11

بنگلادیش میں اقتدار کی تبدیلی اور عوامی فیصلے کالم نگار: مصطفیٰ جمالي

بنگلادیش میں اقتدار کی تبدیلی اور عوامی فیصلے
کالم نگار: مصطفیٰ جمالي
فون نمبر: 0333-3737575
بنگلادیش کی سیاست ہمیشہ عوامی ووٹ اور شخصیات کے درمیان مقابلے پر مبنی رہی ہے۔ ملک کے قیام سے لے کر آج تک سیاسی منظرنامہ مسلسل بدلتا رہا ہے۔ فوجی دور، ہنگامی حالات اور سیاسی بحران تاریخ کا حصہ رہے ہیں۔ اس صورتحال میں جمہوریت کو قائم رکھنا ہر ووٹر کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ موجودہ انتخابات یہ دکھاتے ہیں کہ عوام اپنی شعور اور شعوری کوشش سے اقتدار کو ترتیب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
نوجوانوں کا کردار اس انتخاب میں اہم رہا۔ سوشل میڈیا پر مباحثے، احتجاجی تحریکیں اور ووٹنگ میں سرگرمی نے عوام کو سیاسی شعور میں حصہ لینے کا موقع فراہم کیا۔ نوجوانوں کی بڑی آبادی ملک کے لیے ایک اثاثہ اور اسی وقت ایک چیلنج بھی ہے۔ اگر حکومت ان کے لیے تعلیم، روزگار اور ٹیکنالوجی کے وسیع مواقع فراہم کرے تو ملک کے مستقبل کے لیے مضبوط بنیاد قائم ہو گی۔
معاشی صورتحال نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا امتحان ہے۔ بنگلادیش نے گزشتہ دہائیوں میں اقتصادی ترقی کے نمونے دکھائے، خاص طور پر گارمنٹس انڈسٹری کے ذریعے، جو ملک کی برآمدات کا بڑا حصہ ہے۔ لیکن عالمی مارکیٹ میں مقابلہ، کرنسی پر دباؤ اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کو عملی پالیسیوں اختیار کرنے پر مجبور کرے گا۔ روزگار کے مواقع پیدا کرنا، زراعت اور صنعت کو فروغ دینا اور اقتصادی متنوع پالیسیاں اختیار کرنا انتہائی ضروری ہیں۔ بین الاقوامی سرمایہ کاری بڑھانا، قرضوں کے انتظام، اور برآمدات کو متنوع بنانا اقتصادی استحکام کے لیے اہم ہوگا۔
سیاسی استحکام بھی نئی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ طویل عرصے کی سیاسی کشمکش نے معاشرے میں تقسیم پیدا کی ہے۔ مخالف فریق کے ساتھ مکالمہ، پارلیمنٹ کو فعال رکھنا، اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا سیاسی استحکام کی بنیاد ہیں۔ اگر حکومت سیاسی مفاہمت قائم کرے تو نہ صرف ملک میں امن قائم ہوگا بلکہ سماجی اور اقتصادی ترقی کو بھی سہارا ملے گا۔
خارجہ پالیسی کے حوالے سے بھی نئی قیادت کو حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ بھارت کے ساتھ سرحدی اور تجارتی تعلقات، چین کے ساتھ اقتصادی تعاون، امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ تجارتی روابط، اور اسلامی دنیا کے ساتھ سفارتی تعلقات نئی حکمت عملی کے اہم عناصر ہیں۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ تاریخی تلخیوں کے باوجود تجارت، تعلیم اور علاقائی تعاون کے مواقع موجود ہیں۔ اگر نئی قیادت منطقی اور عملی پالیسیاں اختیار کرے تو جنوبی ایشیا میں استحکام بڑھ سکتا ہے۔
سماجی شعبے میں اظہار رائے کی آزادی، میڈیا کی خودمختاری اور عدالتی نظام کی آزادی مستقبل کی سیاست پر اثر ڈالیں گے۔ نوجوانوں کی بڑی آبادی ملک کے لیے اثاثہ ہے، لیکن اگر تعلیم اور روزگار کے وسیع مواقع نہ ملیں تو برین ڈرین کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کی امیدوں پر عمل کرتے ہوئے انہیں سیاسی اور اقتصادی نظام میں شامل کرے۔
بنگلادیش کے انتخابات کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ عوامی ووٹ طاقتور ہے اور سیاسی نظام میں حقیقی تبدیلی لا سکتا ہے۔ جب عوام کو یقین ہو کہ ان کا ووٹ مؤثر ہے، تو وہ سیاسی عمل میں بھرپور حصہ لیتے ہیں۔ 2026 کے انتخابات یہ دکھاتے ہیں کہ جمہوری شعور بڑھ رہا ہے اور عوام اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔
اب اگلے مہینوں میں اصل امتحان شروع ہوگا۔ انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدے عملی پالیسیوں میں تبدیل ہونے چاہیے۔ معیشت کو مستحکم کرنا، سیاسی اتحاد کو فروغ دینا اور عالمی سطح پر اعتماد بحال کرنا نئی حکومت کے لیے ضروری ہیں۔ اگر قیادت دانشمندی اور عملی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھے تو بنگلادیش نہ صرف اندرونی طور مضبوط ہوگا بلکہ جنوبی ایشیا میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
تاریخ یہ بتاتی ہے کہ قومیں تب ترقی کرتی ہیں جب وہ اپنے اختلافات سے اوپر اٹھ کر مشترکہ مستقبل کے لیے کام کرتی ہیں۔ بنگلادیش کے پاس اب یہ موقع ہے کہ وہ اپنے سیاسی تجربات سے سبق سیکھ کر ایک مضبوط، خوشحال اور جمہوری ریاست کے طور پر خود کو منوائے۔ اگر قیادت بصیرت کے ساتھ قدم اٹھائے تو 2026 کے انتخابات تاریخی طور پر روشن باب کے طور پر یاد رکھے جائیں گے، ورنہ یہ صرف ایک عارضی تبدیلی کے طور پر رہ جائیں گے۔
غلام مصطفیٰ جمالی تحصیل ٹنڈوباگو ضلع بدین سندہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں