“اردو کا سفر، صدیوں کا فاصلہ”
دنیا سکڑ رہی ہے، فاصلے مٹ رہے ہیں، مگر کچھ انکشافات ایسے ہوتے ہیں جو وقت اور جغرافیے دونوں کی سرحدیں پار کر کے حیران کر دیتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایک ایسی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچایا ہے جس نے زبان، شناخت اور تاریخ — تینوں کے بارے میں ہمارے تصورات کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ بلغاریہ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے جب اپنی زبان “روما” (Gypsy) میں بولتے ہوئے چند جملے ریکارڈ کیے تو سننے والوں کے کان کھڑے ہوگئے۔ ان کے الفاظ، لہجہ اور تلفظ اردو اور ہندی سے حیرت انگیز طور پر مشابہ تھے۔ دنیا بھر کے صارفین نے حیرت سے تبصرے شروع کیے کہ “کیا واقعی یورپ میں ایسی زبان بولی جاتی ہے جو ہماری زبان سے ملتی جلتی ہے؟”
یہ خبر بظاہر ایک دلچسپ اتفاق لگتی ہے، مگر اس کے پیچھے چھپی حقیقت بہت گہری ہے۔ تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ روما یا جپسی قوم تقریباً پندرہ سو سال قبل ہندوستان کے شمالی علاقوں سے ہجرت کر کے مشرقِ وسطیٰ، پھر یورپ کے مختلف حصوں میں پھیل گئی تھی۔ ان کے آباؤ اجداد نے اپنے ساتھ وہ ثقافتی اور لسانی ورثہ بھی لے لیا جو ان کے خمیر میں رچا بسا تھا۔ آج جب ان کے نسل در نسل منتقل شدہ الفاظ میں “پانی”، “دل”، “رات”، “چل” جیسے الفاظ سنائی دیتے ہیں تو انسان بے اختیار سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ زبانیں محض بولنے کا ذریعہ نہیں، یہ تہذیبوں کی یادداشتیں بھی ہیں۔
روما زبان اور اردو/ہندی کی مشابہت نے زبان شناسوں کے لیے ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مشابہت کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک تاریخی ربط کا ثبوت ہے۔ زبانوں کی یہ قربت اس بات کی دلیل ہے کہ ہزاروں میل کے فاصلے کے باوجود انسانی معاشرے ایک دوسرے سے جڑے رہتے ہیں۔ یہ وہی ربط ہے جو ثقافتوں کو زندہ رکھتا ہے، جو ماضی کی آواز کو حال میں سنا دیتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یورپی معاشرے میں روما کمیونٹی کو ہمیشہ ایک الگ اور غیر مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ ان کی زبانوں کو رسمی درجہ نہیں دیا گیا، انہیں خانہ بدوش کہا گیا، اور صدیوں تک یہ لوگ امتیازی سلوک کا شکار رہے۔ مگر اب جب ان کی زبان کی جڑیں برِصغیر کی تہذیب سے جا مل رہی ہیں تو دنیا انہیں نئے زاویے سے دیکھ رہی ہے۔ گویا ایک تاریخی غلط فہمی درست ہونے کو ہے — وہ قوم جو کبھی اجنبی سمجھی گئی، دراصل ہماری اپنی تمدنی روایت کا بچھڑا ہوا حصہ نکلی۔
یہ انکشاف صرف لسانی دلچسپی نہیں رکھتا بلکہ اس کے سماجی اور ثقافتی مضمرات بھی گہرے ہیں۔ جب انسان یہ سمجھتا ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں کی زبانیں، الفاظ اور جذبات ایک ہی تاریخی ماخذ سے نکلے ہیں تو تعصب، نفرت اور نسلی فاصلوں کی دیواریں خود بخود کم ہونے لگتی ہیں۔ زبان دراصل انسانوں کے درمیان محبت کی پہلی سیڑھی ہے، اور اگر اردو اور یورپ کی ایک خانہ بدوش زبان میں یہ رشتہ ابھر کر سامنے آیا ہے تو یہ محض اتفاق نہیں — یہ اس امر کی گواہی ہے کہ انسانیت کا ورثہ ایک ہی ہے۔
سوشل میڈیا پر ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد ہزاروں صارفین نے تبصرے کیے کہ “ہمیں لگا جیسے کوئی اردو بول رہا ہو”، “یہ تو بالکل ہندی جیسی ہے”، “شاید ہمارے آباؤ اجداد یہی زبان لے کر گئے تھے”۔ یہ جملے صرف حیرت نہیں، بلکہ اس بات کا اعلان ہیں کہ زبانیں اپنے بولنے والوں کے ساتھ سفر کرتی ہیں۔ صدیوں گزر جائیں، سرحدیں بدل جائیں، لہجے مٹ جائیں — مگر الفاظ اپنی اصل نہیں بھولتے۔
یہی وجہ ہے کہ ماہرین لسانیات اس واقعے کو “زبانوں کا سفرِ وقت” قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق جب کوئی قوم ہجرت کرتی ہے تو اس کے ساتھ صرف لوگ نہیں بلکہ ان کی آوازیں، محاورے، لب و لہجے، گیت اور الفاظ بھی سفر کرتے ہیں۔ اور اگر ان میں سے کوئی لفظ صدیوں بعد کسی دوسرے خطے میں زندہ مل جائے تو یہ صرف ایک تاریخی اتفاق نہیں، بلکہ انسانی تہذیب کی تسلسل کی گواہی ہے۔
یورپی ممالک میں آج بھی کئی مقامی زبانوں میں ایسے الفاظ موجود ہیں جن کی جڑیں سنسکرت، پراکرت اور ہند آریائی لسانی خاندان سے جا ملتی ہیں۔ “روما” زبان کا معاملہ اسی زمرے میں آتا ہے، مگر اس نے حیرت اس لیے پیدا کی کہ اس کی مشابہت براہِ راست اردو اور ہندی سے ظاہر ہوئی۔ گویا یہ زبان برِصغیر کے ماضی کی ایک زندہ بازگشت ہے — جو صدیوں کی گرد میں چھپی ہوئی تھی، مگر اب جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کی بدولت دوبارہ سنائی دینے لگی ہے۔
یہ وائرل ویڈیو دراصل ایک یاد دہانی ہے کہ تہذیب کبھی فنا نہیں ہوتی، وہ شکلیں بدلتی ہے مگر زندہ رہتی ہے۔ کبھی کسی بول میں، کبھی کسی گیت میں، کبھی کسی اجنبی کے ہونٹوں پر ہمارے الفاظ بن کر۔ اور شاید یہی زبان کا سب سے حسین کرشمہ ہے — کہ وہ وقت کی قید سے آزاد ہے، اور انسانوں کو خاموشی سے ایک دوسرے سے جوڑے رکھتی ہے۔
یہ ویڈیو ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اگر ہم زبانوں کو سمجھیں، ان کی جڑوں کو تلاش کریں، تو ہمیں احساس ہوگا کہ ہم سب ایک ہی داستان کے مختلف ابواب ہیں۔ دنیا کی تمام زبانیں دراصل ایک ہی انسانی جذبے کی مختلف لہریں ہیں، جو وقت کے سمندر میں بہتی رہتی ہیں، کبھی اردو بن جاتی ہیں، کبھی رومی، کبھی فارسی، کبھی انگریزی — مگر ان کا منبع ایک ہی ہے: انسان کی بات کرنے، جڑنے اور سمجھنے کی خواہش۔
یہی خواہش تہذیبوں کو زندہ رکھتی ہے، یہی آواز انسانیت کو ایک بناتی ہے — اور یہی سادہ مگر عظیم پیغام آج اس وائرل خبر کے دل میں چھپا ہے۔
@@@@@@@@@@@@@@@@@@