29

خوشاب کے معروف شاعر،محقق اور مورخ امتیاز حسین امتیاز کی شخصیت ایک نظر میں خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

خوشاب کے معروف شاعر،محقق اور مورخ امتیاز حسین امتیاز کی شخصیت ایک نظر میں

خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

ضلع خوشاب کی سرزمین ہمیشہ علم و ادب، تحقیق و تاریخ اور شعر و سخن کے حوالے سے زرخیز رہی ہے۔ اسی دھرتی نے بے شمار ایسے سپوت پیدا کیے جنہوں نے اپنے قلم اور فکر سے نہ صرف اپنے علاقے بلکہ پورے ملک کا نام روشن کیا۔ ان ہی درخشندہ شخصیات میں ایک معتبر نام معروف شاعر، محقق اور مورخ امتیاز حسین امتیاز کا ہے، جنہوں نے خوشاب کی علمی و ادبی روایت کو نئی جہت عطا کی۔
معروف شاعر ،محقق اور مورخ امتیاز حسین امتیاز کا آبائی شہر خوشاب ہے تاریخ پیدائش 25 دسمبر 1964ء ۔ پنجابی میں پوسٹ گریجوایشن پنجاب یونیورسٹی سے کی۔ آپ نے تاریخ ضلع خوشاب لکھی، پنجابی ادبی بورڈ 1989/2018 دو ایڈیشن شائع کئے ۔ آپ کو مسعود کھدر پوش ایوارڈ بھی ملا ۔ آپ پنجابی کے معروف شاعر ہیں اور (کافی) آپ کا خاص حوالہ ہے۔ ابن بطوطہ ہسٹری آف آل ڈسٹرکٹ آف پاکستان، خبرناک کے ساتھ آفتاب اقبال کے لئے۔
موصوف مترجم/ ثقافتی کارکن۔ آزاد محقق اور مورخ کی حیثیت سے بھی نامور ہیں۔ زبانوں میں سندھی، پنجابی۔ آہ کو گورمکھی رسم الخط پڑھنا لکھنا آتا ہے۔ سرگودھا ڈویژن سےبھی ایوارڈ حاصل کیا اور ڈپٹی کمشنر سے اجے بنگا کے دورہ خوشاب پراجے بنگا کے بزرگوں کے اثاثوں اور گوردوارے کی نشاندہی کرنے اور انکے آباواجداد کا ڈیٹا ضلعی حکومت کو فراہم کرنے پر بھی ایوارڈ اور انعام حاصل کیا ۔اسکے علاوہ آپ نے ڈسٹرکٹ میڈیا کلب خوشاب کی طرف سے لائف اچیومنٹ ایوارڈ حآصل کیا ہے۔

امتیاز حسین امتیاز ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔ شاعری میں ان کا اسلوب سادہ مگر پراثر ہے۔ ان کے کلام میں محبت، انسان دوستی، علاقائی تہذیب، تاریخ سے وابستگی اور قومی شعور نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ محض لفظوں کا کھیل پیش نہیں کرتے بلکہ اپنے اشعار کے ذریعے سماجی مسائل، اخلاقی اقدار اور فکری بیداری کا پیغام دیتے ہیں۔ ان کی شاعری میں کلاسیکی رنگ بھی جھلکتا ہے اور جدید حسیت بھی محسوس ہوتی ہے، جو انہیں ہم عصر شعراء میں منفرد مقام عطا کرتی ہے۔
بطور محقق و مورخ ان کی خدمات نہایت قابل قدر ہیں۔ انہوں نے خوشاب کی تاریخ، ثقافت اور مقامی شخصیات پر گراں قدر تحقیقی کام کیا، جس سے نئی نسل کو اپنے ماضی سے آگاہی ملی۔ ان کی تحریروں میں تحقیق کی سنجیدگی، حوالہ جات کی صحت اور اسلوب کی شائستگی نمایاں ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ تاریخ محض واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ قوموں کی فکری اور تہذیبی شناخت کا آئینہ دار ہوتی ہے۔
امتیاز حسین امتیاز کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ نوجوان نسل کی رہنمائی کو اپنا فریضہ سمجھتے ہیں۔ ادبی نشستوں، تقریبات اور علمی مجالس میں ان کی شرکت نہ صرف محفل کو وقار بخشتی ہے بلکہ نوجوان لکھنے والوں کے لیے حوصلہ افزائی کا سبب بھی بنتی ہے۔ وہ ہمیشہ مثبت سوچ، مطالعے کے فروغ اور تحقیق کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔
خوشاب میں جب بھی علمی یا ثقافتی سرگرمیوں کا ذکر ہوتا ہے تو امتیاز حسین امتیاز کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ ان کی خدمات کا اعتراف مختلف سرکاری و سماجی حلقوں کی جانب سے بھی کیا جاتا رہا ہے۔ وہ اپنی سادگی، خلوص اور علم دوستی کے باعث عوام و خواص میں یکساں مقبول ہیں۔
آج کے دور میں جب مطالعہ اور تحقیق کا رجحان کم ہوتا جا رہا ہے، ایسے میں امتیاز حسین امتیاز جیسی شخصیات امید کی کرن ہیں۔ وہ اپنے قلم کے ذریعے نہ صرف ماضی کو محفوظ کر رہے ہیں بلکہ حال کو سنوارنے اور مستقبل کو روشن بنانے میں بھی کردار ادا کر رہے ہیں۔ بلاشبہ، وہ خوشاب کا علمی سرمایہ اور ادبی اثاثہ ہیں، جن پر اہلِ علاقہ کو فخر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں