11

پاکستان کا سیاسی سفر: تنازع، اختلاف اور اعتماد سے اتفاق تک کا قومی چیلنج غلام مصطفیٰ جمالي

پاکستان کا سیاسی سفر: تنازع، اختلاف اور اعتماد سے اتفاق تک کا قومی چیلنج
غلام مصطفیٰ جمالي
تحصيل ٹنڈوباگو، ضلع بدین، سندھ
فون: 03333737575
پاکستان کا سیاسی منظرنامہ گزشتہ کئی دہائیوں میں کئی اتار چڑھاؤ کا شکار رہا ہے۔ آزادی کے بعد سے لے کر آج تک، ملک نے مختلف سیاسی تجربات کیے ہیں، جن میں جمہوری حکومتیں، فوجی آمریت، متنازعہ انتخابات، اور سیاسی بحران شامل ہیں۔ یہ سب تجربات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ مشکلات سے خالی نہیں رہی۔ ہر دور نے عوام کے اعتماد اور ریاستی اداروں کے کردار پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔
پاکستان کی سیاست کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ یہاں ہر وقت سیاسی اختلافات موجود رہتے ہیں۔ یہ اختلافات کبھی اقتدار میں بیٹھے افراد کے درمیان، کبھی سیاسی جماعتوں کے بیچ، اور کبھی عوام اور حکومت کے درمیان ظاہر ہوتے ہیں۔ انتخابات کے نتیجے پر اعتراضات، قانونی چیلنجز، اور احتجاجات عام منظرنامہ ہیں۔ اس کے باوجود، پاکستانی عوام ہمیشہ اپنے ووٹ کے حق کی حفاظت اور جمہوریت کے قیام کے لیے کوشاں رہے ہیں۔
جمہوریت کی بقا اور مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ انتخابی نظام شفاف، آزاد اور موثر ہو۔ پاکستان میں متعدد انتخابات ہوئے ہیں، لیکن ہر بار نتائج پر اختلافات اور اعتراضات دیکھنے کو ملے ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ووٹرز کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے مزید اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ووٹر کا ووٹ محفوظ اور عزت کے ساتھ گنا جانا چاہیے، تاکہ عوام اپنے نمائندوں پر اعتماد کرسکیں اور جمہوری نظام مضبوط رہے۔
سیاسی جماعتیں، چاہے وہ تحریک انصاف ہو، مسلم لیگ ن ہو، یا عوامی پارٹی، اپنی پالیسیوں اور منشور کے مطابق کام کر رہی ہیں۔ ہر جماعت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ انتخابی اصلاحات کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائے۔ اگر ہر جماعت اقتدار میں آنے کے بعد اپنے قوانین نافذ کرے اور مخالف جماعت اسے رد کرے، تو ملک میں استحکام قائم رہنا مشکل ہوگا۔ انتخابی اصلاحات میں ووٹر لسٹوں کی درستگی، پولنگ اسٹیشنز کی نگرانی، اور نتائج کے اعلان کے عمل میں شفافیت لازمی ہے۔
پاکستان میں سیاسی استحکام کے لیے پارلیمنٹ کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔ جب اہم فیصلے پارلیمنٹ کے باہر کیے جائیں، تو عوام کا اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ قانون سازی کے عمل میں کھلے مباحثے، کمیٹی رپورٹس اور ماہرین کی رائے کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ جلد بازی میں منظور کیے گئے قوانین اکثر تنازعات پیدا کرتے ہیں، جس سے سیاسی بحران جنم لیتا ہے۔ مضبوط پارلیمنٹ ہی مضبوط جمہوریت کی ضمانت ہے۔
اداروں کا کردار بھی اہم ہے۔ جب سیاسی اختلافات شدت اختیار کرتے ہیں، تو بعض اوقات اداروں کی مداخلت کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ جمہوریت میں ہر ادارے کو اپنے آئینی دائرہ کار میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔ اگر سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات حل کرنے کے بجائے اداروں کو مجبور کریں، تو طاقت کا توازن بگڑ سکتا ہے۔ اداروں کی آزادی اور ذمہ داری، پارلیمنٹ کی بالادستی، اور عدلیہ کی غیر جانبداری سیاسی استحکام کے ستون ہیں۔
معاشی صورتحال بھی سیاسی استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ جب سیاسی بے چینی بڑھتی ہے تو سرمایہ کار محتاط ہو جاتے ہیں، مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے، اور روزگار کے مواقع کم ہو جاتے ہیں۔ مہنگائی، ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ، اور دیگر معاشی بحران عوام کی زندگی پر براہِ راست اثر ڈالتے ہیں۔ اگر سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو کمزور کرنے میں مصروف رہیں تو معاشی اصلاحات پیچھے رہ جائیں گی۔ استحکام صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ مخالف جماعت کی بھی یہ فرض ہے کہ وہ قومی مسائل میں مثبت کردار ادا کرے۔
انتخابی اصلاحات میں عوامی شعور اور سیاسی تربیت بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اکثر انتخابی مہمات ذاتی حملوں، الزام تراشیوں، اور نفرت انگیز بیانات پر مبنی ہوتی ہیں، جس سے سماج میں تقسیم بڑھتی ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں اپنی کارکردگی، پروگرام، اور پالیسیوں پر توجہ دیں تو ووٹر مثبت سوچ کے ساتھ فیصلے کرے گا۔ سیاسی اخلاقیات جمہوریت کی بقا کے لیے لازمی ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں متعدد سیاسی بحران سامنے آئے ہیں، جیسے 1971 کا داخلی بحران، 1990 کی سیاسی عدم استحکام، اور 2007 کے جلاوطن اور احتجاجات۔ ان واقعات نے واضح کیا کہ اگر سیاسی اختلافات کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل نہ کیا جائے، تو ملک میں بحران پیدا ہوتا ہے۔ ہر دور نے یہ سبق دیا کہ اتفاق رائے، شفاف قوانین، اور اداروں کا مضبوط کردار سیاسی استحکام کے لیے لازمی ہیں۔
عدلیہ اور میڈیا کا کردار بھی اہم ہے۔ آزاد اور ذمہ دار میڈیا جمہوریت کا ستون ہے، لیکن اگر میڈیا سیاسی تقسیم کا حصہ بن جائے تو عوام کو صحیح تصویر نہیں ملتی۔ سچائی، توازن، اور تحقیق پر مبنی صحافت ملک کو درست سمت دے سکتی ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں افواہوں کا زور بھی بڑھ گیا ہے، جس سے عوامی شعور میں اضافہ ضروری ہو گیا ہے۔ عدلیہ کے فیصلے بھی سیاسی ماحول پر اثر انداز ہوتے ہیں، لیکن سیاسی مسائل کا حل ہمیشہ سیاسی سطح پر ہونا چاہیے۔
عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انتخابی عمل شفاف، مؤثر، اور جدید تقاضوں کے مطابق ہو۔ ووٹر لسٹوں کی درستگی، پولنگ عملے کی تربیت، نتائج کی فوری اور شفاف ترسیل، اور شکایات کے ازالے کے لیے موثر نظام قائم کیا جانا چاہیے۔ ہر مرحلے پر نگرانی کا مضبوط انتظام ہونا چاہیے تاکہ تنازعات کم ہوں اور عوام کا اعتماد قائم رہے۔
پاکستان کا مستقبل سیاسی استحکام سے جڑا ہوا ہے۔ اگر انتخابی اصلاحات اتفاق رائے سے نافذ ہوں، ادارے آئینی حدود میں کام کریں، میڈیا ذمہ داری نبھائے اور عوام شعور کے ساتھ ووٹ دے تو کوئی بھی بحران مستقل نہیں رہے گا۔ دنیا کے کئی ممالک سیاسی بحرانوں سے گزرتے ہوئے مستقل اصلاحات اور اتفاق رائے کے ذریعے مضبوط ہوئے ہیں۔ ہمیں بھی اپنی تاریخ سے سبق لینا ہوگا۔
آج ضرورت یہ ہے کہ سیاسی قیادت ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دے۔ ہر جماعت کو سوچنا ہوگا کہ اگر نظام کمزور ہوا تو نقصان سب کو ہوگا۔ جمہوریت کے مضبوط ہونے سے ہی معاشی خوشحالی، سماجی انصاف اور اداروں کا استحکام ممکن ہے۔ انتخابی اصلاحات کسی ایک جماعت کا ایجنڈا نہیں بلکہ قومی معاہدہ ہونا چاہیے۔
آخر میں سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی آنے والی نسل کے لیے ایسا نظام چھوڑنا چاہتے ہیں جو تنازعات میں الجھا ہو یا ایسا نظام جو شفاف، مضبوط اور قابل اعتماد ہو؟ فیصلہ سیاسی قیادت اور عوام دونوں کے ہاتھ میں ہے۔ اگر ہم مل کر سچائی، شفافیت اور قانون کی حکمرانی کو ترجیح دیں گے تو پاکستان کا سیاسی سفر نئے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھے گا۔ جمہوریت کی خوبصورتی تنازع میں نہیں بلکہ حل میں ہے، اور حل ہمیشہ بات چیت، اصلاحات اور قومی اتفاق سے نکلتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں