تحریر: اللہ نواز خان
allahnawazk012@gmail.com
بھارت میں اقلیتوں پر مظالم میں اضافہ
بھارت میں اقلیتیں بالکل غیر محفوظ ہو چکی ہیں اور ایسا اس وقت سے شروع ہے جب ہندوستان آزادہوا۔اقلیتوں کو مذہبی آزادی بھی حاصل نہیں ہے اور دیگر مشکلات بھی پیش آتی رہتی ہیں۔مسلمانوں کو خصوصی نشانہ بنایا جاتا ہے،لیکن دیگر اقلیتیں بھی محفوظ نہیں۔نیچی ذات کے ہندو خود بھی محفوظ نہیں ہیں،بلکہ ان کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ہندوتوا کے فروغ کے لیے اقلیتیں اکثرو بیشتر نشانہ بنتی رہتی ہیں۔انتہا پسند ہندو حکومت مکمل طور پر ہندو انتہا پسند دہشت گردوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔ہندو ازم کے فروغ کے لیے جبری طور پر دوسروں کے مذاہب تبدیل کیے جا رہے ہیں۔مذہب تبدیل نہ کرنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مسلمانوں کو سخت نفرت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور بڑی مشکل سے وہ اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں۔کاروبار کے علاوہ ملازمتوں کےحصول میں بھی مشکلات پیش آتی رہتی ہیں۔انڈیا کا موجودہ وزیراعظم نریندرا مودی بھی اقلیتوں،خصوصا مسلمانوں کا سخت دشمن ہے۔یہ کہنا درست ہے کہ انڈین گورنمنٹ انتہا پسندوں کے نرغے میں آچکی ہے۔یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ ہندوستانی حکومت سیکولر ہے،لیکن عملی طور پر ایک انتہا پسند حکومت نظرآتی ہے۔مسلمانوں کو گائے کا گوشت کھانے سے روکا جاتا ہے،بعض اوقات صرف الزام لگا کر ہی مسلمانوں کو اس لیے قتل کر دیا جاتا ہے کہ وہ گائے کا گوشت کھا رہے ہیں۔نام نہاد سیکولر حکومت ایک مخصوص مذہب کو پروموٹ کر رہی ہے اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے لیے مشکلات بڑھائی جا رہی ہیں۔
اقلیتوں پر مظالم کچھ چھپے ہوئے نہیں ہیں بلکہ بین الاقوامی برادری اچھی طرح جانتی ہے کہ ہندوستان میں اقلیتوں کے ساتھ کیاسلوک ہو رہا ہے؟حال ہی میں امریکہ کے کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں ہندوؤں کے مظالم کواجاگر کیا گیا ہے۔کمیشن کے مطابق موجودہ سال کی ابتدا سے ہی بھارتی مسیحیوں پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے،خصوصا جب اوڑیسہ میں پادری کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔کمیشن کا مزید کہنا ہے کہ مذہب کی جبری تبدیلی کے الزامات پر اقلیتوں کو غیر قانونی حراست میں بھی رکھا جاتا ہے۔اتر پردیش میں گھر کے اندر عبادت کرنے والے 12 مسلمانوں کو حراست میں لیا جانا بھی اس کی بدترین مثال ہے۔2025 میں کرسمس کے موقع پر توڑ پھوڑ کی گئی اور مسلمانوں پر بھی تشدد کے واقعات ہوئے۔تشدد کےبہت سے واقعات ریکارڈ ہوجاتے ہیں،لیکن بہت سے واقعات ریکارڈ نہیں ہوتے۔نچلی ذات کے ہندو دلتوں کو بھی کافی مشکلات پیش آتی ہیں۔علاوہ ازیں دیگر مذاہب کے پیروکار بھی اکثر اوقات نشانہ بنتے رہتے ہیں۔
عبادت گاہوں کو توڑ دیا جاتا ہے نیز دیگر مقدس مقامات بھی گرا دیے جاتے ہیں۔مسلمانوں کے کئی مزارات بھی گرائے گئے ہیں۔بابری مسجد کو بھی انتہا پسند ہندوؤں نے شہید کر دیا تھا،بہانہ یہ بنایا گیا تھا کہ یہاں رام مندر تھا،حالانکہ یہ بالکل جھوٹا دعوی تھا،بابری مسجد کے علاوہ دیگر کئی مساجد کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے،حالانکہ انڈین آئین عبادت گاہوں کو تحفظ دیتا ہے،لیکن انتہا پسند حکومت بھی کچھ نہیں کرتی۔مسلمان آزادانہ طور پر اپنی عبادات نہیں کر سکتے،بلکہ دیگر مذاہب کے پیروکار بھی اپنی مذہبی آزادی برقرار رکھنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔جبری طور پر مذہب تبدیل کر دیا جاتا ہے اور اپنا مذہب نہ چھوڑنے والوں کو سخت قسم کی سزائیں دی جاتی ہیں۔انڈیا میں بڑھتی مذہبی انتہا پسندی کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کو سخت قسم کا نوٹس لینا ہوگا۔مسلمانوں کے علاوہ دیگر اقلیتوں کو بھی مذہبی آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کی اجازت دینے کے لیے انڈین گورنمنٹ کو پابند کرنا ہوگا،تاکہ ہر ایک کو مذہبی آزادی مل سکے۔
بھارت میں مذہبی انتہا پسندی بہت ہی بڑھی ہوئی ہے۔حال ہی میں اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بابری مسجد دوبارہ تعمیر نہیں ہونے دی جائے گی اور رام مندر کی تعمیر ان کے سیاسی وعدے کی تکمیل ہے۔اتر پردیش کے وزیر اعلی کا یہ بیان انتہا پسندی کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔اس بیان کے بعد کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔سعودی عرب سمیت دیگر اسلامی ریاستوں کی خاموشی بہت ہی افسوسناک ہے۔مذہبی آزادی ایک بنیادی حق ہے جس کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے لیکن اتر پردیش کےوزیراعلی کا بیان یہ ثابت کرتا ہے کہ وہاں آئین کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔آدتیہ ناتھ کابیان یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ انڈین گورنمنٹ خود انتہا پسندی میں ملوث ہو چکی ہے۔چرچ،مسجد یا کوئی بھی عبادت گاہ ہو،اس کا تحفظ ضروری ہے۔انڈیا میں انتہا پسندی اور تشدد کو روکنے کے لیے انڈین گورنمنٹ کو دباؤ کے ذریعے روکنا ہوگا۔حالانکہ مسلمانوں سمیت تمام اقلیتیں انڈیا میں آئین کی پاسداری کرتی ہیں،لیکن پھر بھی ان کو نشانہ بنا دیا جاتا ہے،جو کہ بہت ہی افسوسناک ہے.
فیصل آباد۔۔۔۔۔ اللہ تعالی کی مخلق کی خدمت کرنے کا موقع ملنا بڑی خوش قسمتی ھے۔روشنی ویلفیئر آرگنائزیشن کی
میلسی (بیو رو چیف )ضلعی دفتر بہبودِ آبادی وہاڑی کے زیر اہتمام میلسی میں ”تعلیمی فیملی پلاننگ میلہ”
میلسی (بیو رو چیف )مجلس احرار میلسی کے زیر اہتمام کل مورخہ15فروری کو 2پروگرام ہونگے پہلا
اس نے ہمارا ایک مارا ہے ہمیں انکے چار مار کر بھی سکون نہ ملے گا
عشق نے نوجوان لڑکی کو برباد کردیا