41

*فیصلے کی گھڑی آنپہنچی، بروقت فیصلہ کرنا ھے*

*فیصلے کی گھڑی آنپہنچی، بروقت فیصلہ کرنا ھے*

قران و احایث کی روشنی میں مسلم ریاستوں کو عسکری اور دفاعی طور پر انتہائی مضبوط ہونا چاہئے یہ کہنا ھے کراچی کے معروف جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی کا۔ انھوں نے دنیائے عالم میں بگڑتے اور امریکہ و ادرائیل کی کھلی دہشتگردی عدم توازن بےامنی اور انسانیت سوز عوامل پر کہی ھے۔ جاوید صدیقی کا کہنا ھے کہ عالم اسلام کے تمام کے تمام ممالک اور ریاستوں کو جوہری طاقت کا حامل ہونا چاہئے یہ ان سب کا حق ھے۔ امریکہ اور اسرائیل نے غیر مسلم ممالک کو جوہری طاقت بننے پر قطعی اعتراض نہیں کیا تو مسلم ممالک بلخصوص ایران پر کیوں دباؤ اور دہشتگردی کررھا ھے۔ عرب ممالک کے بادشاہ و حکمرانوں کو عقل کے ناخن لینا چاہئیں کیونکہ قرآن و احادیث عربی زبان میں ہیں اور قرآن و احادیث خود نبی پاک ﷺ اور انکے رفقائےکار خلفاء نے بھی مرتے دم تک تحفظاتِ آلات کو رکھا جس میں تیر نیزہ برچھا تلوار اور خنجر شامل تھے۔ سادہ ترین اور عام سی زندگی گزارتے تھے لیکن تحفظاتِ آلات میں کبھی بھی سمجھوتہ نہ کیا۔ آپ ﷺ اور آپکے اصحابہ اجمعین علیہ رحمت کی زندگیاں ہر مسلمان کیلئے مشعلِ راہ ہیں۔ اب دنیا کا تقاضہ اور فیصلہ کا وقت آنپہنچا ھے کہ مسلم دنیا امریکہ و اسرائیل کی بدمعاشی غنڈہ گردی اور دہشتگردی کے سبب ان سے قطعی روابط چھوڑ دے اور اپنی طاقت بنائے۔ اپنا الگ مسلم بلاک جس میں چند ایک مناسب غیر مسلم ممالک کو مصلحتاً شامل کیا جائے جو مسلم ممالک کے نہ دوست ہوں اور نہ شدید دشمن جیسے چین، روس، کوریا وغیرہ کراچی کے معروف جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے عرب ممالک کو بیدار کرتے ہوئے کہا ھے کہ امریکہ و اسرائیل برسا برس تمہیں بیوقوف اور عیاشی میں مبتلا کرکے اسلامی تشخص کو تباہ کرنے اور تبدیل کرنے میں ظاہری و خفیہ کاروائیوں میں لگا رھا اور مسالک کو ہوا دیکر آپس میں دست و گریبان کرتا رھا یہ مسالک کی پیدا کردہ نفرت انگیز جعلی مواد اس ہی امریکہ اور اسرائیل کی سازشیں رہی ہیں۔ اگر اج کے زمانے جوکہ جدید ترین کمپیوٹرائز ٹیکنیکل خطوط پر استوار ھے ذرا سی مسلم ممالک و ریاست کے حکمران و بادشاہوں کی غفلت کوتاہی اور غلط فیصلے انہیں اسرائیل و امریکہ اور اسکے حواریوں کے ہاتھوں بری طرح شکست سے دوچار کرسکتا ھے اور اگر ان مسلم ممالک و مسلم ریاستوں کے حکمران و بارشاہوں نے جرآت مندی بہادری ایمان افروزی کیساتھ ان کفار و مشرکین اور یہودیوں سے متحد ہوکر جھاد کا صرف نعرہ ہی لگائیں گے تو یہ سب کے سب الٹے قدم بھاگتے نظر آئیں گے کیونکہ انھوں نے بھی قرآن و احادیث کا مطالعہ اور تحقیق کر رکھی ھے کہ جھاد میں رب العزت خود متوجہ ہوکر ستر ستر ہزار فرشتوں کی جماعت جنگ میں حصہ لینے کیلئے بھیجتا ھے ایک فرشتہ کی طاقت اس قدر ھے کہ وہ صرف ایک پر کی سب سے چھوٹی پنکھ مارے تو پہاڑ جڑ سے اکھڑ کر دھوئیں کی مانند اڑ جائیں گے لیکن افسوس کہ مسلمان جھاد کی افضلیت و برکت اور کیفیت کو آج سمجھ نہیں رھا ھے اس میں ہماری مساجد کے مولانہ و خطیب سے لیکر مفتیان دین و شیخ الحدیث مشائخ اسلام اسکالرز پیر عظام و دیگر علماء کرام سب کے سب شامل مجرم ہیں کہ وقت کے حکمران سے لیکر عام مسلمان کو جھاد فی سبیل اللہ کی تعلیم، رغبت، توجہ، افضلیت و برکت اور کیفیت بیان نہیں کرتے اگر انہیں فکر ھے تو چندہ عطیات صدقات فطرہ خیرات کی اس سے باہر کبھی دیکھا نہیں ان پر تو معاشرے کے سدھار کی قانونی اخلاقی اور دینی لازمی ذمہداری ھے بحرحال اب پاکستان سمیت مسلم امہ کو یکجا ہوکر غلامانِ یہود و امریکہ سے ہر صورت نکلنا ھے وگر سمجھ لینا اس قوم اور اس امت پر یہودیوں کافروں مشرکوں کا مکمل ذہنی و جسمانی اور زمینی ہوچکا ھے اگر ایسا ھوا تو جان لیجئے اس امت کی بربادی لکھ دی گئی ھے اسی امت کی نافرمانی سرزشت اور شریعت سے دوری کے باعث پھر ایک طویل سزا اور تبدیلی نظام کے بعد ایمان والوں کو منصب پر رب فائز کریگا جو ان یہودیوں مشرکوں کافروں کو شکست فاش کرکے اسلام دینِ محمدی ﷺ کا سر بلند کریگا۔ اے مسلم امہ کے حکمرانو!! اس سے قبل تم تباہ ہوجاؤ فیصلے کی گھڑی آنپہنچی، بروقت فیصلہ کرلو وگرنہ رب العزت کا فیصلہ آنے میں دیر نہ ہوگی بعد چاہتے ہوئے بھی خود کو بچا نہ پاؤ گے یہ تمہاری عیاشیاں غرور و تکبر ضد اکڑ سب دھری کی دھری رہ جائیں گی۔ کراچی کے معروف جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے پاکستانی حکمرانوں اور سپہ سالاروں کو متنبہ جھنجھوڑتے اور بیدار کرتے ہوئے کہا ھے کہ تم امریکہ کی غلامی سے نکل آؤ اور حقیقت میں رسولِ خدا ﷺ کی اصل غلامی میں آجاؤ پھر دیکھنا کہ رب تمہیں اور اس وطن عزیز پاکستان کو دنیا و جہاں میں کس قدر بلند خوشحال ترقی یافتہ اور پر امن بناتا ھے بس تم سب بااختیاروں کو اپنے اپنے اعمال کو صالح کرنا ھوگا اور شریعت محمدی ﷺ پر مکمل گامزن رہنا ھوگا تب ہی تم دائمی کامیابی سے ہمکنار ہوگے انشاءاللہ۔۔۔۔!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں