12

*رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ کو اپنی موت کا آخری سال ادراک ہو گیا تھا* اتوار 22 فروری 2026 تحقیق و تحریر؛ انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

*رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ کو اپنی موت کا آخری سال ادراک ہو گیا تھا*

اتوار 22 فروری 2026
تحقیق و تحریر؛
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

نبی کریم ﷺ کو اپنی وفات کا ادراک — دلائل، احادیث اور محدثین کی تشریحات

تمہید
یہ مسئلہ عقیدۂ اہلِ سنت سے متعلق ہے کہ آیا
محمد ﷺ
کو اپنی وفاتِ مبارکہ کا علم تھا یا نہیں؟

اہلِ سنت کا موقف یہ ہے کہ:
نبی ﷺ کو اپنی وفات کا علم اللہ تعالیٰ کی اطلاع سے ہو گیا تھا، نہ کہ ذاتی علمِ غیب سے۔

اب دلائل ملاحظہ فرمائیں۔

1️⃣ قرآنِ مجید سے دلیل

◾ سورۃ النصر
اکابر صحابہ خصوصاً حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا:

یہ سورت دراصل نبی ﷺ کی وفات کی خبر تھی۔

محدثین کی تشریح
ابن حجر عسقلانیؒ
فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ یہ سورت “اعلام بقرب الأجل” ہے۔

امام قرطبیؒ
اسے “سورۃ التودیع” قرار دیتے ہیں۔

2️⃣ حدیثِ اختیار (صحیح بخاری)
نبی ﷺ نے فرمایا
“ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ وہ دنیا چاہے یا اللہ کے پاس جو ہے۔ اس بندے نے اللہ کے پاس والی چیز کو اختیار کیا۔”
یہ سن کر
ابوبکر رضی اللہ عنہ
رو پڑے کیونکہ وہ سمجھ گئے کہ مراد خود رسول اللہ ﷺ ہیں۔

3️⃣ حضرت فاطمہؓ کے کان میں سرگوشی

مرض الوفات میں نبی ﷺ نے
فاطمہ رضی اللہ عنہا
کے کان میں دو باتیں فرمائیں:

1.اس مرض میں میرا وصال ہو جائے گا — وہ روئیں۔

2.تم میرے اہلِ بیت میں سب سے پہلے مجھ سے ملو گی — وہ مسکرائیں۔
(صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابن ماجہ)

یہ روایت صریح دلیل ہے کہ آپ ﷺ کو وصال کی خبر دی جا چکی تھی۔

4️⃣ دورِ قرآن کا دو مرتبہ ہونا
ہر سال رمضان میں
جبریل علیہ السلام
ایک مرتبہ قرآن کا دور کرتے تھے۔
آخری رمضان میں:
✔ دو مرتبہ دور ہوا
✔ نبی ﷺ نے فرمایا:
“أراه حضر أجلي”
(میں سمجھتا ہوں میرا وقت قریب آ گیا ہے)

(صحیح بخاری)

5️⃣ بیس دن اعتکاف
آپ ﷺ ہر سال دس دن اعتکاف فرماتے تھے۔
آخری سال:
✔ بیس دن اعتکاف فرمایا
محدثین فرماتے ہیں کہ یہ عبادت میں اضافہ قربِ وصال کی علامت تھا۔

6️⃣ حجۃ الوداع کا انداز بیان
آپ ﷺ نے فرمایا:
“شاید میں اس سال کے بعد تم سے نہ مل سکوں۔”

یہ جملہ واضح اشارہ ہے۔

7️⃣ آخری الفاظ

وصال کے وقت زبانِ مبارک پر تھا:
“بل الرفیق الأعلى”

یہ شعوری انتخاب کی دلیل ہے۔

محدثین کا اجماعی مفہوم

امام نوویؒ
فرماتے ہیں: یہ علم وحی کے ذریعہ تھا۔

ابن حجر عسقلانیؒ
فرماتے ہیں: یہ تمام قرائن قطعی دلالت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کو اپنے قربِ اجل کا علم تھا۔

عقیدے کا توازن (اہلِ سنت)

✔ نبی ﷺ کو وفات کا علم تھا
✔ یہ علم اللہ کی عطا سے تھا
❌ ذاتی، مستقل، غیر عطائی علمِ غیب نہیں تھا

قرآن کا اصول
“عالم الغیب فلا یظهر على غيبه أحدا إلا من ارتضى من رسول”

*نتیجہ*
تمام روایات کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ:

*سورۃ النصر*
*حدیثِ اختیار*
*حضرت فاطمہؓ والی حدیث*
*دوہرا دورِ قرآن*
*بیس دن اعتکاف*
*حجۃ الوداع کے الفاظ*
*آخری کلمات*
یہ سب مستقل قرائن ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو اپنی وفات کا ادراک ہو چکا تھا اور یہ علم اللہ تعالیٰ کی عطا سے تھا۔

الدعاَء
اللّٰہُمَّ رَبَّ هٰذِہِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ القَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِی وَعَدْتَهُ

ترجمہ:
اے اللہ! اس کامل دعوت اور قائم ہونے والی نماز کے رب! آپ حضرت محمد ﷺ کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرمائیں اور ان کو وہ مقام محمود عطا فرمائیں جس کا تو نے وعدہ فرمایا ہے۔

آمین یا رب العالمین

تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں