10

امید اورناامیدی تحریر:اللہ نواز خان

امید اورناامیدی
تحریر:اللہ نواز خان
allahnawazk012@gmail.com
امیداورناامیدی
امید سے انسانوں کو ایسی قوت ملتی ہے جو آزمائشوں سے نکال دیتی ہے۔اگر ایک فرد امید کا دامن نہ چھوڑے تو یقینا اللہ تعالی اس کی امید کو پورا کر دیتے ہیں۔جہاں امید انسان کے لیے ایک بڑی قوت ہے،وہاں ناامیدی انسان کے لیے خطرناک ہے۔امید پرست انسان ہر حال میں مطمئن رہتا ہے،چاہے وہ کتنی مشکلات میں پھنس نہ جائے۔اس کے برعکس نا امید انسان معمولی سی تکلیف یا آزمائش پر سخت مشکلات میں پھنس جاتا ہے۔اللہ تعالی نے نا امیدی سے منع کیا ہے بلکہ خوشخبری سنائی ہوئی ہے کہ میری رحمت سے نا امید مت ہونا۔قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالی ہے” ہماری رحمت تمام چیزوں پر محیط ہے”(الاعراف۔156) قرآنی تعلیمات بتاتی ہیں کہ ناامید کسی صورت میں بھی نہ ہوا جائے بلکہ امید کا دامن تھاما جائے۔اس دنیا میں انسان مشکلات کا بھی شکار ہوتا ہے اور ان مشکلات سے نکلنے کے لیے جستجو بھی کرتا رہتا ہے۔بے شک آزمائشیں اور امتحانات اللہ کی طرف سےآتے ہیں تاکہ انسانوں کو آزمایا جائے۔بعض اوقات پریشانیاں انسان کےاپنے اعمال کا نتیجہ بھی ہوتی ہیں۔اللہ تعالی قرآن میں ارشاد فرماتے ہیں”اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انہیں ان کے کرتوت کی وجہ سے کوئی برائی پہنچے تو ایک دم وہ ناامید ہو جاتے ہیں”(الروم۔36) درج بالا آیت سے یہ درس ملتا ہے کہ انسان کو بعض اوقات اپنے اعمال کا نتیجہ بھگتنا پڑتا ہے اور اپنی غلطیوں کی وجہ سے پہنچنے والے نقصان یا پریشانی سے وہ ناامید ہو جاتا ہے۔حالانکہ جب اللہ تعالی کی رحمت سے اس کو آسانیاں ملتی ہیں تو وہ خوب خوش ہوتا ہے۔انسان کے لیے یہی بہتر ہے کہ جب اللہ کی نعمتیں اس کو حاصل ہو رہی ہوں تو اللہ تعالی کا شکر ادا کرے اور جب کوئی اللہ کی طرف سے آزمائش پہنچے تو صبر کرنے کے علاوہ اللہ تعالی سے بہتری کی امید رکھے۔اللہ تعالی سے بہتری کی امید رکھنے والا انسان ہمیشہ کامیاب رہتا ہے۔اگر کوئی اللہ تعالی سے نا امید ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ گمراہ ہو گیا ہے۔گمراہی کا مطلب ہے کہ انسان صراط مستقیم سے ہٹ گیا ہے۔ارشاد باری تعالی ہے”کہا اپنے رب کی رحمت سےناامید توصرف گمراہ لوگ ہوتے ہیں”(الحجر. 56) قرآنی تعلیم بتاتی ہے کہ صراط مستقیم پر چلنے والا فرد کبھی ناامید نہیں ہوتا۔نا امید وہ ہوتا ہے جو گمراہ ہو جاتا ہے۔
ہر شخص آزمایا جاتا ہے اور آزمائشوں کا شکار انسان نا امید بھی ہوتا رہتا ہے۔مستقل طور پر ناامید رہنا مستقل گمراہی ہے۔اس لیے اگر انسان نا امید ہو بھی جائے تو اللہ تعالی سے توبہ کرنی چاہیے اور اللہ کی رحمت سے امید رکھنی چاہیے کہ یہ پریشانیاں دور ہو جائیں گی۔ایک انسان اگر اچھی امید رکھتا ہے تو وہ کامیاب رہتا ہے۔انسان کی اچھی امید یا منفی امید کا اجر اللہ تعالی اس کی امید کے مطابق دیتا ہے۔ایک حدیث کے مطابق, حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا”اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں”(بخاری) بیان کی گئی اس حدیث سے علم ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالی سے اچھی امید یا اچھا گمان رکھا جائے تو اللہ تعالی اس کے مطابق ہی اس کو اجر دیتا ہے۔اسی طرح اگر ایک انسان ناامید ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کو اللہ پر یقین ہی نہیں۔اسلامی تعلیمات کے مطابق اگر پورےیقین سے دعا مانگی جائے تو اللہ تعالی اس کی دعا قبول کرتےہیں۔ایک حدیث کے مطابق”تم اللہ سے یقین کے ساتھ دعا مانگو کہ تمہاری دعا ضرور قبول ہوگی اور جان لو کہ اللہ تعالی بے پرواہ اور لاپرواہی میں مبتلا دل کی دعا قبول نہیں کرتا”(ترمذی) یعنی اللہ تعالی سے دعا مانگی جائے تو اس یقین کے ساتھ کہ اللہ تعالی ضرور پوری کریں گے تو لازمی طور پر اللہ تعالی اس کی دعا قبول کر دیتے ہیں.
امیدوالے انسان خوشگوار زندگی گزارتے ہیں،جبکہ ناامید انسان ہمیشہ پریشان رہتے ہیں۔امید سے محروم شخص خودکشی تک کر لیتا ہے،کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ میرے لیے تمام راستے ختم ہو گئے ہیں۔اسلام ہر انسان کو اچھی امید کا درس دیتا ہے تاکہ زندگی کےسفر کوآسانی سے گزاراجا سکے۔امید کا یہ مطلب بھی نہیں کہ انسان محنت اور کوشش سے بھی اجتناب برتنا شروع کردے،بلکہ محنت اور کوشش کر کے اللہ تعالی سے اچھائی کی امید رکھنی چاہیے۔نا امید انسان اندرونی طور پر ٹوٹ جاتا ہے،اس لیے بظاہر کامیاب بھی ہوتا ہے لیکن حقیقی طور پر وہ ناکام ہوتا ہے۔اللہ تعالی دعا کی بھی تلقین کرتے ہیں،کیونکہ دعا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دعا مانگنے والا اس امید کے ساتھ دعا کر رہا ہے کہ اللہ تعالی اس کی دعا ضرور قبول کرے گا۔دعا کی اہمیت بھی اچھی طرح واضح کر دی گئی ہے،کیونکہ دعا کا مطلب یہی ہے کہ اللہ تعالی سے امید کی جا رہی ہے کہ وہ ان مشکلات یا پریشانیوں کو ختم کر دیں گے۔ارشاد باری تعالی ہے” تم دعا کرو میں قبول کروں گا”(المومن.60)اللہ تعالی نے ایک اصول بھی بنا دیا ہے کہ اگر کوئی پریشانی یا مشکل آجائے تو ضرور اس کے بعد آسانی آئے گی۔قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالی ہے”بلا شبہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔بے شک ہر مشکل کے ساتھ اسانی ہے”(الم نشرح5-6) قران حکیم میں واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ مشکل کے بعد آسانی ہوگی۔اس لیے ایک مومن اچھی طرح سمجھتا ہے کہ جو آزمائش آئی ہوئی ہے،اس کو اللہ تعالی آسانی میں بدل دے گا۔ہمیں کسی صورت میں امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے،کیونکہ نا امید انسان اس دنیا میں بھی پریشان رہتا ہے اورآخرت میں بھی سزا بھگتے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں