*وہ امور جو روزے کی حالت میں جائز نہیں*
پیر 23 فروری 2026
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
*وہ امور جو روزے کی حالت میں جائز نہیں*
غیبت کرنا ،جھوٹ بولنا
،گالی دینا ،لڑائی جھگڑا کرنا، روزے کی حالت میں بدرجہ اولی ناجائز ہیں۔( بخاری)
روزے کی حالت میں بےہودہ فحش اور جہالت کے کام یا گفتگو کرنا منع ہے (ابن خزیمہ)
روزے کی حالت میں کلی کرتے وقت ناک میں اس طرح پانی ڈالنا جائز نہیں کہ حلق تک پہنچنے کا خدشہ ہو( ترمذی)
*روزے کو فاسد کرنے یا توڑنے والے امور*
روزہ کے دوران جماع کرنے سے روزہ باطل ہو جاتا ہے اس پر کفارہ بھی ہے قضا بھی
*روزے کا کفارہ غلام آزاد کرنا ہے یا دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنا یا 60 محتاجوں کا کھانا کھلانا ہے*
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک صحابی آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ہلاک ہو گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہے اس نے کہا میں روزے کی حالت میں بیوی سے صحبت کر بیٹھا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تو ایک غلام آزاد کر سکتا ہے اس نے کہا “نہیں”۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دریافت کیا کہ کیا تو ۔”دو ماہ کے روز مسلسل روزے رکھ سکتے ہو؟” اس نے عرض کیا “نہیں” ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا “کیا 60 مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟” اس نے عرض کیا “نہیں” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔” اچھا بیٹھ جاؤ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر رک گئے۔ ہم بھی اسی حالت میں بیٹھے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک کھجور کا عرق لایا گیا عرق (بڑے ٹوکرے کو کہا جاتا ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” یہ مسئلہ پوچھنے والا کہاں ہے” اس نے عرض کیا “میں حاضر ہوں” نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا “یہ کھجوریں لے جانا اور صدقہ کر دے”۔ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا صدقہ اپنے سے زیادہ محتاج لوگوں کو دوں۔ واللہ مدینہ کی ساری آبادی میں کوئی میرے گھر سے زیادہ محتاج نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے ۔یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں نظر انے لگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے فرمایا اچھا جاو اپنے گھر والوں کو ہی کھلا دو (اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے)
*قصدا” قے کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اس پر قضا واجب ہے خود بخود آنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا*
(ابو داؤد اور ابن ماجہ)
*حیض یا نفاس شروع ہونے سے عورت کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے*
روزے کی قضا ہے نماز کی نہیں۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا ایسا نہیں ہے کہ عورت جب حائضہ ہو جاتی ہے تو نہ نماز پڑھ سکتی اور نہ روزہ رکھ سکتی ہے اور عورتوں کے دین میں کمی کی یہی وجہ ہے (بخاری)
حضرت ابوالزلہ رحمت اللہ علیہ کہتے ہیں کہ مسنون اور شرعی احکام بسا اوقات رائے کے برعکس ہوتے ہیں لیکن مسلمانوں پر ان احکام کی پیروی کرنا لازم ہے انہیں احکام میں سے ایک یہ بھی ہے کہ حائضہ روزوں کی قضا تو دے لیکن نماز کی قضا نہ دے (رواہ بخاری)۔
*الدعاء*
یا اللہ تعالی روزوں کا خالص ثواب عطا فرما اور غلطی سے جو بھول چوک یا خطا سرزد ہو جائے وہ اپنی رحمت کے وسیلے معاف فرما دینا۔
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333