11

دل۔کی۔۔بات۔۔ ۔خ ح شہزاد

دل۔کی۔۔بات۔۔
۔خ ح شہزاد
اسلام صرف ایک مزہب نہیں بلکہ ایک مکمل دین ھے اور حضور اکرم ﷺ کی زندگی ایک مکمل ضابطہ حیات ھے۔تمام تر مسائل کا حل تاقیامت تک آپ کو حضور اکرم ﷺکی زندگی سے مل جائے گا۔اسلام کے بنیادی ارکان پانچ ھیں۔کلمہ نماز۔روزہ۔حج۔زکوة۔اور چھٹا بھی ارکان اسلام ھی ھے لیکن آجکل یہ نہیں لکھا جاتا وجہ آپکو پتہ ھے یعنی جہاد فی سبیل اللہ۔یہ سارے ارکان اسلام کا صرف دس فیصد ھیں باقی 90فیصد اسلام کی عمارت باہمی لین دین۔معاشرتی معاشی ضروریات کو پورا کرنے اور معاشرہ کو ایک پرامن۔ترقی یافتہ۔خوشحال بنانے کے لیے ھے۔مشلا۔کلمہ زندگی میں ایک دفعہ پڑھ لیا تو بندہ مسلمان ھوگیا۔سال بعد روزے ھیں۔زندگی میں ایک بار حج کرلیا تو ٹھیک ھے۔اسی طرح زکوة بھی سال بعد دینی ھے اور جہاد بھی جب ضرورت پڑے گی تو کیا جائے گا اور نماز بھی پانچ وقت کی ھے۔لیکن سچ بولنا ھر وقت ھے۔ایمانداری سے سارے کام کرنے ھیں ہر وقت۔جھوٹ نہیں بولنا ھر وقت۔بے ایمانی نہیں کرنی ھر وقت۔حرام سے بچنا ھے ھر وقت۔حلال کمانا ھے کھانا ھے ھر وقت۔خوش اخلاقی کا مظاھرہ کرنا ھے ھر وقت۔لوٹ مار۔کرپشن۔سے بچنا ھے ھر وقت۔لیکن ھم نے اس وقت جو یہ دجالی دور جارھا ھے اسکو صرف ایک سازش کے تحت صرف چند عبادات تک محدود کردیا ھے اور ایک نفلی عبادت پر سوشل میڈیا پر اپ دیکھیں گے اتنی بحث ھورھی ھے کہ پتہ نہیں کون سا اسلام کا اھم ترین کام رہ گیا ھے۔دوسری طرف ھم دیکھتے ہیں کہ رمضان کے آتے ھی بلکہ پہلے ھی مہنگائی کا طوفان آجاتا ھے۔بلاوجہ چیزوں کے قیمتیں بڑھ جاتی ھیں۔غریب عوام پر روزے رکھنا مشکل بنا دیئے جاتے ھیں۔لیکن وہی حاجی صاحب نماز کے وقت پہلی صف میں نظر آئے گا یا پھر مدینہ مکہ عمرہ پر نظر آئے گا۔ھم لوگوں نے 90فیصد اسلام کو بھول کر صرف چند عبادات کو اسلام بنا کر عوام کے سامنے پیش کیا اور منبر و محراب سے اور تبلیغ سے کبھی یہ صدا نہیں آتی کہ یہ جو آپ نماز پڑھ رھے ھیں یہ آپ کے ایک لقمہ کی محتاج ھے۔اگر لقمہ حرام کھا کر نماز پانچ کی بجائے چھ پڑھ لو کوئی فائدہ نہیں۔اگر لقمہ حلال ھے تو نمازوں کی کمی پیشی کو اللہ تعالی معاف کردے گا۔لیکن حرام معاف نہیں ھوگا کیونکہ جس کا حق مارا ھے جب تک وہ معاف نہیں کرے گا۔جھوٹ بول کر سامان بیچنے والے اور بلاوجہ منافع خوری کرنے والوں کے روزے۔نمازیں کہاں اللہ تعالی قبول کرے گا۔بلکہ حکم ھے انکے منہ پر دے ماری جاھیں گیں۔ضروری ھے کہ ھم اس رمضان اپنے معاملات زندگی کو بہتر کریں۔اپنے رشتے داروں اور پڑوسیوں کے ساتھ معاملات درست کریں۔ناجائز منافع۔ذخیرہ اندوزی۔لوٹ مار کرپشن۔جیسی لعنتوں سے چھٹکارہ حاصل کریں۔تاکہ پاکستان حقیقی معنوں میں اسلامی جمہوریہ پاکستان بن سکے اور ھم ایک مصطفائی معاشرے میں اپنی زندگی گزار سکیں۔پاکستان اسلام کا قلعہ ھے لیکن اس قلعہ کا کرپشن لوٹ مار میں 136واں نمبر ھے اور حج عمرہ میں پہلا یا دوسرا ھے۔خود غور کرو کہ ھم کہاں کھڑے ھیں جب تک ھم خود اینا محاسبہ نھیں کرتے ھم اچھے مسلمان نہیں بن سکتے۔اس رمضان کچھ وقت نکالیں اپنے لیے۔اپنے بچوں کے لیے۔اپنے پاکستان کے لیے کہ ھم نے اسے کیسے حقیقی معنوں میں اسلام کا قلعہ بنانا ھے۔کیونکہ ھم اخلاقی طور پر پست ترین سطح پر پنچ چکے ھیں۔آج جب میں ظہر کے وقت مسجد گیا تو پتہ چلا کہ یو پی ایس کی بیڑی کوئی اتار کرلے گیا ھے۔تو میں اس وقت سے سوچ رھا ھوں کہ ھم کون سے مسلمان ھیں۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں