18

افسانہ آخری کینوس تحریر۔ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور

افسانہ
آخری کینوس
تحریر۔ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
یونیورسٹی کی عمارت اس صبح دھوپ میں نہائ ہوی تھی۔ لمبی قطار کے آخر میں کھڑی ہوئ صالحہ پریشانی کی حد تک نروس تھی،اس کی کاٹن کی سفید چادر ابھی سر پہ ہی ہوتی کہ وہ اسے کھینچ کر دوبارہ سے گھررخررررررررررررددونگھٹ کاڑھ لیتی۔۔۔۔۔۔ سچ پوچھیے تو اکیسویں صدی کی سینکڑوں الٹرا ماڈرن لڑکیوں کے وہ انیسویں صدی کے کسی پسماندہ دیہی علاقے کا کوئ نمونہ یا عجوبہ ہی لگ رہی تھی ۔ گھٹنوں سے نیچی شلوار،کھلے گھیر والی شلوار، تین گز کی بوسکی کی دودھیا چادر جس کے چاروں طرف ہاتھ ہی کی بنی ہوی کروشیے
کی لیس لگی ہوی تھی،تجی ناں اکیسویں صدی میں انیسویں صدی کا عجوبہ۔۔۔۔۔۔صالحہ صرف سولہ برس کی تھی دودھ میدے جیسا رنگ اور بانکے نین نقش،جو بھی دیکھتا،فدا ہو جاتا ,ہاں چونکہ جم پل گاؤں کی تھی اور اس پہ اپنی دادی کی سنگت کا رنگ گہرا تھا تو اس کا پہناوا اور انداز خالصتاً دیہاتی تھی اسی پہ اس کی پکڑ ہوسٹل کی پہلی رات ہی ہو گیی،سینیرز نے باقی تمام نیئ آنے والی طالبات کو ان کے کمروں میں بھیج کر اپنی ساری خباثت کا نشانہ صالحہ کو بنانا شروع کر دیا۔زرغونہ ریگنگ کے اس بھیانک کھیل میں سب سے آگے آگے ثھی،کیونکہ پچھلے سال اس کے ساتھ بھی بہت ہی برا ہو چکا ثھا۔ صالحہ کے کپڑے اتروائے گیے،اس کی وڈیو بنا کے وائرل بھی کر دی گیی،گویا شہر والوں نے گاؤں کی ایک سیدھی سادھی لڑکی جو آنکھوں میں اعلیٰ تعلیم کے سپنے لے کر یونیورسٹی تک آن پہنچی تھی کے مرنے کی پوری پلاننگ کر لی گئی تھی۔اگلی صبح بھی یو نیورسٹی کی عمارت دھوپ میں نہای ہوئی تھی پر در و دیوار اور رگ و جان پہ ایک سبب سی اداسی اور بے نام سی بے بسی تھی،وہ جس نے یونیورسٹی میں میرٹ پہ آنے کے لیے راتوں کی نیندیں حرام کر لی تھیں وہ صالحہ یونیورسٹی میں ایک رات بھی سکھ سے نہ رہ پای اور اس نے چھت سے چھلانگ مار کے خود کشی کر لی۔ارے اس لڑکی نے خودکشی کر لی جس میں زندگی روم روم میں سانس لیتی تھی لیکن سچ کو کبھی بھی جھوٹ کی نقاب تلے چھپایا نہیں جا سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہادی کو اس رات ہوسٹل کے ہال سے چیخوں کی آ وا زیں،، صالحہ کی دوہاییاں،مجھے چھوڑ دو،مجھے جانے دو،مگر اس کی چیخیں،شیطانی چالوں میں دفن ہو گییں۔اس کا موبائل غائب تھا، رپورٹس غائب کر لی گییں،حقایق چھپا لیے گییے،مگر لیک ویڈیوز نے معاملے کی سنگینی کو خوب اچھالا،ہادی معاملے کی تہہ تک جا پہنچا مگر اپنی جان داؤ پہ
لگا کے،صالحہ انتہای بے رحمی سے ریگنگ کا شکار ہوئی اور بے موت مار دی گیی،گاوں میں اس کی موت پہ گاؤں والوں کو ایک گونگی چپ لگ گیی،ایک سولہ سالہ لڑکی اس قبیح رسم کا شکار ہوئی جو صدیوں سے رائج ہے ،دوسروں کو نیچا دکھانے کے لیے،دوسروں کو ذلیل کرنے کے لیے،دوسروں کی ٹانگیں توڑنے کے لیے،کاش انسان ہوش کے ناخن لیں اور ان فضولیات سے بچ جاییں۔
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
Naureendrpunnam@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں