10

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک* *عنوان: 28 ویں ترمیم منظور کے ھونے کے قوی امکانات* *کالمکار: جاوید صدیقی*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: 28 ویں ترمیم منظور کے ھونے کے قوی امکانات*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

آصف علی زرداری جو سندھ کا عام سے جاگیردار حاکم علی زرداری کا بیٹا ھے وہ حاکم کے زرداری جو ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں انکی کابینہ کا حصہ تھا، بتایا یہ جاتا ھے کہ ایک ایسا بھی وقت آیا تھا جب ذوالفقار علی بھٹو اور حاکم علی زرداری میں شدید اختلاف پایا گیا کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ بھٹو کی گرفتاری کے بعد جنھوں نے بھٹو کو چھوڑ دیا تھا ان میں حاکم علی زرداری بھی تھا نجانے یہ کس حد تک خبر صحیح ہے یا غلط یہ آپ مجھ سے زیادہ اچھی طرح جانتے ہیں۔ پھر زمانے نے دیکھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی چہیتی بیٹی بینظیر بھٹو عرف پنکی کی شادی حاکم علی زرداری کے بیٹے آصف علی زرداری سے ہوئی۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد بینظیر بھٹو کے دو جواں بھائی مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو قتل کردیئے گئے تاریخ یہ بتاتی ھے کہ 27 دسمبر سنہ 2007 ء کو بینظیر بھٹو جلسہ کے اختتام پر فائرنگ سے ہلاک ہوگئی۔ چند ماہ بعد سنہ 2008 ء کے اوائل میں ہی بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری صدر مملکت بنے اور اسطرح پاکستان پیپلز پارٹی نئی شکل نئے انداز نئے عزم و ارادے سے ابھری۔ آصف علی زرداری کے حلقہ میں سینئر جیالے کم ہی رہ گئے کیونکہ کئی شدید بیمار تو کئی دنیا فانی سے کوچ کرگئے۔ آصف علی زرداری پیپلز پارٹی کی کمان اپنے اکلوتے بیٹے بلاول کیلئے سوچتا ھے لیکن کیا ھوگا یہ اللہ ہی جانے۔ آصف علی زرداری کے ہی دور کو دیکھیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کس مقام پر پہنچی اور جمہوریت و عوامی خدمات میں کس حد تک چار چاند لگے یہ آپ مجھ سے کہیں بہتر انداز سے جانتے ہیں۔ موجودہ وقت میں دوسری بار صدر مملکت آصف علی زرداری ہیں جبکہ وزیراعظم میاں شہباز شریف جنکا تعلق پاکستان مسلم لیگ نون سے ھے الحاق حکومت بنا کر چلا رھے ھیں جس میں ایم کیو ایم اور پی ایس پی کو بھی شامل رکھا گیا ھے۔ سابق صدر و ریٹائرڈ جنرل سید پرویز مشرف کے بعد سنہ 2008 ء سے تاحال پاکستان پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومت چل رھی ھے ایک عام پاکستانی کی زندگی کس قدر خوشحال اور ملک و صوبہ سندھ ترقی و امن کی جانب بڑھا اس پر بھی مشاہداتی نگاہ مجھ سے زیادہ آپ نے ضرور رکھی ہوگی۔۔۔۔ معزز قارئین!! حالیہ دنوں میں ایک بازگشت سنی جارہی ھے وہ 28 ویں ترمیم کے متعلق ھے آپ کی خدمت میں اس حوالے سے پیپلز پارٹی کے اندرون خانہ صورتحال سے آگاہ کرنا چاہتا ھوں۔ معزز قارئین!! آصف علی زرداری نے اپنے ساتھیوں کو بلا کر مشاورت کی ہے کہ جنہوں نے ہمیں اقتدار دیا ہے، اُن کی خواہش ہے کہ 28 ویں ترمیم منظور کی جائے۔ اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ اگر ہم 28 ویں ترمیم پر دستخط نہیں کرتے تو نیب تیار ہے۔ اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ ڈاکٹر عاصم نے پوچھا کہ اگر ہم 28 ویں ترمیم پر دستخط بھی کر دیں تو کیا بلاول وزیر اعظم بن جائے گا؟ زرداری نے کہا: نہیں، اوپر بلاول قبول نہیں ہے۔ آخرکار ہم کیا کریں؟ سب نے مل کر فیصلہ کیا کہ ہمیں 28 ویں ترمیم پر دستخط کر دینے چاہئیں، ورنہ سندھ سے بیس سے زائد وزراء، مشیر، ایم پی ایز اور ایم این ایز جیل جائیں گے۔ اس لیے اپنے لوگوں کو بچاؤ اور ترمیم پر دستخط کرو یعنی آصف علی زرداری اب صدرِ پاکستان نہیں رہیں گے اور تعلیم و صحت جیسے اہم محکمے اسلام آباد کے حوالے ہو جائیں گے۔ آنے والے چند دنوں میں زرداری کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔۔۔۔معزز قارئین!! عوام کا کہنا ھے کہ وہ تعجب و تشویش کا شکار ہیں کہ سنہ 2008 ء جب اسٹبلشمنٹ نے نظام جمہوریت کے تحت نظام حکومت بنائی اور ملک کے بدترین ذہنوں اور کریمنل سوچ کے مالکوں کا انتخاب کرکے وزرات عظمیٰ، وزارت صدارت سمیت وزراء و مشرا کا سلیکشن جاری رکھا یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان سیاستدانوں نے بے انتہا معاشی دہشتگردی اور لوٹ مار مچائی رکھی قومی خذانے کا بےدریغ استعمال اور کھلے عام منی لانڈرنگ جیسے عوامل اختیار رکھے کبھی بھی بلکہ تاحال ˝ٗآپریشن ردالکریشن“ شروع نہ کیا اور نہ ہی ان پر سخت ہاتھ ڈالا ان سیلکشن یافتہ پارلیمنیٹیرین نے نہ ملک کا سنوارا اور نہ ہی عوام کو خوشحال بنایا یہی سبب ھے کہ آج پاکستان معاشی بدحالی سے شدید دوچار ھے نہ روزگار ہیں اور نہ ہی سستائی یعنی قیمت میں کمی بلکہبہمارے ملک کی کرنسی بے توقیر و بے وقعت کردی گئی جس پر عوام اب چیخ چیخ کر کہہ رہی ھے کہ ان اسٹبلشمنٹ نے عوام پر خونی بھیڑیئے چڑھا دیئے کیا ھم عوام پاکستانی نہیں کیوں ھمارے ساتھ اسٹبلشمنٹ دشمنوں جیسا سلوک کررہی ھے عوام کو وہ ترامیم چاہئے جس سے ملک اور عوام دونوں خوشحال رہ سکیں۔۔۔۔ !!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں