7

سندھ کو پانی کی کمی، زراعت اور معیشت کی تباہی ہے،

سندھ کو پانی کی کمی، زراعت اور معیشت کی تباہی ہے،
بجٹ میں آئی ایم ایف کی مداخلت قبول نہیں۔ ملازمین کی سو فیصد بچیٹ بڑہائی جائے۔

ختمِ نبوت ہمارے ایمان کی ریڈ لائن ہے، قادیانیوں اور سرپرستوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے
جے یو آئی کے مرکزی رہنما انجنئیر عبدالرزاق عابد لاکہو

جیکب آباد( اے جی بلوچ )جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سالار عبدالرزاق عابد لاکہو نے کہا ہے کہ سندھ کو 28 فیصد پانی کم فراہم کرنا اور پنجاب کے کینالوں کو اپنے حصے سے زیادہ پانی دینا سندھ کی زراعت اور معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال صوبے کے کسانوں کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار صوبائی سالار سلیم سندھی کے ہمراہ جیکب آباد میں جے یو آئی ضلع جیکب آباد کے امیر ڈاکٹر اے جی انصاری کی رہائش گاہ پر صحافیوں اور پارٹی کارکنان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر جے یو آئی ضلع کے ناظم انجینئر حماد اللہ انصاری، جے ٹی آئی کے صدر تاج محمود امروٹی، ڈجیٹل میڈیا کے محمد ابراہیم برڑو سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ آنے والے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کی شرائط پر مبنی کسی بھی مسودے یا غلط ترمیم کو قبول نہیں کیا جا سکتا، حکومت کو عوامی مفاد کے خلاف فیصلوں سے گریز کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ آنے والی بچیٹ میں صحت،تعلیم پر زیادہ اور سرکاری ملازمین کی 100 فیصد بڑھانے کا مطالبہ کیا مزید کہا کہ ختمِ نبوت ﷺ ہمارے ایمان کی ریڈ لائن ہے، اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ قابل قبول نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قادیانیوں اور ان کی پشت پناہی کرنے والے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے ملک کے سیاسی، معاشی اور سندھ کے پانی کے مسائل پر فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں