30

افسانہ عنوان. چھوٹی تحریر. ڈاکٹر پونم نورین

افسانہ
عنوان. چھوٹی
تحریر. ڈاکٹر پونم نورین
میں اسے سمجھاتی کہ نمی دیکھو جہاں کہکشاں ہے, ستاروں سے سجی ہوئی وہاں ہر کوی اپنے اپنے مدار میں گھوم رہا ہے اللہ کے حکم کی اطاعت میں تو صبحیں کتنی پر نور اور شامیں کتنی پر رونق ہیں، نہ ہی صبح کو اذن ہے کہ رات سے بھڑ جاے اور نہ ہی چاند، سورج کے مد مقابل آ سکتا ہے، مجھے پتا تھا کہ کاینات کو چلانے والے نے ہر شے کے لیے حدود و قیود مقرر کر رکھی ہیں، دریا کناروں کے اندر اچھا لگتا ہے، چاند اپنے مدار میں ہی روشن اور خوبصورت دکھتا ہے اور ہر لفظ اپنی ترتیب میں ہی معنی رکھتا ہے.
زندگی کا سارا حسن بھی انھی داءیروں کی محکومیت اور اطاعت میں پنہاں ہے. میں ہمیشہ چھوٹی کو کہتی، نمی آہستہ، دھیمے لہجے میں بات کیا کرو، کھلکھلا کے مت ہنسا کرو، سہج سہج کے چلا کرو مگر نمی میری بات کو ہمیشہ ایک کان سے سنتی دوسرے سے اڑاتی اور ہرنی کی طرح قلانچیں بھرتی ہوی نگاہوں سے اوجھل ہو جاتی. نمی کو دایروں سے شدید نفرت تھی وہ ہمیشہ چلاتی، آپ بڑی کیوں ہیں؟؟؟ ؟؟؟
یہ سوال وہ بچپن سے پوچھتی چلی آ رہی تھی. پہلے ضد میں، پھرحسد میں اور اب ایک عجیب سی چبھتی ہوی طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ………
میں ہمیشہ دھیمے سے مسکرا دیتی اور ہولے سے کہہ دیتی
” کیوں کہ رب سوہنے نے ایسے کیا”
تو پھر میں کیوں مانوں؟؟؟
نمی کی آنکھوں میں بغاوت کی آگ جل پڑتی اور لہجہ غصے سے خون خوار ہو جاتا، نمی مجھے اتنا سیخ پا ہو کے دیکھتی جیسے واشگاف کہہ رہی ہو ہر کہی گیی بات ماننے کی نہیں ہوتی، میں بالکل ایسے چپ ہو جاتی جیسے کوی معزول حکمران یا پھنگوڑے میں لیٹا ہوا شیر خوار مگر میری خامشی میں بھی ایک واضح پیغام ہوتا کہ کچھ سوال وقت سے بڑے ہوتے ہیں اور وقت انھیں جواب دینے کے لیے خود اپنے داءیروں سے باہر آتا ہے. ہر گھر کی طرح ہمارے گھر میں بھی ایک دایرہ تھا، میں اپنی ماں کی غیر موجودگی میں اعلانیہ طور پہ ماں ہی تھی، اور ممی ایک ضدی بیٹی اور کبھی کبھی مغرور ملکہ، ماں کی غیر موجودگی میں اگر مہمان آ جاتے تو میں فوراً مہمانوں کے چاے پانی کے جتن میں جت جاتی اور ممی کبھی اپنے دوپٹے کا پلو سیدھا کرتی اور کبھی لپ اسٹک کے شیڈ…………….
اس دن چند رشتہ دیکھنے والی خواتین آییں تو بات بڑی بیٹی ہی کی ہوی اب تو اتھری ممی بالکل ہی اتھری گھوڑی کی طرح بالکل ہی ہتھے سے اکھڑ گیی، اس دن شاید پہلی دفعہ ممی کو احساس ہوا کہ بڑا ہونا صرف بزرگی ہی نہیں، ذمہ داری بھی ہے اور چھوٹا ہونا صرف لاڈ اور رعایت ہی نہیں کبھی کبھی محرومی بھی بن سکتی ہے………..ممی پھر علی الاعلان میرے مقابلے پہ اتر آی، اس نے اپنی محرومیوں کا ازالہ کرنے کے لیے پہلے مذاق پھر مقابلہ بندی اور آخر میں انتقام جیسے اوچھے ہتھکنڈے اپنانے سے بھی گریز نہ کیا.
ممی نے میرے لیے آنے والا رشتہ تڑوا کے ہی دم لیا،
رشتہ ٹوٹ گیا، گھر کے درو بام پہ خاموشی اتر آی. ماں کی آنکھوں میں سوال تھا اور باپ کی پیشانی پہ شک. میں اس لمحے ممی کو دیکھ کر بس دھیمے سے مسکرای تھی، ایک ایسی مسکراہٹ…… جس میں صرف سوجھ بوجھ اور دانائی تھی کسی قسم کا کوی شکوہ نہ تھا. بس کہا تو صرف اتنا کہ دایرے اس لیے نہیں ہوتے کہ ہمیں قید کریں بلکہ اس لیے ہوتے ہیں کہ ہمیں ہمارے برے وقت سے بچا کر ہمیں خیر و عافیت سے ہماری منزل تک پہنچا سکیں……. اور ممی نے پہلی بار خود کو چھوٹا محسوس کیا عمر میں نہیں ظرف میں……..
کچھ مہینے بعد جب اس کے لیے ایک رشتہ آیا تو سامنے سے جواب آیا، ہمیں بڑی بہن جیسی سمجھ دار لڑکی چاہیے جو خاندان کو تسبیح کے دانوں کی طرح پرو کے رکھے ناں کہ ہر وقت کنگھی پٹی اور سرخی پاوڈر کی شوقین چھمک چھلو کی…. اس دن ممی کی آنکھیں، اشکبار ہو گییں اور اسے واقعی میں سمجھ آ گیا کہ بڑا ہونا نصیب نہیں، بڑا ہونا کردار ہوتا ہے. اس دن جب ممی میرے کمرے میں آی تو اس کی نگاہیں جھکی ہوی تھیں، اور اس مرتبہ اس نے پست آواز میں دوبارہ پوچھا…
آپ بڑی کیوں ہیں؟؟؟ ؟؟؟؟؟
میں نے ممی کے سر پہ ہاتھ رکھا اور فقط اتنا کہا..
کیوں کہ میں نے اپنے دایرے کا احترام کیا اور اس حد بندی کو قبول کیا جو مالک نے مجھے عطا کی اور تم نے اس دایرے اور حد بندی دونوں کو چیلنچ کیا…..
ممی کی آنکھوں میں آنسو آ گیے.
دایرہ ٹوٹا نہیں تھا، بس وہ اپنی ضد بازی میں اس سے ٹکرا کے زخمی ہو گیی تھی کاینات کی ہر شے رب پاک کی طے کردہ حدود کے اندر اپنے اپنے داءیروں میں گھوم رہی تھی
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
Punnam.naureenl@icloud.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں