98

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک* *عنوان: بلڈرز مافیاء ملک و ریاست کو کھوکھلا کر ڈالے گا* *کالمکار : جاوید صدیقی*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: بلڈرز مافیاء ملک و ریاست کو کھوکھلا کر ڈالے گا*

*کالمکار : جاوید صدیقی*

میں پاکستان کے صوبہ سندھ کا شہری ہوں اس بابت آج میرا کالم کراچی سمیت سندھ کے بلڈرز ایسوسی ایشن اور انکی تنظیم آباد کے حوالے سے ھے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی پورے سندھ میں رہائشی ہو یا تجارتی تعمیرات ان سب پر کنٹرول کے قانونی حقوق رکھتی ھے تاکہ آئین و قوانین اور انسانی و اخلاقی تقاضوں کے مطابق سرکاری و نجی بلڈرز کمپنیوں کی بہتر انداز میں دیانتداری و ایمانداری کیساتھ آپریشنل امور کراسکے۔ ہر شہر میں بھی زمینی معاملات کیلئے ایک ذیلی ادارہ بنا ہوتا ھے کراچی میں کے ڈی اے، ایم ڈی اے، ایل ڈی اے وغیرہ اسی طرح ایم نائن جامشورو ایس ڈی اے اور حیدرآباد کا ایچ ڈی اے بلترتیب شہروں میں اپنے اپنے نام و شناخت سے کام کررہے ہیں۔ یہاں جناب وزیراعظم میاں شہباز شریف صاحب، جناب صدر مملکت آصف علی زرداری صاحب، جناب فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب، جناب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ صاحب اور جناب سینئر وزیر شرجیل انعام میمن صاحب کی توجہ اس سنگین نقاط کی طرف دلاتا ھوں کہ بلڈرز کو سختی سے پابند سلاسل کردیا جائے کہ وہ ہاؤسنگ اسکیم اور تجارتی اسکیموں کو پانچ سال تک محدود رکھیں پانچ سالوں میں مکمل رقم لیکر رہائشی اسکیموں کے پلاٹس یا بنگلوز یا مکانات صارفین کو تمام قانونی ضوابط مکمل کرکے حوالے کردیں اس سے لینڈ مافیاء کا خاتمہ میں نہایت کمی واقع ہوگی۔ آپ سب کو یاد دلاتا چلوں کہ کراچی، ایم نائن سمیت سندھ بھر میں بلڈرز کمپنیاں پچیس سے تیس سال گزر جانے کے بعد بھی رہائشی اسکیموں کے صارفین کو انکے حوالے پلاٹس نہیں کئے جبکہ ان تمام اسکیموں کی ادائیگی برسوں پہلے مکمل ادا کردی گئیں ہیں مگر ان بلڈرز کمپنیوں کی جانب سے ٹال مٹول اور بہانے جاری ہیں۔ آپ کو یہ بھی یاد دلاتا چلوں کہ جب ان سب اسکیموں کی بکنگ ہوئی تھی اس وقت کے مطابق لاکھوں میں بھاری رقم تھی لیکن اب وہ جگہ کی وجہ سے کڑوروں تک جا پہنچی ہیں یقیناً بلڈرز کمپنیوں کو یہ برداشت نہیں کہ کڑوروں کی جگہ لاکھوں میں دیدی جائے۔ جناب وزیراعظم میاں شہباز شریف صاحب، جناب صدر مملکت آصف علی زرداری صاحب، جناب فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب، جناب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ صاحب اور جناب سینئر وزیر شرجیل انعام میمن صاحب آپ سب مسلمان ہیں اور اللہ تبارک تعالیٰ، رسول خدا ﷺ اور قرآن پاک پر مکمل ایمان رکھتے ہیں تو یہ بھی جانتے ضرور ہونگے کہ یہ منافع اللہ کی جانب سے صارف کو عطا ھوا ھے نہ کہ بلڈرز کمپنیوں کو اسی لئے بلڈرز کمپنیوں کو احکامات جاری کریں کہ صارفین کو بکنگ کے وقت جو قانونی عہد طے کیئے گئے تھے اسکی تعمیل فوری کی جائے اور قانون بنادیا جائے کہ ہر ہاؤسنگ اسکیم و تجارتی اسکیم پانچ سال کی شرط مدت کیساتھ رقم کی وصولی یقینی بناکر صارفین کے پلاٹ یا بنگلوز یا فلیٹس حوالے کردیئے جائیں۔ سوائے پاکستان کے ہر ملک میں پانچ سال یا اس سے بھی کم عرصہ میں بلڈرز کمپنیاں ریاستی قوانین کے مطابق اپنا پروجیکٹ مکمل کرکے صارف کے حوالے کردیتے ہیں اگر پاکستان اور بلخصوص سندھ و کراچی کو ترقی یافتہ بنانا ھے تو پانچ سال کی پابندی لازمی قرار دیدی جائے اسی میں فلاح ھے ریاست و ملک اور عوام کی۔ آپ سب معززین جناب وزیراعظم میاں شہباز شریف صاحب، جناب صدر مملکت آصف علی زرداری صاحب، جناب فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب، جناب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ صاحب اور جناب سینئر وزیر شرجیل انعام میمن صاحب کو اس بابت سنجیدگی سے لینا ھوگا وگرنہ بلڈرز مافیاء ملک و ریاست کو کھوکھلا کر ڈالے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں