10

ماں کی کوکھ سے مجرم پیدا نہیں ہوتے ، یہ حالات اور واقعات یا سماج ہوتا ہے جو ایک انسان کو مجرم بناتے ہیں

ماں کی کوکھ سے مجرم پیدا نہیں ہوتے ، یہ حالات اور واقعات یا سماج ہوتا ہے جو ایک انسان کو مجرم بناتے ہیں ۔۔۔۔۔۔شوہر کو ق۔ت۔ل کرکے دبا دینے کے 6 ماہ بعد قا۔تل بیوی کیسے پکڑی گئی ؟؟ لاہور کے علاقے باغبانپورہ کی آمنہ کی 16 سال کی عمر میں عثمان نامی ایک نوجوان سے شادی ہوئی جو کوئی کام نہیں کرتا تھا ، شرطیں لگاتا ،کبھی دیہاڑی لگ گئی کبھی نہ لگی ، جب تک آمنہ کی ساس زندہ تھی حالات بہتر تھے لیکن جونہی انکا انتقال ہوا عثمان نے بیوی کو جہیز نہ لانے کا طعنہ دے کر آئے روز ما۔رنا پیٹنا شروع کردیا ، کئی بار آمنہ کے والدین آکر اسے اپنے گھر لے گئے ، پھر عثمان آتا اور اسے منا کر لے جاتا لیکن اسکے طریقے وہی تھے ، ایک بار پتوکی میں ایک شادی میں آمنہ کی ملاقات ایک نوجوان حسن رضا سے ہو گئی یہ ملاقات جلد گہری دوستی میں بدل گئی ، آمنہ اپنے حالات سے تو تنگ تھی اس نے عثمان سے طلاق کا مطالبہ شروع کردیا مگر اس نے ہمیشہ انکار کیا ، عثمان کے والد کہتے اب طلاق ناممکن ہے وہ کبھی بہو کو پیار سے سمجھاتے اور کبھی ناراض ہوتے ، آمنہ نے کئی بار اپنی والدہ سے بات کی کہ میری ادھر سے جان چھڑا دو میں اس جہنم میں نہیں رہ سکتی ، یاد رہے کہ آمنہ اور عثمان کے دو بچے بھی ہو چکے تھے ، یہاں آمنہ اور حسن رضا کی دوستی زور پکڑنے لگی وہ جب بھی اسے فون کرتی گھنٹوں باتیں کرتی اور ہمیشہ کہتی کاش میں تمہاری بیوی ہوتی ۔۔۔ بار بار کوشش کے باوجود جب آمنہ طلاق لینے میں کامیاب نہ ہو سکی تو اس نے اپنے عاشق حسن رضا کو کہنا شروع کر دیا کہ اگر میرے شوہر کو راستے سے ہٹا دیا جائے تو ہم دونوں ایک ہو سکتے ہیں ۔۔۔۔ پھر یہ ہوا کہ ان دونوں نے پلان بنا لیا ، آمنہ عثمان کو کسی بہانے سے اپنے عاشق کے گھر لے گئی ، بہانہ یہ تھا کہ میری ایک دوست پتوکی میں رہتی ہے انکا آموں کا باغ ہے ، میں اس کو مل بھی لونگی اور آم بھی لے آئیں گے ، عثمان اسے بائیک پر لے کر لاہور سے پتوکی چلا گیا ، جہاں موت اسکے انتظار میں تھی ۔ موقع پاکر حسن رضا نے عثمان کو سر میں پیچھے سے گو۔لی ما۔ر دی اور دونوں نے ملکر چادروں میں لپیٹ کر اور بوری میں ڈال کر ایک سٹور میں چھپا دیا ، پھر حسن رضا آمنہ کو بائی پاس پر چھوڑ گیا جہاں سے وہ واپس لاہور آگئی ، عثمان کے والد کو بتایا کہ وہ کسی ضروری کام سے چلا گیا ہے آنے کا نہیں بتایا ، اسکے بعد آمنہ سکون سے اپنے کمرے میں چلی گئی اور بچوں کے پاس سو گئی ، ادھر پتوکی میں حسن رضا اپنے چچا زاد میٹرک کے طالبعلم علی کی مدد سے عثمان کی لا۔ش گھر کے پیچھے ایک پلاٹ میں دفن کر چکا تھا ۔دوسرے روز عثمان کے والد کو تشویش ہوئی تو انہوں نے اسکے سب دوستوں جاننے والوں اور اپنے رشتہ داروں کو پوچھ لیا مگر عثمان کا کچھ پتہ نہ چلا ، آخر انہوں نے آمنہ کو ساتھ لیا اور مغلپورہ تھانے جاکر عثمان کے آغ۔وا یا گمشدگی کی درخواست دے دی ، پولیس نے تفتیش گھر سے شروع کی مگر آمنہ نے اپنے اوپر کوئی بات نہ آنے دی ہر بار یہی کہا کہ اسے کچھ نہیں پتہ ، اسے گھر کے باہر اتار کر شوہر چلا گیا کہ میں تھوڑی دیر تک آتا ہوں ، وہ جوا کھیلتا تھا اس سے زیادہ مجھے نہیں پتہ ۔۔۔۔ خیر پہلے ہفتے گزرے اور پھر مہینے ،اس دوران آمنہ نے اپنے محبوب حسن رضا سے شادی کر لی اور پتوکی میں اسی گھر میں رہنے لگی جسکے پیچھے ایک پلاٹ میں اس کا سابقہ شوہر ایک گڑھے میں دفن تھا 6 ماہ کے عرصہ میں پولیس نے ہر پہلو سے تفتیش کی لیکن نہ جانے کیسے کال ریکارڈ یا مق۔تول اور اسکی بیوی کا موبائل ڈیٹا پر کسی کا شک نہیں گیا لیکن اس دوران یہ کیس اغ۔وا برائے تاوان کیسز کے انچارج ڈی ایس پی میاں انجم توقیر کے سپرد کیا گیا ۔ انہوں نے ایک بار آمنہ کو بلایا تو انہیں اسکی باتوں میں اور تاثرات میں کچھ مشکوک گزرا چنانچہ انہوں نے مختلف پہلوؤں سے اور ٹیکنکل طریقوں سے تفتیش کی ، آمنہ کو حراست میں لیا گیا اور تش۔دد کیے بغیر اس سے ایسے طریقے سے پوچھ گچھ کی کہ ملزمہ کا گلا سوکھ گیا اسکے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں، اسی روز آمنہ کے شوہر اور عاشق حسن رضا کو بھی شامل تفتیش کیا گیا تو اس نے چند گھنٹوں میں اپنے جرم کا اعتراف کر لیا نہ صرف اپنے گھر کے پچھواڑے سے مق۔تول کی لا۔ش برآمد کروا دی جو کہ انتہائی خراب حالت میں تھی بلکہ اپنے شریک جرم کزن علی کو بھی اسکے گھر سے گرفتار کروا دیا ، یون ایک ایک چھپا ہوا جرم بے نقاب کرکے کیس عدالت میں پیش کیا گیا اور مجرمان آمنہ ، حسن رضا اور علی کو جیل بھجوا دیا گیا ، اب یہ کیس انڈر ٹرائل ہے ۔۔۔۔ اس جرم کو بے نقاب اور کیس حل کرنیوالے ڈی ایس پی میاں انجم توقیر نے کہا کہ ماں کی کوکھ سے کوئی مجرم بن کر نہیں نکلتا ، پچ…

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں