتی مفاد کی اس دوڑ نے ہمارے ضمیر کو اس بری طرح جکڑ لیا ہے کہ اب غلطی پر ندامت محسوس کرنا بھی کمزور لوگوں کا کام سمجھا جاتا ہے کبھی یہ معاشرہ اپنے شرمندگی کا عنصر رکھتا تھا کہ لوگ کیا کہیں گے کہ فکر انسان کو غلط قدم سے روکتی تھی مگر اپ نفس کی غلامی نے انسان کو بے حس بنا دیا ہے افسوس کی بات یہ ہے معاشرے کے ہر طبقے میں یہیں صورتحال عام ہو چکی ہے۔سیاست و بیروکریسی ہو تجارت ہو مسجد کا ممبر ہو یا دفتر کا کیبن ہر جگہ اندھی تقلید شخصیت پرستی ذاتی مفاد کی جنگ نے انسانیت کا جنازہ نکال دیا ہے۔۔
اس ماحول کو پروان چڑھانے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی ہے جس میں میری پوری قوم پر چکی ہے بالکل تحریک پاکستان کے کچھ سالوں کے بعد طاقتور حلقوں نے فرنگی کے دیے ہوئے مشن کے تحت میری قوم کے حقوق سلب امرانہ جاگیردرانہ وڈیرے شاہی کہ ماحول کو پروان چڑھایا اور میری قوم کو اپنے حق کے لیے بھیک مانگنے پر مجبور کر دیا کیا اج ہمارا یہ ماحول نہیں کبھی ایمانداری سے ضرور سوچنا۔۔۔حکومتی عوامی ریلیف ڈیویلپمنٹ کے لیے ہم سیاسی لوگوں کے درباریوں کے محروم منت ہو چکے ہیں حالانکہ بجلی پانی خوراک و سرکاری نوکریاں سڑکیں نالیاں سولگ وغیرہ ہمارا بنیادی حق ہے کیونکہ یہ مراعات ہمارے ہی روپوں سے معرض وجود میں اتی ہے ہمارے ٹیکس کے رپورٹ سے سیاسی لوگ اور بیروکریٹس اور پوری حکومتی مشینری شہانہ پروٹوکول اور کروڑوں روپے کی مراعات لے کر ہم پر ہی حکومت کر رہے ہیں اس ماحول کو پرموٹ کس نے کیا ان لوگوں نے جو اس وقت فرنگی کے غلام بن چکے ہیں اور ہمیں بھی غلامی میں مبتلا کر دیا۔۔۔
موجودہ دور کی ایک اور بیماری جو جس کے ہم اسیر ہو چکے ہیں سیاسی جلسے ہوں کارن میٹنگز ہو مذہبی جلسے ہوں ان پر ائے ہوئے مہمانوں پر کئی من پھولوں کی پتیاں نچھاور کرنا ہار پہنانا تصویریں بنانا اور پوری قوم کو اس کام پر لگانا کیا کہیں گے اپ اس کو اور اس مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کچھ درباری لوگ باقاعدہ طور پر روپے کی چمک سے لوگوں کو کام کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔۔
یہ وہ لمحہ فکریہ ہے کہ جس نے معاشرتی تانے بانے کو کمزور تر کر دیا ہے جب ایک قوم کا ضمیر مر جائے تو پھر پورا معاشرہ کھوکھلا ہو جاتا ہے قومیں معاشی تنگی سے نہیں اخلاقی پستی سے ختم ہوتی ہیں اور یہی اندیشہ ہمارے سامنے کھڑا ہے۔
سوشل میڈیا نے اس ۔سطحی رحجان کو مزید ہوا دی ہے لوگ عقل سے زیادہ امج کو ترجیح دیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ معاشرے میں۔دکھاوا۔رایا کاری اور غیر حقیقی تعلقات بڑھ رہے ہیں جبکہ محبت اخلاص سچائی اور کردار کم ہوتے جا رہے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ذاتی مفاد کی وحشت سے نکل کر اجتماعی بھلائی کی طرف قدم بڑھائیں ہمیں اپنی ائندہ نسلوں کو وہ معاشرہ نہیں دینا جو لالچ اور خود غرضی سے الودہ ہو ضمیر کی اواز دبانے والا انسان کبھی پائیدار کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔۔۔معاشرے کو بدلنے کے لیے ہر فرد کو اپنا احتساب خود کرنا ہوگا اپنی غلطی تسلیم کرنا ہوگی یہ وقت ہے کہ ہم رک کر سوچیں کہ ذاتی مفاد کی خاطر ہم نے کیا کھویا اور کیا کھونے جا رہے ہیں اگر ہم نے اپنے مردہ ضمیر کو جگانے کی کوشش نہ کی تو ہماری انے والی نسلیں ہم سے زیادہ بے حس ہوں گی زیادہ بے فیض ہوں گی زیادہ بے ضمیر ہوں گی زیادہ بے رحم معاشرہ ورثے میں پائیں گے۔۔
قوم کردار سے بنتی ہیں۔۔۔۔اور کردار ضمیر کی بیداری سے بنتا ہ