12

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ چھڑنے کے امکانات تحریر: اللہ نواز خان

تحریر: اللہ نواز خان
allahnawazk012@gmail.com
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ چھڑنے کے امکانات
امریکہ اور ایران کے درمیان حالات اس حد تک کشیدہ ہو چکے ہیں کہ جنگ ناگزیر ہو چکی ہے۔جنگ کو روکنے کے لیے صرف ایک ہی آپشن بچا ہے کہ ایران ایٹمی مواد سے دستبردار ہو جائے۔ایران ایٹمی مواد سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہی نہیں،کیونکہ یہ واضح ہے کہ ایٹم سے نہتا ایران اپنی سلامتی کو کھو دے گا۔امریکہ بھی دباؤ کوآخری حد تک بڑھا چکا ہے۔حال ہی میں ٹرمپ نے سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ اقتدار کی تبدیلی بھی بہتر ہے۔ٹرمپ کےمطابق دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈآرفورڈ مشرق وسطی روانہ کیا جا رہا ہے،اگر ایران سے ڈیل کامیاب نہ ہوئی تو اس کی ضرورت پڑے گی۔واضح رہے کہ امریکہ کا ایک بیڑا پہلےسے ہی مشرق وسطی میں موجود ہے۔ان بیڑوں کی وجہ سے ایران پر آسانی سے حملہ کیا جا سکتا ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان لمبے عرصے سے کشیدگی جاری ہے،کئی بار حالت یہاں تک پہنچ جاتی تھی کہ جنگ شروع ہونے والی ہے لیکن جنگ شروع نہ ہو سکی۔اب بھی امکانات موجود ہیں کہ جنگ شروع نہ ہو،لیکن یقینی طور پر کچھ نہیں کہا سکتا کہ جنگ رک جائے۔کچھ اشارے ملے تھے کہ ایران ایٹمی مواد سے کچھ حد تک دستبردار ہو سکتا ہے،لیکن واضح طور پر ایران کی طرف سےایسااعلان نہیں کیاگیا،جس سے واضح ہو کہ ایران ایٹمی مواد سے دستبردار ہو رہا ہے۔
امریکی صدر نے واضح دھمکی دی ہوئی ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو ایران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔امریکہ حالات کو اس حد تک پہنچا چکا ہے کہ جنگ سے پیچھے ہٹنا امریکہ کو سخت نقصان پہنچا دے گا۔اس طرح دوسرے بھی سبق لیں گے کہ امریکہ سے بھی مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔امریکہ اس وقت جس طرح عالمی طور پر ایک سپر پاور کے طور پر اپنی پہچان بنا چکا ہے،ایران سے مذاکرات کامیاب نہ ہونے کی صورت میں اس کی طاقت کو عالمی طور پر نقصان پہنچے گا۔ساکھ کو بچانے کے لیے امریکہ ہر حال میں اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کرے گا،مذاکرات کامیاب نہ ہونے کی صورت میں جنگ چھیڑنے کا مکمل امکان موجود ہے۔بہرحال ایرانی حکومت کا سرکاری موقف یہی ہے کہ ایٹمی مواد سے دستبردار ہونا ناممکن ہے۔ایران ایٹمی مواد سے دستبردار ہوئے بغیر مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہے۔حال ہی میں ایرانی سپریم لیڈر کے سینیئر مشیر علی شمخانی نے عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا میزائل پروگرام ریڈ لائن ہے اور اس پر کوئی بات چیت نہیں ہو سکتی۔علی شمخانی نے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ ایران کی فوج ہائی الرٹ ہے اور کسی بھی فوجی کاروائی کا فیصلہ کن اورمناسب جواب دیا جائے گا۔
ایران کو صرف امریکہ سے خطرہ نہیں بلکہ اسرائیل سے بھی خطرہ ہے،بلکہ اسرائیل سے امریکہ کی نسبت زیادہ خطرہ ہے۔امریکہ اور اسرائیل کا اتحاد خطے میں بہت سی پیچیدگیاں پیدا کر چکا ہے۔جنگ نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جنگ چھڑنے کی صورت میں اسرائیل کو نشانہ بنایا جائے گا۔ایران کے پاس موجود بیلسٹک میزائل اسرائیل کو تباہ یابہت بڑا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔جنگ شروع نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہےکہ ایران ایٹمی ہتھیار بھی استعمال کر سکتا ہے،کیونکہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ ایران یورنیم کو اس حد تک افزودہ کر چکا ہے کہ فوری طور پر ہتھیار بنائے جا سکیں یا ممکن ہے کہ ہتھیار تیار حالت میں موجود ہوں۔اسرائیل کے ساتھ ایران کی کئی دہائیوں سے دشمنی جاری ہے لیکن پہلے تعلقات بہت ہی بہترین تھے۔اسرائیل کو جب قائم کیا جا رہا تھا تو پہلے پہل ایران نے بھی مخالفت کی تھی لیکن بعد میں تعلقات بہتر ہو گئے تھے۔مصر کے بعد ایران دوسرا اسلامی ملک تھا،جس نے اسرائیل کو تسلیم کیا تھا۔1979 کے انقلاب کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان تعلقات بگڑ گئے تھے اور اب تو تعلقات سنگین رخ اختیار کر چکے ہیں۔اب جنگ کے امکانات بہت ہی بڑھے ہوئے ہیں اور جنگ چھڑنے کی صورت میں مشرق وسطی تباہی کا شکار بھی ہو جائے گا اور بہت بڑیاں تبدیلیاں بھی آجائیں گی۔ہو سکتا ہے یہ جنگ ایک نئے عہد کی شروعات ہو،جس سے امریکہ بہت محدود ہو جائے،کیونکہ جنگ کے بعد نتائج کچھ بھی ہو سکتے ہیں۔یہ بھی امکان ہے کہ ایران کو مکمل قبضے میں لے لیا جائے،اس طرح ایک بہت بڑے خطے پر امریکہ کنٹرول حاصل کر لے گا۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا ہے کہ اقتدار کی تبدیلی بھی بہتر ہوگی۔اس بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکی صدر اپنی من پسند حکومت چاہتے ہیں۔ایران میں اسلامی انقلاب سے پہلے رضا شاہ پہلوی گورنمنٹ امریکہ کے مفاد میں کام کرتی تھی،بلکہ اسرائیل بھی اس حکومت سےخوش تھا۔موجودہ حکومت نہ تو امریکہ کو پسندہے اور نہ اسرائیل کو،اس لیے کوشش کی جا رہی ہے کہ من پسند حکومت قائم ہو جائے۔لازمی طور پر امریکہ متبادل طریقوں پر بھی کام کر رہا ہوگا،تاکہ مقاصد حاصل ہو جائیں۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جنگ چھڑنے کا امکان بہت زیادہ ہے،لیکن جنگ اس وقت تک شروع ہوگی جب امریکہ کو یقین ہو جائے کہ ایران ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کرے گا۔اگر جنگ شروع ہو گئی تو ایران تو نقصان اٹھائے گا لیکن امریکہ بھی بہت نقصان اٹھانے پر مجبور ہوگا۔یہ جنگ صرف ایران کے لیے خطرناک نہیں ہوگی بلکہ پوری دنیا کو اپنے لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ایران کی پڑوسی ریاستیں بھی اس جنگ سے شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔بہرحال اس وقت کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ چھڑنے کے امکانات بہت ہی بڑھ چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں