55

تحریر ڈاکٹر عارف رضا ملک چیئرمین سٹی پریس کلب رجسٹرڈ ہارون آباد۔ موبائل فون کا استعمال اور ہمارا قیمتی وقت

تحریر ڈاکٹر عارف رضا ملک چیئرمین سٹی پریس کلب رجسٹرڈ ہارون آباد۔

موبائل فون کا استعمال اور ہمارا قیمتی وقت

انسان کی زندگی میں کچھ ایجادات ایسی بھی آئی ہیں جیسے کمپوٹر موبائل فون۔ کیبل سروس اور انٹر نیٹ سروس
انسانی زندگی کے دوران چند ایجادات ایسی ہوتی ہیں جو طرزِ زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیتی ہیں، اور موبائل فون انہی میں سے ایک ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا آلہ بظاہر ہمارے ہاتھ میں مگر اس کے اثرات ہماری انفرادی و اجتماعی زندگی کے ہر پہلو پر نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ آج کا انسان صبح آنکھ کھلنے سے لے کر رات سونے تک موبائل فون کا استعمال زیادہ کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ موبائل فون واقعی ہمارے لیے سہولت ہے یا نہیں
موبائل فون نے بلاشبہ انسانی زندگی میں بے شمار آسانیاں پیدا کی ہیں۔ خط و کتابت بند ہو گئی عید کارڈ بند ہو گئے موبائل فون سے فاصلے سمٹ گئے،ہیں رابطے تیز ہو گئے اور معلومات تک رسائی چند لمحوں کی محتاج رہ گئی۔ سٹوڈنٹس اپنی تعلیم کے متعلق معلومات حاصل کر سکتے ہیں مریض گھر بیٹھے ڈاکٹر سے مشورہ کر سکتا ہے، کاروبار کرنے والے کاروبار کو دنیا بھر میں پھیلا سکتا ہے۔ ایمرجنسی کی صورت میں فوری مدد کا حصول اور پیاروں سے ہر وقت رابطہ یقیناً کسی نعمت سے کم نہیں۔
مگر تصویر کا دوسرا رخ اس سے کہیں زیادہ تشویشناک ہے۔ موبائل فون نے جہاں انسان کو دنیا سے جوڑا ہے وہیں اسے اپنے قریب ترین رشتوں سے دور بھی کر دیا ہے۔ ایک ہی چھت تلے رہنے والے افراد کے درمیان خاموشی کی دیوار کھڑی ہو چکی ہے۔ محفلیں موجود ہوتی ہیں مگر گفتگو غائب ہوتی ہے۔ نوجوان نسل کھیل کے میدانوں سے نکل کر ورچوئل دنیا کی قیدی بن چکی ہے۔ وقت کا ضیاع اس قدر بڑھ چکا ہے کہ انسان کو خود احساس نہیں ہوتا کہ وہ اپنی زندگی کے قیمتی لمحات ایک اسکرین کی نذر کر رہا ہے۔صرف وقت ہی نہیں بلکہ صحت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ آنکھوں کی کمزوری، گردن اور کمر کے مسائل، نیند کی کمی اور ذہنی دباؤ جیسے مسائل عام ہوتے جا رہے ہیں۔ نفسیاتی ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا کا بے جا استعمال احساسِ محرومی، بے چینی اور ڈپریشن کو جنم دے رہا ہے۔ ہر شخص دوسروں کی مصنوعی خوشیوں کو دیکھ کر اپنی حقیقی زندگی سے ناخوش دکھائی دیتا ہے۔
اخلاقی اعتبار سے بھی موبائل فون نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ غیر ضروری اور غیر اخلاقی مواد تک آسان رسائی نے نوجوان نسل کے خیالات اور رویوں کو متاثر کیا ہے۔ جھوٹی خبروں کا پھیلاؤ، کردار کشی اور فضول بحثیں معاشرتی بگاڑ کا سبب بن رہی ہیں۔ عزت، حیا اور برداشت جیسی اقدار تیزی سے کمزور ہوتی محسوس ہو رہی ہیں۔
تاہم سارا قصور موبائل فون کا نہیں۔ اگر یہی موبائل علم کے حصول، مثبت سرگرمیوں، دینی و اخلاقی تربیت اور تعمیری رابطوں کے لیے استعمال ہو تو یہ ہماری ترقی کا بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔ مگر اگر اس کا استعمال بے مقصد مصروفیات، وقت کے ضیاع اور اخلاقی گراوٹ کے لیے ہو تو پھر یہ ایک ایسی زنجیر بن جاتا ہے جو انسان کو آہستہ آہستہ اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خود بھی موبائل کے استعمال میں اعتدال پیدا کریں اور اپنی نئی نسل کو بھی اس کا شعور دیں۔ گھروں میں ایسے اوقات مقرر کیے جائیں جہاں موبائل کا استعمال بند ہو اور اہلِ خانہ آپس میں گفتگو کریں۔ تعلیمی ادارے طلبہ کی رہنمائی کریں اور میڈیا اس حوالے سے آگاہی پیدا کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں