121

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک* *عنوان: اسرائیل امریکہ اور ایران جنگ کے بارے میں چینی پروفیسر جیانگ کا دعویٰ* *کالمکار : جاوید صدیقی*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: اسرائیل امریکہ اور ایران جنگ کے بارے میں چینی پروفیسر جیانگ کا دعویٰ*

*کالمکار : جاوید صدیقی*

اسلام ایک پر امن مذہب ھے لیکن اپنے دفاع کا بھرپور حق رکھتا ھے، اسلام کی امن پالیسی کو کمزور یا ڈرپوک سمجھنا انتہائی بیقوفی اور جاہلیت کے زمرے میں آتی ھے۔ اسلام کے داعی آخری پیغمبر بھی ایک جنگجو بہادر نڈر سپہ سالار تھے، پیغمبرِ اسلام نے ہمیشہ امن کا پیغام اور راستہ اپنایا مگر جب سرکش ضدی منافق کافر و مشرک اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو پھر پیغمبرِ اسلام نے ان سے جھاد کیا اور اللہ نے ہمیشہ فتح و نصرت سے نوازا۔ کفار و مشرکین و غیر مسلمین کے خلاف بڑھنے والے ہر جھاد میں اللہ کی قدرت شامل رہتی ھے یہی وجہ ھے کہ چند قلیل جھادیوں سے بھی کثیر تعداد اور طاقتور دشمن بھی کانپ اٹھتا ھے۔ تاریخ اسلام ہمیں درس دیتی ھے کہ مسلمان کا حسن اور زیور ہی جھاد ھے، جھاد رب العزت کو تمام عبادات میں سب سے زیادہ پسند ھے یہی وجہ ھے کہ جب آپ ﷺ کا حکم جھاد کیلئے صادر ہوجاتا تھا تو تمام فرائض کی ادائیگی میدانِ جنگ میں ہی ادا کی جاتی تھیں۔ ایک جماعت نماز ادا کرتی تھی تو دوسری جھاد کیلئے تیار کھڑی رہتی تھی اسی طرح جب دوسری جماعت نماز ادا کرتی تھی تو پھر پہلی جماعت جھاد کیلئے تیار کھڑی ہوجاتی تھی۔ معزز قارئین آج دینِ محمدی ﷺ اسلام کو آئے چودہ سو سال سے زائد کا عرصہ بیت گیا ھے ہر زمانے میں ہر دور میں ہر صدی میں اسلام کا غیر مسلموں کیساتھ جنگ کا معاملہ چلتا ہی رھا ھے اور یہ تسلسل امام زمانہ حضرت مھدی ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ کے آنے پر آخری جنگ پے ختم ہوگا۔ اس وقت ستاون اسلامی ممالک مین چند ایک ایسے ممالک ہیں جو جذبہ جھاد کی دولت سے مالا مال ہیں جن میں پاکستان ایران سرِ فہرست نام آتے ہیں۔ پاکستان مصلحت اور جنگی پالیسی کے تحت بہترین عمل پیرا ھے کیونکہ کافر مکر و فریب کریں تو تم بہترین تدبیر سے کام لو پاکستان مخالف کو یہ گوارا نہیں اس لئے وہ ان لوگوں کے ذریعے انتشار پھیلانے کی کوشش کرینگے جو عقل کے اندھے ہوچکے ہیں جو سوچ و افکار کے بجائے جذبات اور اندھے پن سے کام لیتے ہیں خیر پاکستانی عوام ہی ان جاہلوں کو خون نمٹنا جانتی ھے اور پاکستانی قوم کو اپنی افواج پر بھرپور اعتماد یقین بھروسہ ھے یہ پاکستانی قوم اپنی افواج کیساتھ شانہ بشانہ کھڑی ھے اور ہمیشہ رہیگی انشاءاللہ۔ معزز قارئین!! اب میں چلتا ہوں اپنے کالم کے اصل موضوع کی طرف آپکو بتاتا چلوں کہ چین کے ایک پروفیسر نے اسرائیل امریکہ اور ایران جنگ کے متعلق بڑا دعویٰ پیش کردیا ھے پروفیسر جیانگ کا دعویٰ ھے کہ ”ایران نے بیس سال اس جنگ کی تیاری کی ہے۔ امریکہ اکیسویں صدی کی جنگ لڑنے کے لیے تیار نہیں“، ”میرے تجزیے کے مطابق جس طرح یہ جنگ آگے بڑھ رہی ہے، میرا ماننا ہے کہ ایران کو امریکہ پر کئی اسٹریٹجک برتریاں حاصل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت یہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک طویل تھکا دینے والی جنگ (دستبرداری کی جنگ) بن چکی ہے۔ ایرانی اس تصادم کے لیے بیس سال سے تیاری کر رہے ہیں۔ اپنی مذہبی فکر اور نظریۂ آخرت کے تناظر میں۔ ان کے نزدیک یہ “عظیم شیطان” کے خلاف جنگ ہے۔ انہوں نے اس سے پہلے بھی کئی مشقیں کی ہیں۔ گزشتہ جون میں بارہ روزہ جنگ ہوئی تھی جس میں ایرانیوں نے اسرائیل اور امریکہ دونوں کی حملہ آور صلاحیتوں کا جائزہ لیا اور انہیں پرکھا۔ اس کے بعد انہیں آٹھ ماہ مکمل تیاری کا وقت بھی ملا۔ ایران نے اپنے اتحادی گروہوں حوثی، حزب اللہ، حماس اور شیعہ ملیشیاؤں کے ذریعے امریکی ذہنیت کو بخوبی سمجھ لیا ہے، اور اب ان کے پاس امریکی طاقت کو کمزور کرنے اور بالآخر امریکی سلطنت کو ختم کرنے کی حکمتِ عملی موجود ہے۔ ایران دراصل صرف امریکہ سے نہیں بلکہ پوری عالمی معیشت کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ وہ خلیجی تعاون کونسل جی سی سی کے ممالک کو نشانہ بنا رہا ہے۔ وہ امریکی اڈوں کے ساتھ ساتھ ان کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کر رہا ہے۔ آگے چل کر وہ پانی صاف کرنے والے پلانٹس (صاف کرنے والے پلانٹس) کو نشانہ بناسکتا ہے، جو ان ممالک کی شہ رگ ہیں کیونکہ ان کے پاس قدرتی تازہ پانی نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خلیجی ممالک کی ساٹھ فیصد پانی کی فراہمی انہی پلانٹس سے ہوتی ہے۔ اگر پچاس ہزار ڈالر کا ایک ڈرون ریاض جیسے شہر کے کسی بڑے پلانٹ کو تباہ کر دے، جہاں ایک کروڑ آبادی ہے، تو وہ دو ہفتوں میں پانی سے محروم ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ایران نے عملاً آبنائے ہرمز بند کردی ہے، جبکہ خلیجی ممالک اپنی نوے فیصد خوراک اسی راستے سے حاصل کرتے ہیں۔ اس وقت ایران سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور قطر کے وجود کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ یہ اہم اس لیے ہے کیونکہ خلیجی ریاستیں امریکی معیشت کی بنیاد ہیں۔ وہ پیٹرو ڈالر بیچتی ہیں اور پھر انہی ڈالرز کو امریکی اسٹاک مارکیٹ میں دوبارہ سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ اس وقت امریکی معیشت مصنوعی ذہانت اے آئی یعنی آرٹیفیشل انٹیلجینس کے ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری پر کھڑی ہے، جس میں بڑا حصہ خلیجی سرمایہ کا ہے۔ اگر خلیجی ممالک تیل فروخت نہ کرسکیں یا اے آئی میں سرمایہ کاری نہ کر سکیں تو یہ اے آئی بلبلا پھٹ جائے گا، اور اس کے ساتھ امریکی معیشت بھی، جو ان کے مطابق ایک مالیاتی “پونزی اسکیم” ہے۔ میرا پہلا نکتہ یہ ہے کہ امریکی فوج اکیسویں صدی کی جنگ لڑنے کے لیے ڈیزائن نہیں کی گئی۔ امریکی فوجی صنعتی نظام دوسری عالمی جنگ کے بعد سرد جنگ لڑنے کے لیے بنایا گیا تھا جہاں ٹیکنالوجی اور طاقت کا مظاہرہ اہم تھا۔ امریکی دفاعی نظام انتہائی مہنگی اور پیچیدہ ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ اسی لیے اس جنگ میں عدم توازن نظر آ رہا ہے — ملین ڈالر کے میزائل پچاس ہزار ڈالر کے ڈرون گرانے کی کوشش کررہے ہیں، جو طویل مدت میں پائیدار نہیں۔ یہ امریکی ناقابلِ شکست ہونے کے تاثر کے خاتمے کا آغاز ہے، جو سرد جنگ کے بعد امریکی بالادستی کی بنیاد تھا۔ یہ نہ صرف عالمی معیشت بلکہ پیٹرو ڈالر اور امریکی ریزرو کرنسی سسٹم کے خاتمے کی علامت ہے۔ دنیا ایک کثیر قطبی نظام (کثیر قطبی دنیا) کی طرف جارہی ہے۔ اگر امریکہ ایران میں زمینی افواج بھیجتا ہے تو یہ اس کے لیے تباہ کن ہوسکتا ہے۔ مگر صرف فضائی حملوں سے کبھی بھی کسی ملک میں حکومت کی تبدیلی نہیں ہوئی، رجیم چینج کیلئے زمینی فوج درکار ہوتی ہے۔ اگلے چند ماہ میں امریکہ پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ زمینی فوج بھیجے، خاص طور پر خلیجی ممالک اور اسرائیل کی طرف سے۔ اگر خلیجی ریاستیں گر گئیں تو پیٹرو ڈالر بھی ختم ہو جائے گا۔ ان ممالک کے پاس دو راستے ہوں گے: یا تو ایران کو اربوں ڈالر دے کر جنگ روکی جائے، یا پھر امریکہ زمینی فوج بھیج کر ایرانی خطرے کو ختم کرے۔ امریکی عوام زمینی جنگ کے خلاف ہیں اور پہلے حملوں کے بھی اٹھہتر فیصد مخالف تھے۔ میرا ہمیشہ سے مؤقف رہا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل دونوں ایران میں حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ سعودی عرب کے لیے ایران زیادہ بڑا وجودی خطرہ ہے کیونکہ سعودی معیشت مکمل طور پر تیل پر منحصر ہے، جبکہ ایران ایک تھیوکریسی ہے جو سعودی بادشاہت کے خلاف ہے۔ ایران حوثیوں کی مدد کرتا ہے جو سعودی عرب کے لیے مسئلہ رہے ہیں۔ سعودی معیشت اس وقت دباؤ میں ہے، وہ سیاحت، ای اسپورٹس اور نیوم جیسے منصوبوں کے ذریعے معیشت بدلنے کی کوشش کر رہا ہے، مگر یہ کامیاب نہیں ہو رہے۔ اس لیے سعودی عرب پورے مشرق وسطیٰ کے تیل پر کنٹرول چاہتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ رپورٹ درست ہو سکتی ہے کہ سعودی عرب نے ایران پر حملے کے لیے دباؤ ڈالا، کیونکہ وہ اسرائیل اور امریکہ کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے دے رہا ہے۔ یہ سوال اہم ہے کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ میرے نزدیک تین ممکنہ وجوہات ہیں: پہلا: تکبر۔ تاریخ میں سلطنتیں اسی طرح رویہ اختیار کرتی ہیں۔ جلدی کامیابیاں حد سے زیادہ اعتماد پیدا کرتی ہیں۔ دوسرا: اندرونی سیاسی فائدہ۔ اگرچہ امریکہ کو اس جنگ سے فائدہ نہیں، مگر ٹرمپ کو ذاتی طور پر فائدہ ہوسکتا ہے۔ سعودی عرب نے جیرڈکشنر کے فنڈ میں دو ارب ڈالر لگائے۔ اسرائیلی شخصیات نے ٹرمپ کی مالی مدد کی۔ اگر جنگ بڑھی اور ایمرجنسی اختیارات ملے تو وہ سیاسی فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ تیسرا: نظریۂ آخرت اور خفیہ طاقتیں۔ ایپسٹین فائلز سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا پر خفیہ گروہ حکمرانی کرتے ہیں۔ کچھ لوگ انہیں الومیناتی کہتے ہیں جن میں جیسیوٹ، سباطین فرینکسٹ اور فری میسن شامل ہیں۔ ان کے نزدیک مشرق وسطیٰ کی جنگ آخری زمانے کے منصوبے کا حصہ ہے۔” پروفیسر جیانگ شوئے چھِن چینی نژاد کینیڈین ماہرِ تعلیم، مصنف اور جیوپولیٹیکل تجزیہ کار؛ یوٹیوب چینل پیشین گوئی کی تاریخ کے بانی و میزبان۔ ییل کالج سے انگریزی ادب میں بی اے کی ڈگری رکھتے ہیں ۔۔۔۔ معزز قارئین!! آپ موجودہ حالات کو پروفیسر کے نقطہ نظر سے ایکبار ضرور غور کیجئے گا بحیثت مسلمان ہمارا ایمان ھے کہ حالات اسی طرف لازماً جائیں گے کہ جن جن علامات کی نشاندہی کی گئی ہیں اسی دور میں فتنہ دجال سے پناہ اور ایمان کی سلامتی کیلئے بھی بار بار آگاہ کیا گیا۔ آج ملک پاکستان میں من حیث القوم ہر ایک کا عمل خلاف شریعت نظر آتا ھے لازمی نہیں کہ جو پنج وقتہ نمازی ھو ذہد و تقویٰ میں یکتا دکھتا ھو وہی ایمان والا ھو ایمان کی پہلی شرط سچ پر قائم رہنا ، دوسری شرط دیانتاری پر جمے رہنا اور تیسری شرط خیانت سے بچے رہنا اگر اس شرائط پر ہم خود کر اترتا دیکھتے ہیں تو شکر بجا لائیں کہ رب العزت نے ہمیں ایمان کی دولت سے مستعفید کیا ھوا ھے اور اگر ھم ان تینوں شرائط سے خالی ہیں تو جان لیجئے کہ ہم میں ایمان نہیں اور بناء ایمان کوئی بھی کلمہ گو مسلم کو کہلائے گا مگر مسلمان نہیں، مسلمان کیلئے شرط اوّل جھاد بھی ھے اور جھاد کا جذبہ وہی رکھتے ہیں جو ایمان کی دولت سے سرفراز ہوتے ہیں یاد رکھئے کہ یہود، نصاریٰ، ہنوذ، کفار و مشرکین اور غیر مسلمین نے جو خود ساختہ جھادی تنظیمیں بنائی ہوئی ہیں درحقیقت یہ فتنہ دجال، خوارج اور بدترین دشنمانانِ اسلام اور دشمنانان دینِ ہیں ان میں افغانستان کی جھادی تنظیمیں سر فہرست ہیں جو انکی سہولتکاری کریگا گویا اس نے دین محمدی ﷺ سے بغاوت اور غداری کی ھے، دنیا کے بدلتے تناظر میں پاکستانیوں کو چاہئے کہ آپس میں اتحاد و اتفاق اور باہمی بھائی چارہ کو فروغ دیں اور فتنہ و فساد کو روکنے میں ریاست اور پاکستان کا ساتھ دیں اسی میں ہماری کفار و مشرکین اورغیر مسلموں کے خلاف کامیابی و کامرانی میسر ممکن ہوسکے گی۔۔۔۔۔!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں