تحریر: اللہ نواز خان
allannawazk012@gmail.com
فضول خرچی
فضول خرچی بہت ہی نقصان دہ ہے،اس سے مال و دولت کے ضائع ہوتاہےاورآخرت میں بھی اس کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔اس لیے ضروری ہے کہ فضول خرچی سے بچا جائے۔اسلام نے بھی اسراف یا فضول خرچی سے بچنے کا حکم دیا ہے۔بہت دفعہ فضول قسم کے دکھاوے کی وجہ سے فضول خرچی کرنا پڑتی ہے۔مثال کے طور پر ایک شخص شادی پر بے دریغ روپیہ خرچ کردیتاہے،حالانکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا لیکن وہ اس اس تصور کے ساتھ خرچ کرتا ہے کہ لوگوں میں اس کی دھاک بیٹھ جائے۔مختلف قسم کے فنکشن برپا کیے جاتے ہیں،حالانکہ وہ فنکشن منعقد کرتے وقت قرض لیا جاتا ہے۔فضول قسم کے دکھاوے کے لیے دولت کا بہت بڑا حصہ خرچ کر دیا جاتا ہے۔اس طرح دیگر تقریبات منعقد کی جاتی ہیں جن کا خاص فائدہ نہیں ہوتا لیکن اس پر بھرپور فضول خرچی کی جاتی ہے۔اگر وہ رقم یا سرمایہ کسی اچھے کام میں خرچ کیا جائے تو زیادہ سے زیادہ لوگ فائدہ اٹھائیں گے اور آخرت میں بھی اس کا اجر ملے گا۔بعض اوقات لاعلمی یا جہالت کی وجہ سے بھی فضول خرچی کر دی جاتی ہے۔مثال کے طور پر شادی کرتے وقت مہندی یا دیگر رسموں پر ڈھیر سارا پیسہ ضائع کر دیا جاتا ہے،حالانکہ ان کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی لیکن رسمی طور پر وہ افعال سرانجام دیے جاتے ہیں۔ان غیر ضروری افعال کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا لیکن وہ افعال سرانجام دینے والا سمجھتا ہے کہ وہ مقدس افعال سرانجام دے رہا ہے۔اسی طرح کئی قسم کے رسوم و رواج پائے جاتے ہیں،جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا لیکن وہ رسم و رواج کو اپنانا ضروری سمجھ لیا جاتا ہے۔فضول قسم کی رسوم کو اسلام سے جوڑنا انتہائی خطرناک ہے اور اس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔اس لیے علماء کو بھی چاہیے عوام الناس کی رہنمائی کریں تاکہ ان قسم کی فضولیات سے بچ سکیں۔عوام الناس خود بھی دین ودنیاکی تعلیم حاصل کریں تاکہ ان کو حقائق کا ادراک ہو سکے۔
فضول خرچی اللہ تعالی کو سخت ناپسند ہے۔ارشاد باری تعالی ہے”فضول خرچی نہ کرو! یاد رکھو وہ فضول خرچ لوگوں کو پسند نہیں کرتا”(الانعام.141) بیہودہ کاموں میں مال و دولت اڑا دیا جاتا ہے،اس سے اللہ تعالی نے سختی سے منع کیا ہوا ہے۔اللہ تعالی حکم دیتے ہیں کہ رشتہ داروں کو حق دیا جائے اور مال کو نیک کاموں میں خرچ کیا جائے۔ارشاد باری تعالی ہے”اور رشتہ دار کو ان کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو (ان کا حق) اور اپنے مال کو بیہودہ کاموں میں نہ اڑاؤ! یقین جانو کہ جو لوگ بیہودہ کاموں میں مال اڑاتے ہیں وہ شیطان کے بھائی ہیں”(اسر اء27،26) قرآنی تعلیمات سے علم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے فضول خرچی کرنے والوں کو شیطان کا بھائی کہا ہے. اللہ تعالی کھانے پینے سے منع نہیں کرتا لیکن فضول خرچی یا اسراف سے منع کرتا ہے۔ایک جگہ پر ارشاد باری تعالی ہے”کھاؤ اور پیو لیکن اسراف نہ کرو”(الاعراف.31) اللہ تعالی نے حکم دیا ہے کہ اعتدال سے کام لیا جائے۔فضول خرچی سے بھی منع کرتا ہے،لیکن قریبی رشتہ داروں اور خود پر خرچ کرنے کا حکم بھی دیتا ہے۔ارشاد باری تعالی ہے”اور نہ تو(ایسے کنجوس بنوکہ) اپنے ہاتھ گردن سے باندھ کر رکھو اور نہ تو(ایسے فضول خرچ کہ) ہاتھ کو کھلا چھوڑ دو جس کے نتیجے میں تمہیں قابل ملامت وقلاش ہو کر بیٹھنا پڑے”(الاسرا.29) اسلام اس حالت سے بھی روکتا ہے کہ فضول خرچی کی جائے اور اس حالت سے بھی روکتا ہے کہ کنجوسی اختیار کی جائے،بلکہ میانہ روی اختیار کی جائے۔میانہ روی اختیار کرنے والا اللہ تعالی کو بہت ہی پسند ہے۔
بہت سی احادیث میں بھی فضول خرچی سے منع کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ صدقہ و خیرات کرنے والا فضول خرچی نہیں کرتا۔اچھا کھانا،پینا یا پہننا جائز ہے۔ایک حدیث کے مطابق،کھاؤ،پیو،صدقہ کرو اور پہنو لیکن فضول خرچی اور تکبر سے بچو.(بخاری. سنن ابن ماجہ) واضح ہوتا ہے کہ اچھا کھانا،پینا اور بہتر لباس پہننا فضول خرچی نہیں بلکہ بہتر ہے۔اسلامی تعلیمات کے مطابق فضول خرچی ممنوع ہے۔چاہے فنکشن کے نام پر سرمایہ ضائع کیا جائے،چاہے کسی رسم ورواج کے نام پر فضول خرچی کی جائے یا کوئی اور طریقہ استعمال کر کے فضول خرچی کی جائے۔یہاں تک کہ وضو کرتے وقت پانی کا اسراف بھی ممنوع ہے۔روایت کے مطابق،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کاحضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس گزر ہوا اور وہ وضو کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور ارشاد فرمایا”یہ اسراف کیسا؟”انہوں نے عرض کیا”کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا.”ہاں! اگرچہ تم بہتے ہوئے دریا پر ہو”(سنن ابن ماجہ)۔درج بالا حدیث سےعلم ہوتا ہے کہ وضو میں بھی تھوڑا سا زیادہ پانی استعمال کرنا اسراف کہلاتا ہے۔حضور نے یہاں تک فرما دیا کہ اگر تم بہتے ہوئےدریا پر بھی بیٹھے ہو تو پھر بھی پانی کا اسراف نہ کیا جائے۔تصور کیا جائےکہ آج کل پانی کا فضول طور پر اسراف کس طرح کیا جاتا ہے۔پانی جیسی نعمت کا حصول مشکل ہے لیکن بے شمار افراد کو پانی مفت دستیاب ہوتا ہے اس لیے پانی کو بے تحاشہ ضائع کر دیا جاتا ہے جو کہ اسراف/فضول خرچی کے زمرے میں آتا ہے۔پانی جیسی نعمت کا حال ان سے پوچھا جائے جو اس نعمت سے محروم ہیں اور قطرہ قطرہ پانی کے لیے ترس رہے ہیں۔جن کو پانی جیسی نعمت آسانی سے ملتی ہے تو وہ پانی کا اسراف کرتے ہیں۔پانی انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کو ضرورت کے مطابق استعمال کرنا ضروری ہے تاکہ دوسروں تک پانی کو پہنچایا جا سکے۔
فضول خرچی یااسراف سے بچنا ضروری ہے۔سرمایہ ہو یا کوئی دوسری چیز،فضول خرچی سے اجتناب کرنا چاہیے۔یہ نہیں کہ کنجوسی اختیار کر کے خود پر یا اہل خانہ پر خرچ نہ کیا جائے۔ضروریات زندگی کا پورا کرنا بھی ضروری ہے۔ایک حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی نعمتوں کا استعمال کیا جائے۔پھٹے پہنے کپڑے یا جوتے پہننا،کنجوسی کہلاتا ہے یہ اسراف نہیں ہوتا۔اچھا لباس پہنا جائے اور اچھے جوتے پہنے جائیں نیز اہل خانہ کو بھی بہتر حد تک ضروریات زندگی دی جائیں۔بہتر یہی ہے کہ نہ تو کنجوسی اختیار کی جائے اور نہ اسراف یا فضول خرچی،بلکہ میانہ روی اور اعتدال کا راستہ اختیار کیا جائے۔اسی میں انسان کی کامیابی ہے۔
میانوالی (راجہ نورالہی عاطف سے) ڈی پی او میانوالی کیپٹن ریٹائرڈ رائے محمد اجمل کے میانوالی سے ملتان
مریم نواز کو جا کر بتا دو ، جو کرنا ہے کر لو پرچہ نہیں ہو گا ۔۔۔ خاتون کے ساتھ دوران ڈ۔کیتی زیا۔دتی ۔۔
ہارون آباد (سٹی رپورٹر) اسٹیٹ لائف بہاولنگر کے نئے تعینات ہونے والے ضلعی انچارج ۔ چوہدری جمیل اختر سیکٹر ہیڈ ۔۔۔
دل کی بات خ ح شہزاد
دل۔کی۔۔بات۔۔ ۔خ ح شہزاد