11

اعتماد کی کمی اورامریکہ-ایران تنازع کا خطرناک دور تحریر: اللہ نواز خان

اعتماد کی کمی اورامریکہ-ایران تنازع کا خطرناک دور
تحریر: اللہ نواز خان
allahnawazk012@gmail.com
عالمی طور پر ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی ایک اہم ایشو بن چکی ہے۔یہ کشیدگی عالمی معیشت کو شدید متاثر کر رہی ہے۔اس وقت امریکہ واسرائیل اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی ہے۔مکمل جنگ بندی کے لیے مذاکرات ہوئے لیکن کامیابی نہ ہو سکی۔امریکی صدر نے کچھ عرصہ قبل یہ دعوی کیا تھا کہ ایران کو تقریبا مکمل فوجی شکست ہو چکی ہے۔فوجی شکست کے علاوہ ایرانی ایٹمی تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کا دعوی کیا تھا۔اب علم ہو رہا ہے کہ ایران کو مکمل طور پر شکست نہیں ہوئی۔ایران ایک مضبوط فریق کے طور پر امریکہ کے سامنے موجود ہے۔حقیقی بنیادی مسئلہ ایران کی ایٹمی توانائی ہے۔ذبنائے ہرمز کی بندش،عالمی پابندیاں سمیت دیگر مسائل ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔تہران کسی صورت میں بھی ایٹمی توانائی سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔پاکستان کی ثالثی کی وجہ سے یہ جنگ عارضی طور پر رکی ہوئی ہے۔اب دوبارہ آسلام اباد میں مذاکرات ہونے والے ہیں۔یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ اگر اسلام آباد میں مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو جنگ بندی برقرار رہے گی۔پاکستان عالمی امن کے لیے کوششیں کر رہا ہے اور یہ کوششیں عالمی طور پر تسلیم بھی کی جا رہی ہیں۔یہ جنگ صرف امریکہ و اسرائیل اور ایران کے درمیان نہیں تھی،بلکہ مشرق وسطی کا پورا خطہ متاثر ہوا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے عالمی معیشت کوبھی سخت نقصان پہنچا ہے۔تیل اورگیس کی قیمتوں میں بھی زبردست اضافہ ہوا۔عالمی توانائی بحران پیدا ہو چکا ہے۔جنگ دوبارہ شروع نہیں ہوتی لیکن آبنائے ہرمزبند رہتا ہے تو پھر بھی عالمی معاشی مسائل بڑھتے رہیں گے۔آنے والے کچھ دنوں میں پٹرولیم مصنوعات سمیت کئی اشیاء کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ جائیں گی۔
دوبارہ جنگ شروع ہونے کی صورت میں پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آجائے گا۔شاید بڑی جنگ شروع نہ ہو لیکن ہلکے حملے کیےجا سکتے ہیں۔ہلکے حملوں کے ذریعے ایران کو مزید کمزور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔مزید پابندیاں بھی عائد کی جا سکتی ہیں۔ایران کے اندر بھی احتجاج شروع کروائےجا سکتے ہیں،یہ احتجاج ملک کو کمزور کر دیں گے۔ایران رد عمل میں امریکی تنصیبات اور اسرائیل پر حملے کرےگا۔ایرانی حملے امریکہ کی میزبان ریاستوں کے لیے خطرناک ثابت ہوں گے۔یہ امکان موجود ہے کہ ایران ایٹمی توانائی فوجی مقاصد کے لیے بھی استعمال کر سکتا ہے۔ابھی تک مکمل طور پریہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ ایران یورنیم کو اتنا افزودہ کر چکا ہے کہ فوجی مقاصد کے لیےاس کو استعمال کیا جا سکے۔بہت سے خطرات کے پیش نظر امریکہ اب دوبارہ جنگ شروع نہیں کر سکتا،لیکن جنگ شروع ہونے کا امکان موجود ہے۔مذاکرات کے لیے ایک دوسرے کو تجاویز بھیجی جا رہی ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے موصول ہونے والی تازہ ترین تجاویز کو’بالکل ناقابل قبول’ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔اسرائیل اور امریکہ دونوں کی جانب سے جنگ کی دھمکی دی جا رہی ہے مگر تہران کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کا اعلان کر رہا ہے۔تہران کی جانب سے مسلسل یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے،تام کسی بھی مسلط کردہ شرائط یا دباؤ کے تحت بات چیت قبول نہیں کی جائے گی۔امریکہ کے ساتھ مذاکراتی عمل کی قیادت کرنے والے محمد باقرقالیباف نے ممکنہ فوجی تصادم کے حوالے سے واضح کیا کہ اگر ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو ایران مقابلے کے لیے تیار ہے۔ایران کے فوج کےسربراہ نے بھی کہا کہ کسی بھی صورتحال کے لیے تیار ہیں۔یہ مسئلہ فوری طور پر حل بھی نہیں ہو سکتا،لیکن یہ امکان رد نہیں کیاجاسکتا کہ حل نہیں ہوگا۔امریکہ خود بھی اس جنگ سے نکلنے کے لیے بیتاب ہے،کیونکہ اس جنگ پر بہت زیادہ اخراجات ہو رہے ہیں۔ٹرمپ حکومت کو عوامی رد عمل بھی مجبور کر رہا ہے کہ یہ جنگ رکنی چاہیے۔ایران کمزور پوزیشن پر ہونے کے ناطے ہر حال میں جنگ کا خواہشمند نہیں۔اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ جنگ دوبارہ شروع نہیں ہو سکتی۔بہرحال مکمل طور پر بھی یہ دعوی نہیں کیا جا سکتا کہ جنگ نہیں ہوگی۔ایک تو اسرائیل نہیں چاہے گا کہ ایران اپنی پوزیشن کو مستحکم رکھ سکے اور امریکہ بھی مشرق وسطہ پر گرفت قائم رکھنے کے لیے جنگ شروع کر سکتا ہے۔
مذاکرات کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں۔امریکہ پہل کر کے اعتماد قائم کر سکتا ہے۔ایران کی طرف سے کچھ مطالبوں کو تسلیم کر کے امن معاہدے کی طرف بڑھا جا سکتا ہے۔عالمی پابندیاں ہٹا کر،منجمد اثاثے بحال کر کے یا جنگ کا ہرجانہ دےکر امریکہ پہل کر سکتا ہے۔ایران کم از کم آبنائےہرمز کی بندش ختم کر کے مثبت پیغام دے سکتا ہے۔اس لیے بہتر یہی ہے کہ کچھ اقدامات کر کے امن کی راہ ہموارکی جاسکے۔اعتماد کی بحالی اولین حیثیت کی حامل ہے۔اعتماد اگر بحال نہ ہو سکا تو جنگ شروع ہو جائے گی۔کوئی معمولی سی بھی حرکت بڑی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔جنگ عارضی طور پر تو بند ہے لیکن کشیدگی بدستور موجود ہے۔ایران مکمل جنگ بندی کے علاوہ مستقبل میں جنگ نہ ہونے کی گارنٹی بھی چاہتا ہے۔ایران کی طرف سے بھی بارہا وضاحت کی گئی ہے کہ امریکہ یا اسرائیل پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔اعتماد برقرار رکھنے کے لیے کچھ نہ کچھ تو لازمی کرنا ہوگا۔پاکستان کی طرف سے تو مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں کہ یہ مسئلہ پائیدار بنیادوں پر حل ہو جائے۔اس جنگ سے متاثر ہونے والے دوسرے ممالک بھی اس مسئلے کا بہتر حل چاہتے ہیں،ایسا حل جس سے مستقبل میں کوئی پریشانی پیدا نہ ہو۔مشرق وسطی میں امن بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایران،امریکہ تنازع ختم ہو جائے۔صرف ایران-امریکہ تنازع ختم نہ ہو بلکہ غزہ،لبنان اور شام سمیت تمام خطے میں تنازعات ختم ہونے چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں