سانسوں کی مالا اور رشتوں کی ڈوری
نین تارا پچھلے دو گھنٹوں سے جلے پاوں کی بلی کی مانند بیڈ روم سے لاونج اور لاونج سے لان میں بار بار چکر لگاتی تھی. اسے ایک پل چین نہ تھا, اسی الجھن میں دوکپ چاے اور ایک کپ کافی بھی اسے اس پریشان کن حالت سے نکال نہ پای تھی. نین تارا نشیلے نقوش والی ایک سمارٹ سی لڑکی تھی, پانچ سالہ بیٹی کی ماں تھی مگر لگتی نہ تھی نیویارک سے فیشن ڈیزانینگ مکمل کرنے کے بعد اپنا برانڈ کامیابی سے چلا رہی تھی. پڑھائی کے دوران ہی اس کا رشتہ ایک کارڈیک سرجن سے ہو چکا تھا. شادی پاکستان میں دھوم دھام سے ہوی تھی. شادی کے پہلے دو سال ہنسی خوشی پلک جھپکتے گزر گئے تھے, دونوں کی زندگی میں رونقیں اور مسکراہٹیں بکھیرنے والا ایک خوبصورت جیتا جاگتا کھلونا, ان کا بیٹا شاہ زیب ہاشمی تھا. زندگی اچھی بھلی گزر رہی تھی کہ ایک غلط فہمی نے ہنستے بستے گھر کو کھنڈر کر دیا، نین تارا کو تو مانو دن میں تارے نظر آ گیے تھے وہ شوہر جو من چاہا تھا، جس کے ساتھ زندگی کے دو حسین سال ایسے بیت گیے تھے جیسے دو پل ہوں. نین تارا بار بار اپنا ہاتھ سر پہ مارتی تھی اپنے شوہر جس سے کل رات تک اس نے لمبی آڈیو کال کی تھی، بڑے خوشگوار ماحول میں بات چیت ہوئی تھی. تو کیا آفت آن پڑی کہ صبح صبح ہی وٹس ایپ پہ نین تارا کو طلاق کا میسج آ گیا. ایک نہ دو پوری تین طلاقیں، نین تارا کا منہ چڑانے کے لیے کافی تھیں. نین تارا نے اپنے چہیتے اور اکلوتے شوہر کو متعدد بار کنٹیکٹ کرنے کی کو شش کی مگر ہاری ہوی قسمت کی طرح رابطے بھی منقطع ہو چکے تھے. نین تارا سمجھو باولی ہو چکی تھی، چکراتی پھرتی تھی. اس کی دنیا، پل میں درہم برہم ہو چکی تھی. ایک عدد معصوم بچےکا ساتھ اور مشکلات کا سامنا کرتے کرتے نین تارا کے بالوں میں چاندی آ گءی. بیٹا بھی ڈاکٹر بن گیا اور رخصت ہو کے ایک نامی گرامی گھرانے میں بیاہا بھی گیا مگر نین تارا ایک دفعہ پھر اکیلی تھی. اسے یہ سمجھ آئی کہ کوی بھی رشتہ پائیدار نہیں ہوتا ہر رشتہ ایک خاص وقت تک آپ کے ساتھ چلتا ہے، کسی خاص مدت کے بعد اس رشتے کی موت واقع ہو ہی جاتی ہے. کچھ لوگ جانے والوں کو آسانی سے جانے دیتے ہیں کچھ ایسے جذباتی ہوتے ہیں کہ جانے والوں کی راہ میں لیٹ جاتے ہیں، ان کے پاوں پکڑتے ہیں، ترلے منتے کرتے ہیں، مت جاو، مت جاو.
جانے والوں کو بہت روکا تھا
جانے والوں کو صداءیں بھی دیں
جانے والوں نے ایک بھی نہ سنی
جانے والوں کو دور جانا تھا
تو جانے والے چلے جاتے ہیں. وہ ہماری ایک نہیں سنتے، یہ سانسوں کی مالا اور رشتوں کی ڈوریاں بڑی ظالم مار ہوتی ہیں. بڑا ہی رلاتی ہیں بے سبب ستاتی ہیں.
میں اگر اپنا ہی تجزیہ کروں تو آنکھیں کھلیں تو سیالکوٹ کی ریلوے کالونی میں ایک انجینئر کے گھر میں وانگ تتلی کے چہچہاتی اور اتراتی ہوی پیاری سی چار سالہ لڑکی کے چاروں طرف نوکروں کا جھمگٹا، پیار کرنے والے والدین اور پیار کرنے والے والدین. پبلک ماڈل سکول کی پیار کرنے والی استانیاں کلاس میں ہمیشہ لڑائی کرنے والا موٹا اور چھوٹا، بریک ٹائم میں سکول کے احاطے میں بنے ہوے بڑھیا کے جھونپڑے میں سے اس کا ضروری سامان نکال کر کنویں میں پھینک کر تماشہ دیکھنے والی پوری کلاس کا دائرہ کدھر گیا؟ وہ سب کچھ، پھر گوجرانوالہ میں سکول گ، معمولی باتوں پہ منہ پہ الٹے ہاتھوں سے تھپڑ مارنے والی مس نصرت اور مس قیصرہ. زندگی کو ایک خوشبو بتانے والی مس نگار اور یتیمی کے روگ اٹھانے والی مس نفیسہ، ریلوے کی محل نما کوٹھی جس میں انار کے باغات اپنی بہار دکھاتے تھے. اکبر، عمار، رانی سلطان، اور لیلیٰ ماں کے ہاتھوں کے پکے شاندار کھانے کہاں ہے؟ وہ سب کچھ. اور پھر قصور بلھے شاہ کی نگری گورنمنٹ گرلز ہائی سکول میں مہربان سی مس نجم زہریلے لہجے والی ہیڈ مسٹرس خدیجہ جو آج کل نیو جرسی میں ہے. لاہور ساینس کالج کے سر مقصود. سر افضال. سر احسن بلھے شاہ کی نگری کے پٹھورے. اندرسے اور فالودے کدھر ہیں؟ وہ سارے. جہلم کے بازار ریلوے کالونی چاچے زمان کے طنز اور ان کی بیگم کے نازو ادا، لیکن کہاں ہیں؟ سارے. ملتان اولیاءےکرام کی زمین، بہت بڑا پیلس نما گھر، بڑا سا لان اور ٹیوشن پڑھاتے بھگوان مگر کہاں ہیں سب؟ فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی میں ماں سے جدای میں ایم بی بی ایس کی مشکل پڑھائی میں تکیے پہ تکیے بھگوتے ہوے سو جانا، ڈیموسٹریٹرز سے بے بھاو کی سننا پروفیسروں سے روزانہ کی بنیاد پر بےعزتی کروانا، کینٹین کے سموسے، برگر، چاے اور ملک شیک مگر کہاں ہیں سارے؟ اتنے ملازم اتنے ملنے ملانے والے اتنے محبت کرنے والے اور اتنے نفرت کرنے والے آندھی طوفان کی طرح آپ کی زندگی میں آتے ہیں ٹھہرتے نہیں اور لہروں کی روانی کی طرح گزر جاتے ہیں اور ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر ہم یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ کہاں ہیں سارے؟ وہ والدین جو دل و جان سے پیارے ہوتے ہیں یا وہ ساس سسر جو اینویں ہی آنکھوں میں کھٹکتے رہتے ہیں. کچھ وقت گزرنے کے بعد نظر بھی نہیں آتے.
کہاں ڈھونڈوں؟
کون سے زخموں پہ نمک پاشی
کون سے زخموں کی دوا ڈھونڈوں
جانے والو کہاں پہ رہتے ہو؟
بولو پیارو تمہیں ڈھونڈوں؟
آپ کے اپنے بچے کچھ مدت تک آپ کے ساتھ رہتے ہیں پھر اپنی اپنی دنیا میں مست ہو جاتے ہیں. بس طوطے سدا ہاتھ میں نہیں رہتے،
بھلے جتنا بھی سنبھالیں پونم
جتنا پلکوں تلے چھپا لیں ہم
خواب پلکوں کو چھوڑ جاتے ہیں
خواب بے وجہ ٹوٹ جاتے ہیں
خواب وہ چینی کے برتن ہیں جو
یونہی ہاتھوں سے چھوٹ جاتے ہیں
خواب بے وجہ ٹوٹ جاتے ہیں
تو پیارو رشتوں کی لڑی بھی ٹوٹ جاتی ہے اور سانسوں کی ڈوری بھی آخر کار ٹوٹ جاتی ہے.
سانسوں کی مالا اور رشتوں کی ڈوری کسی کی بھی سگی نہیں ہوتی ہے.
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
drpunnamnaureen@gmail.com
نوابشاہ (رپورٹ. انور عادل خانزادہ)ضلع انتظامیہ شہید بینظیرآباد کی جانب سے منعقدہ تین روزہ ایچ
میلسی (بیو رو چیف ) راؤ محمد اشرف اقبال سینیئررہنما فورس پنجاب و سرپرست اقبال انگلش
میلسی (بیو رو چیف ) صدر انجمن تاجران ملک عبدالجبار ملتانی اور معزز سیاسی و سماجی رہنما پیر
میلسی (بیو رو چیف ) سالانہ تقریب تقسیم انعامات میں بچوں کی پروگرام پروفارمینس سے ان میں
میلسی (بیو رو چیف ) میلسی مائنر میں کشمیر چوک کے مقام پر کچرے کے ڈھیر کا معاملہ سامنے آنے پر