17

میلسی(بیو رو چیف و ہا ڑ ی )میلسی کی سیاست میں ایک بار پھر نئی ہلچل نے جنم لے لیا۔ سابق وزیرِاعظم

میلسی(بیو رو چیف و ہا ڑ ی )میلسی کی سیاست میں ایک بار پھر نئی ہلچل نے جنم لے لیا۔ سابق وزیرِاعظم پاکستان و صدر شاہد خاقان عباسی سے سابق رکنِ قومی اسمبلی اظہر احمد خان یوسفزئی کی ملاقات نے سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز کر دی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ ملاقات خفیہ نہیں رہی بلکہ اظہر احمد خان یوسفزئی نے خود ملاقات کی تصاویر اپنے سماجی رابطے کے ذرائع پر شیئر کر کے سیاسی بحث کو مزید گرم کر دیا۔سیاسی مبصرین اس ملاقات کو آئندہ سیاسی منظرنامے میں ممکنہ بڑی تبدیلیوں سے جوڑ رہے ہیں۔ حلقے میں یہ سوال زیرِ گردش ہے کہ کیا اظہر احمد خان یوسفزئی ایک بار پھر نئی سیاسی جماعت کی جانب بڑھ رہے ہیں؟یاد رہے کہ اظہر احمد خان یوسفزئی نے اپنی قومی اسمبلی کی سیاست کا آغاز پاکستان پیپلز پارٹی سے کیا تھا اور کامیاب ہوئے، تاہم بعدازاں جماعت سے اختلافات کے بعد وہ رانا سکندر اقبال کی قیادت میں بننے والی پاکستان پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کا حصہ بن گئے۔ اس کے بعد وہ مسلم لیگ ق میں شامل ہوئے جبکہ دو مرتبہ آزاد حیثیت سے بھی انتخاب لڑ چکے ہیں۔2018ء کے عام انتخابات سے قبل انہوں نے پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی، تاہم انتخابی شکست کے بعد سابق وزیرِاعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کے سیاسی قافلے میں شامل ہو گئے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے انہیں پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ سمجھا جاتا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق وہ ایک سابق رکنِ صوبائی اسمبلی کے ساتھ مل کر تحریکِ انصاف کے مقامی پینل کی تشکیل کے لیے بھی سرگرم رہے، مگر گزشتہ چند ماہ سے ان کی سیاسی سرگرمیوں میں غیر معمولی خاموشی دیکھی جا رہی تھی۔ ایسے میں شاہد خاقان عباسی سے ملاقات اور پھر تصاویر کی سماجی رابطے کے ذرائع پر تشہیر نے حلقے کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بار بار سیاسی جماعتیں تبدیل کرنے کے باعث اظہر احمد خان یوسفزئی اپنے حلقے میں پہلے ہی خاصا سیاسی نقصان اٹھا چکے ہیں۔ اگر وہ ایک بار پھر نئی سیاسی سمت اختیار کرتے ہیں تو یہ ان کے مستقبل کی سیاست کے لیے ایک اور بڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اس ملاقات کے اصل مقاصد کیا ہیں، اس بارے میں تاحال کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں