26

اتحاد بین المسلمین — وقت کی اہم ترین ضرورت خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

اتحاد بین المسلمین — وقت کی اہم ترین ضرورت

خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

عالمِ اسلام اس وقت جن چیلنجز سے دوچار ہے، ایسے حالات میں اتحاد بین المسلمین نہ صرف ایک مذہبی تقاضا ہے بلکہ وقت کی اہم ترین ضرورت بھی ہے۔ اگر مسلمان آپس میں متحد ہو جائیں تو وہ ہر داخلی و خارجی سازش کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔
اسلام کا بنیادی پیغام ہی اخوت، بھائی چارے اور وحدت کا ہے۔ حضرت محمد ﷺ نے مدینہ منورہ میں مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات قائم کرکے عملی طور پر اتحاد کی ایسی مثال پیش کی جو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی گئی۔ یہ اتحاد ہی تھا جس نے کمزور اور منتشر قبائل کو ایک مضبوط امت میں تبدیل کردیا۔ قرآنِ کریم بھی ہمیں متحد رہنے اور تفرقے سے بچنے کی تلقین کرتا ہے۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے اتحاد کا دامن تھاما، انہیں عظمت و سربلندی نصیب ہوئی۔ خلافتِ راشدہ کے دور میں باہمی اتفاق و یگانگت نے اسلامی ریاست کو وسعت دی اور عدل و انصاف کی بنیاد رکھی۔
اتحاد بین المسلمین کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ سب اپنے مسلک یا فکری شناخت کو ترک کردیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مشترکہ عقائد اور بنیادی اصولوں پر یکجا ہوکر باہمی احترام کو فروغ دیا جائے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اختلاف رائے فطری امر ہے، لیکن اسے دشمنی اور نفرت میں تبدیل کرنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ برداشت، رواداری اور مکالمہ ہی وہ راستہ ہے جو ہمیں قریب لا سکتا ہے۔
پاکستان جیسے اسلامی ملک میں اتحاد کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہاں مختلف مکاتبِ فکر کے لوگ آباد ہیں۔ اگر ہم نے باہمی ہم آہنگی کو فروغ نہ دیا تو داخلی استحکام متاثر ہوگا۔ علماء، خطباء، اساتذہ اور دانشوروں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے خطبات اور تحریروں کے ذریعے محبت، اخوت اور یگانگت کا پیغام عام کریں۔ میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ سنسنی اور نفرت کے بجائے اتحاد و یکجہتی کو فروغ دے۔
نوجوان نسل کو خاص طور پر یہ شعور دینا ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی اشتعال انگیز اور فرقہ وارانہ مواد سے دور رہیں۔ ہمیں یہ سوچ اپنانی ہوگی کہ ہم سب سے پہلے مسلمان ہیں، بعد میں کسی مسلک یا گروہ سے وابستہ ہیں۔ اگر ہم نے اپنی ترجیحات درست کرلیں تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہوسکتے ہیں۔
آخر میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ اتحاد بین المسلمین محض ایک نعرہ نہیں بلکہ بقا کی ضمانت ہے۔ باہمی احترام، برداشت، مکالمہ اور مشترکہ مقاصد پر اتفاق ہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک مضبوط اور باوقار امت کی تعمیر ممکن ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں اور اس پیغام کو عام کریں کہ اتحاد میں ہی طاقت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں