نماز دین کا ستون، پر اہم
سوال:
کیا نبی کریم کے زمانے میں منافقین نماز کے دوران اپنے بت بغلوں میں اور اپنے ٹانگوں کے بیچ میں رکھ لیتے تھے اور جب آپ نے نماز میں نمازیوں کو ٹانگیں کھولنے اور رفع الیدین کرنے کا حکم دیا تو منافقین کے بت بغلوں سے گر جاتے تھے
اور بعد میں جب رفع الیدین کی ضرورت نہ رہی تو کیا آپ نے رفع الیدین کے حکم کو منسوخ کر دیا تھا؟
کتب احادیث، تاریخ اور آثار صحابہ سے ماخوذ تحقیقی مضمون:
مزید برآں یہ بھی واضع فرما دیں کہ کیا اب بھی رفع الیدین کیا جا سکتا ہے اور نماز میں پاوں کو کھولا جا سکتا ہے؟
محترم، آپ نے نماز میں “رفع الیدین” (ہاتھ اٹھانے) کے بارے میں بہت اہم سوال پوچھا خاص طور پر یہ منطق جو کچھ لوگ مشہور کرتے ہیں(جیسے کہ بتوں کی وجہ سے رفع الیدین شروع ہوا، پھر منسوخ ہوا) اس کا جواب بالکل تحقیق اور معتبر احادیث و آثار کی روشنی میں درج ذیل ہے👇
۱۔ کیا “منافقین بت اپنے بغلوں میں نماز میں لے آتے تھے اور اسی وجہ سے رفع الیدین شروع ہوا؟
👉 اس بارے میں کوئی صحیح یا مستند روایت قطعاً موجود نہیں ہے۔
یہ جو روایات گردش کرتی ہیں کہ “ابتداء میں لوگ بغلوں میں بت یا چیزیں چھپا کر نماز میں لاتے تھے، اس لئے رفع الیدین کیا گیا تاکہ وہ گر جائیں”
🔹 اس کا کوئی سند شدہ بیان احادیث کی کتب میں موجود نہیں ہے۔
🔹 یہ صرف لوک کا قصہ یا افسانہ ہے اور اسے علماء نے رد فرمایا ہے۔
توحید ڈاٹ کام
➡️ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ایسے دعویٰ کی کوئی سند نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی معتبر تاریخی حوالہ موجود ہے۔ � توحید ڈاٹ کام
۲۔ کیا رسول ﷺ نے رفع الیدین منسوخ کیا تھا؟
یہ موضوع علماء کے درمیان اختلافِ رائے کا باعث رہا ہے، لیکن یہاں دو اہم نکات ہیں:
✅ (أ) صحیح حدیث اور سلف کا عمل
صحیح بخاری و مسلم میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نماز میں چند مخصوص مقامات پر اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے:
✔ جب نماز شروع ہوتی تھی (تکبیرِ تحریمہ)
✔ رکوع کے لئے جاتے ہوئے
✔ رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے
✔ (بعض روایات میں) تیسری رکعت میں کھڑے ہونے پر بھی �
اس روایت کے مطابق صحابہ کرام بھی رفع الیدین کرتے تھے۔
امام بخاری نے اس موضوع پر ایک الگ کتبہ (جُزْء فِي رَفْعِ الْيَدَيْنِ جس میں 120 جید احایث رفع الیدین کے حق میں لکھی ہیں) اور یہ بتاتے ہیں کہ صحابہ کا عمل اسی کے مطابق تھا۔ �
📌 امام نَوَوِي کے مطابق ایک صحابی الْحَسَن رضی اللہ عنہ نے کہا:
“صحابہ نے رفع الیدین کا عمل کیا ہے اور کسی ایک کا انکار ثابت نہیں ہے۔” �
✅ (ب) کچھ روایات اور اختلاف فقهاء
بعض روایات میں آتا ہے کہ نبی ﷺ صرف آغازِ نماز پر رفع الیدین کرتے تھے اور بار بار نہیں۔
احناف اور بعض تابعین اس کو دلیل بنا کر کہتے ہیں کہ شاید صرف ابتداء میں رفع الیدین رہ گیا تھا۔ �
islamicacademy.org +1
لیکن معتبر علماء (شافعی، حنبلی، بہت سے اہل حدیث) نے فرمایا:
✔ صحیح اور متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ رفع الیدین نماز کے چند مخصوص مقامات پر نبی ﷺ کا معمول تھا۔ �
✔ ان مسانید کو یکسر منسوخ ثابت کرنا صحیح نہیں۔ �
Islam-QA
📌 اسلام ویب (Dar al-Ifta) کے مطابق:
“نبی ﷺ نے کبھی رفع الیدین کو محبتاً ترک نہیں فرمایا، اور نہ ہی اسے منسوخ ثابت کرنے کی کوئی مستند دلیل ہے۔” �
Islamweb
۳۔کیا رفع الیدین منسوخ ہوا؟
🔹 اصل اور صحیح رائے یہ ہے کہ رفع الیدین منسوخ نہیں ہوا۔ بلکہ
✔ یہ سنت (مستحب) ہے جو مختلف مقامات پر کیا جاتا تھا۔ �
✔ جو روایتیں انکار کرتی ہیں، وہ اپنی جگہ پر موجود ہیں، لیکن ان کو ضعیف یا متضاد قرار دیا گیا اور اصل حدیث فوقیت رکھتی ہے۔ �
Islam-QA
لہذا
➡️ رفع الیدین منسوخ نہیں ہوا
➡️ ایسا نہیں کہ کسی خبر سے ثابت ہو کہ نبی ﷺ نے اسے ترک فرمایا۔
۴۔ کیا آج بھی نماز میں رفع الیدین کیا جا سکتا ہے؟
ہاں۔۔ رفع الیدین کرنا واجب نہیں، مگر مستحب اور سنتِ نبوی ﷺ ہے۔
🔹 علمائے اہل حدیث اور شافعی، حنبلی فقہاء کے نزدیک:
✔ نماز میں مخصوص مقامات پر رفع الیدین کرنا سنت مؤکد ہے۔ �
Islam-QA
🔹 احناف کے بعض علماء کا کہنا ہے کہ:
✔ ہاتھ اٹھانا صرف تکبیرِ تحریمہ (نماز کے آغاز میں) میں لازم ہے۔ �1wxx1
Islam-QA
دونوں میں اختلاف ہے، مگر ہر ایک کی نماز صحیح ہے اور رفع الیدین کرنا بحثِ خلاف سنت نہیں۔ �
Islam-QA
۵۔ خلاصہ (تحقیق شدہ)
سوال
جواب
کیا منافقین بغلوں میں بت لے آتے تھے؟
نہیں۔ یہ افسانہ ہے، کوئی سند نہیں۔ �
توحید ڈاٹ کام
9-کیا رفع الیدین منسوخ ہوا تھا؟
نہیں۔ منسوخ نہیں ہوا۔ �
Islam-QA
کیا نبی ﷺ نے اسے ترک فرمایا؟
کوئی صحیح دلیل نہیں۔ �
Islamweb
کیا امروز اٹھایا جا سکتا ہے؟
جی ہاں۔ مستحب ہے اور سنت ہے۔ �
Islam-QA
📌 نتیجہ
✨ رفع الیدین سنتِ نبوی ﷺ ہے جو مخصوص مقامات پر کیا جاتا ہے (شروع، رکوع، رکوع سے اٹھنے، بعض روایات میں تشہد کے بعد بھی)۔ �
✨ اس کے متعلق جو مبہم روایات ہیں ان کو پوری حدیث اور سلف کے عمل کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔
✨ جو بات مشہور ہے کہ “ابتداء میں کیا جاتا تھا پھر منسوخ ہو گیا” — وہ مستند نہیں۔
لیکن نبی کریم کا یہ بھی فرمان ہے کہ جس نے میری ایک سنت کو زندہ کیا اسے سو شہیدوں کا ثواب۔
رفع الیدین کے مقامات
اصلی حدیث میں جو مقامات آئے ہیں:
1.نماز کے آغاز میں (تکبیرِ تحریمہ)
2.رکوع کے لیے جاتے ہوئے
3.رکوع سے اٹھتے وقت
یہ حدیث میں صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے، اور یہی وہ مقامات ہیں جن کے بارے میں علماء نے بحث کی ہے۔
۱۰۔ خلاصہ (قابلِ عام فہم)
*سوال جواب*
کیا رفع الیدین رسول ﷺ کی سنت ہے؟ جی ہاں، ثابت و مستند روایت سے ثابت ہے۔
کیا اسے منسوخ کیا گیا؟ نہیں، منسوخ نہیں ہوا۔
کیا نبی ﷺ نے ترک فرمایا؟ کوئی صحیح دلیل نہیں ملتی۔
کیا آج بھی اٹھایا جا سکتا ہے؟ جی ہاں، سنتِ مؤکدہ ہے۔
کیا نماز بغیر اٹھائے بھی صحیح؟ ہاں، پر سنت کی ثواب کم ہو جائے گی۔
حوف آخر:
رفع الیدین ایک مضبوط سنتِ نبوی ﷺ ہے جو مؤکد اور فضیلت والی سنت ہے، اور اسے نماز میں اپنانا اپنے نماز کو نبی ﷺ کے طریقے کے قریب لانے کا بہترین طریقہ ہے۔
پاکستان میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رفع الیدین کرنے کی سنت فوت ہوتی جا رہی ہے۔ اس سنت کو اپنے جذبہ ایمانی سے زندہ کیجئے اور سو شہیدوں کا ثواب پائیں۔
اسلام میں سنت کو زندہ کرنا اور اس پر عمل کرنا بہت بڑی فضیلت رکھتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ:
“جس نے میری ایک سنت کو زندہ کیا، اسے سو شہیدوں کے برابر ثواب ملتا ہے۔”
یہ حدیث بخاری و مسلم میں روایت ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ نبی ﷺ کی سنتوں کو اپنانا اور دوسروں تک پہنچانا نہ صرف فرد کے لیے ثواب کا ذریعہ ہے بلکہ امت میں دین کی بقا، روحانیت کی تجدید کا سبب بھی بنتا ہے۔
الدعاَء
یا اللہ تعالی ہمیں تیرے احکام پر تیرے نبی کی سنت کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333