سکھر(رپورٹ بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی) سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں محکمہ جنگلات سے متعلق اہم کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے درخواست گزار جاوید حسین مہر کی درخواست خارج کردی، جبکہ حکومت سندھ کو فاریسٹ ایکٹ 1927 میں ترمیم اور “فاریسٹ فورس” کے قیام سے متعلق سخت ہدایات جاری کی گئیں۔
سماعت کے دوران کنزرویٹر آف فاریسٹس سرکل سکھر اور ضیاءُ اللہ لغاری، ڈویژنل فاریسٹ آفیسر (DFO) گھوٹکی عدالت میں پیش ہوئے اور تعمیلی رپورٹ جمع کرائی۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل علی رضا بلوچ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ محکمہ جنگلات کی جانب سے جاوید حسین مہر کو ضلع گھوٹکی کی سرحد فاریسٹ میں مچھلی کے ٹھیکے (فشری کنٹریکٹ) دیا گیا تھا، تاہم ٹھیکہ حاصل کرنے کے بعد درخواست گزار نے سندھ وائلڈ لائف پروٹیکشن آرڈیننس کی خلاف ورزی کی، ٹھیکے کی رقم ادا نہیں کی اور غیر قانونی طور پر درخت بھی کاٹے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ محکمہ جنگلات نے قانون کے مطابق شوکاز نوٹس اور فائنل شوکاز نوٹس جاری کرنے کے بعد ہی مچھلی کا ٹھیکہ منسوخ کیا، لہٰذا درخواست قابل سماعت نہیں۔ دلائل سننے کے بعد عدالت نے درخواست خارج کردی۔
سماعت کے دوران عدالت نے فاریسٹ ایکٹ 1927 میں ترمیم اور پنجاب و خیبرپختونخوا کی طرز پر سندھ میں بھی “فاریسٹ فورس” کے قیام سے متعلق پیش رفت پر سوالات اٹھائے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پٹیشن نمبر 1115 آف 2009 میں 19 مارچ 2023 کو سندھ ہائی کورٹ پہلے ہی اس حوالے سے احکامات جاری کرچکی ہے، تاہم معاملہ تاحال زیر التوا ہے۔
معزز عدالت نے چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری قانون اور سیکریٹری فاریسٹ اینڈ وائلڈ لائف کو ہدایت کی کہ تمام قانونی تقاضے مکمل کرکے منظور شدہ مسودہ فوری طور پر صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے۔
عدالت نے مزید ہدایت کی کہ عملدرآمد رپورٹ 60 روز کے اندر عدالت میں جمع کرائی جائے، بصورت دیگر ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔