رانا خان بہادر جاوید — زرعی ترقی، دیانت اور خدمت کی روشن مثال
خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف
کسی بھی معاشرے کی ترقی میں ایسے افراد کا کردار ہمیشہ نمایاں رہتا ہے جو اپنی صلاحیتوں، تجربے اور خلوصِ نیت کو عوامی خدمت کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ محکمہ زراعت پنجاب کے سابق سینئر آفیسر رانا خان بہادر جاوید انہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی پوری عملی زندگی کسانوں کی فلاح و بہبود، زرعی ترقی اور قومی معیشت کے استحکام کے لیے وقف کیے رکھی۔
اللہ تعالیٰ نے رانا خان بہادر جاوید کو غیر معمولی انتظامی صلاحیتوں، وسیع زرعی علم اور بہترین قائدانہ اوصاف سے نوازا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ محکمہ زراعت کے سینئر افسران اور نامور ماہرینِ زراعت میں ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ اپنی ملازمت کے دوران انہوں نے نورپورتھل، خوشاب، چکوال، بھکر اور پنجاب کے دیگر مختلف اضلاع میں خدمات سرانجام دیں اور ہر جگہ اپنی محنت، دیانت داری اور پیشہ ورانہ مہارت کے باعث کسانوں کے دل جیت لیے۔
رانا خان بہادر جاوید کا شمار ان افسران میں ہوتا ہے جو دفتر تک محدود رہنے کے بجائے کھیتوں، دیہاتوں اور کسانوں کے درمیان رہ کر ان کے مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے پر یقین رکھتے تھے۔ انہوں نے جدید زرعی ٹیکنالوجی، بہتر بیجوں کے استعمال، پانی کے مؤثر انتظام اور فصلوں کی پیداوار میں اضافے کے لیے کسانوں کی عملی رہنمائی کی۔ ان کی کاوشوں سے نہ صرف زرعی پیداوار میں بہتری آئی بلکہ کسانوں کے معاشی حالات بھی بہتر ہوئے۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی معیشت کا ایک بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے۔ ایسے میں رانا خان بہادر جاوید جیسے ماہرین کا کردار مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ کسانوں کو جدید تحقیق اور سائنسی طریقۂ کاشتکاری سے روشناس کرایا اور زرعی شعبے میں جدت کے فروغ کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی شبانہ روز محنت اور لگن درحقیقت وطنِ عزیز میں سبز انقلاب لانے کی ایک عملی کوشش تھی۔
ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کی خدمات کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔ اگرچہ وہ سرکاری ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو چکے ہیں، لیکن آج بھی کسان برادری ان کے تجربے اور مشاورت سے بھرپور استفادہ حاصل کر رہی ہے۔ مختلف علاقوں کے کاشتکار زرعی مسائل کے حل، فصلوں کی بہتری اور جدید زرعی رجحانات کے بارے میں ان سے رہنمائی لیتے ہیں اور ان کی آراء کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ اعزاز ہر کسی کو حاصل نہیں ہوتا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی لوگ اسی اعتماد اور محبت کے ساتھ اس سے رجوع کریں۔
رانا خان بہادر جاوید کی شخصیت نوجوان افسران، زرعی ماہرین اور کسانوں کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ خلوص، محنت، دیانت داری اور عوامی خدمت کا جذبہ انسان کو ہمیشہ عزت اور احترام عطا کرتا ہے۔ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو محض ملازمت نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک قومی فریضہ جان کر انجام دیا۔
محکمہ زراعت پنجاب کے لیے ان کی خدمات بے مثال اور گرانقدر ہیں۔ ان کی کامیابیوں، اصلاحی اقدامات اور کسان دوست پالیسیوں کی تفصیل اتنی وسیع ہے کہ ایک مختصر کالم میں اس کا احاطہ ممکن نہیں۔ تاہم یہ کہنا بجا ہوگا کہ رانا خان بہادر جاوید نے اپنی عملی زندگی میں جو نقوش چھوڑے ہیں وہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
قومیں اپنے محسنوں اور مخلص خدمت گزاروں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں۔ رانا خان بہادر جاوید بھی ان شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی صلاحیتوں اور تجربے کو عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا اور زرعی ترقی کے میدان میں ایسی خدمات انجام دیں جو ہمیشہ سنہرے الفاظ میں یاد رکھی جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، خوشی اور مزید عزت و وقار عطا فرمائے تاکہ وہ اپنی دانش اور تجربے سے آئندہ بھی کسان برادری کی رہنمائی کرتے رہیں۔ آمین۔