9

سالانہ لمبی تعطیلات تعلیم کے لیے ایک بڑا چیلنج

سالانہ لمبی تعطیلات
تعلیم کے لیے ایک بڑا چیلنج
╚════════════════════════════╝

✍️ فیصل جنجوعہ

دو مہینے سے بھی زیادہ طویل چھٹیاں سن کر بظاہر ہر طالبِ علم خوشی محسوس کرتا ہے، لیکن اگر حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھا جائے تو یہ طویل تعلیمی وقفہ بچوں کی پڑھائی، روٹین، ڈسپلن اور تعلیمی ماحول پر گہرے منفی اثرات چھوڑتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں جہاں پہلے ہی تعلیمی معیار، محدود وقت اور بھاری سلیبس جیسے مسائل موجود ہیں، وہاں بار بار اور طویل تعطیلات ایک نئے بحران کو جنم دے رہی ہیں۔

سال بھر مختلف وجوہات کی بنا پر تعلیمی سلسلہ متاثر رہتا ہے۔ کبھی سموگ کے باعث سکول بند کر دیے جاتے ہیں، کبھی کرونا جیسی وبائیں نظامِ تعلیم کو روک دیتی ہیں، کبھی سیلابی صورتحال، کبھی جنگی حالات، تو کبھی سردیوں اور گرمیوں کی تعطیلات میں مسلسل اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ ان تمام عوامل کے باعث بچے مسلسل “آؤٹ آف اسکول” رہنے لگتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ ان کی ذہنی یکسوئی اور مطالعے کی عادت بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔

سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اتنے طویل وقفے کے بعد بچوں کو دوبارہ پڑھائی کے ماحول میں واپس لانا آسان نہیں ہوتا۔ ان کی روٹین بحال کرنا، انہیں ڈسپلن میں رکھنا، وقت کی پابندی سکھانا اور دوبارہ سنجیدگی کے ساتھ تعلیم کی طرف راغب کرنا اساتذہ اور والدین دونوں کے لیے ایک بڑا امتحان بن جاتا ہے۔ اکثر طلبہ تعطیلات کے دوران موبائل، سوشل میڈیا اور غیر نصابی مصروفیات میں اس قدر الجھ جاتے ہیں کہ تعلیم ان کی ترجیحات میں پیچھے چلی جاتی ہے۔

گرمی یقیناً ایک حقیقت ہے اور بچوں کی صحت و حفاظت ہر صورت مقدم ہونی چاہیے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ سوچنا بھی ضروری ہے کہ تعلیمی تسلسل کو مکمل طور پر ختم کیے بغیر کس طرح جاری رکھا جا سکتا ہے۔ اگر انہی تعطیلات کے دوران مختصر سمر کیمپس، ریڈنگ سیشنز، آن لائن لرننگ یا اسکل بیسڈ سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے تو بچوں کا تعلیمی رابطہ برقرار رکھا جا سکتا ہے اور ان کی سیکھنے کی عادت بھی متاثر نہیں ہوگی۔

تعلیم صرف نصاب مکمل کرنے کا نام نہیں بلکہ نظم و ضبط، مستقل مزاجی، وقت کی پابندی اور مسلسل سیکھنے کے عمل کا نام ہے۔ بدقسمتی سے طویل تعطیلات سب سے پہلے انہی بنیادی عادات کو متاثر کرتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم وقتی آسانی کے بجائے بچوں کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا متوازن نظام تشکیل دیں جو تعلیم اور صحت دونوں کے تقاضے پورے کر سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں